گلگت بلتستان میں یکم نومبر جشنِ آزادی کی تیاریاں ان دنوں جوش و خروش کے ساتھ عروج پر جاری ہیں۔ ابھی یکم نومبر کا دن آیا نہیں، مگر پورے خطے میں خوشی، محبت اور وطن دوستی کی فضا قائم ہے۔ گلگت سے لے کر خنجراب تک، سکردو سے استور، غذر اور دیامر تک ہر طرف جشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ بازاروں، گلیوں اور تعلیمی اداروں میں رونق بڑھ گئی ہے، ہر چہرے پر مسکراہٹ اور ہر دل میں وطن سے وفا کا جذبہ موجزن ہے۔ اس بار بھی جشنِ آزادی کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لیے سرکاری و نجی سطح پر بھرپور انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس دن کو قومی وقار، تاریخ اور قومی یکجہتی کے جذبے کے ساتھ منایا جا سکے۔گلگت شہر کے آرمی ہیلی پیڈ میں مرکزی تقریب کی تیاریاں پورے زور و شور سے جاری ہیں۔ مختلف اسکولوں کے طلباء و طالبات ملی نغموں، تقاریر، مشاعروں اور خوبصورت ٹیبلو کی ریہرسل میں مصروف ہیں۔ ان بچوں کی تیاری دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کی نئی نسل اپنے ہیروز اور آزادی کی جدوجہد سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ وطن سے محبت اور قربانی کا پیغام ان کے جذبے میں جھلکتا ہے۔ ان تقریبات کا مقصد صرف خوشی منانا نہیں بلکہ تاریخ کے اس سنہری باب کو زندہ رکھنا ہے جس میں 1947ء کے بہادر سپوتوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر کے آزادی حاصل کی۔گلگت بلتستان کی آزادی کی داستان برصغیر کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ جب برصغیر میں تقسیم کے بعد افراتفری اور غیر یقینی کی کیفیت تھی، اُس وقت گلگت کے عوام نے غیر معمولی جرات اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ کیپٹن حسن خان، بابر خان، راجہ بہادر، صمد خان اور دیگر مجاہدینِ آزادی نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر اس خطے کو ڈوگرہ فوج کے تسلط سے آزاد کرایا۔ یہی وجہ ہے کہ یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کے عوام کے لیے صرف ایک جشن نہیں بلکہ عزت، غیرت اور خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔اس سال بھی حکومتِ گلگت بلتستان نے جشنِ آزادی کو یادگار بنانے کے لیے مختلف اضلاع میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور سڑکوں پر قومی پرچم لہرا رہے ہیں۔ چراغاں کی تیاریوں نے شہروں کو ایک نئی رونق بخشی ہے۔ نوجوان رضاکار وال پینٹنگز، فلیکسز اور جھنڈیوں سے اپنے شہروں کو سجا رہے ہیں۔ میڈیا ہاؤسز خصوصی پروگرامز، انٹرویوز اور تاریخی دستاویزی رپورٹس نشر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ آزادی کے اس دن کی تاریخی اہمیت عوام تک مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکے۔یہ خوش آئند بات ہے کہ نوجوان نسل اس دن کے حقیقی مفہوم کو سمجھ رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں تقریری مقابلے، ملی نغمے، مضمون نویسی، اور ثقافتی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد نئی نسل کو اپنی تاریخ اور ورثے سے آگاہ کرنا ہے۔ ان سرگرمیوں سے طلباء میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی کسی ایک دن کا تحفہ نہیں بلکہ طویل جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ یکم نومبر کی تیاریوں میں بھی یہ محبت اور خلوص صاف نظر آتا ہے۔ جشنِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم کے ساتھ پاکستان کے پرچم کو بھی یکساں احترام سے بلند کیا جاتا ہے، جو گلگت بلتستان کے عوام کی پاکستان سے جذباتی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ادھر محکمہ اطلاعات، سیاحت، تعلیم اور ثقافت کے محکمے بھی اپنی سطح پر تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جشن کے موقع پر ثقافتی نمائشیں، موسیقی کے پروگرامز، ہنرمندی کے مقابلے اور مقامی کھانوں کے اسٹالز لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ گلگت بلتستان کی ثقافت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہوں گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیں گی۔تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ جشن کے ساتھ ساتھ ہم اپنے فرائض کو نہ بھولیں۔ آزادی کی حقیقی قدر تب ہے جب ہم اپنی مٹی، اپنے اداروں اور اپنے سماج کے لیے ایمانداری سے کام کریں۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی فراہمی وہ شعبے ہیں جنہیں بہتر بنانا آزادی کے اصل تقاضوں میں شامل ہے۔ جشنِ آزادی کی تیاریوں کے ساتھ ہمیں یہ عزم بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے خطے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔آخر میں یہی کہنا بجا ہوگا کہ یکم نومبر کی تیاریاں محض ایک جشن کی تیاری نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہیں — وہ عہد جو ہمارے بزرگوں نے قربانیوں سے حاصل کیا اور جو آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کا جوش، ولولہ اور اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ آزادی کی یہ روشنی ہمیشہ فروزاں رہے گی یہ تیاری دراصل اس عہد کی علامت ہے کہ ہم اپنی آزادی کے محافظ ہیں، اور اپنی سرزمین سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔