اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر وزارت آبی وسائل میں منعقد ہونے والے بین الصوبائی مکالمے میں شرکاء نے متفقہ طور پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔اجلاس کا انعقاد وزارت آبی وسائل پاکستان میں کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے کی۔ اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان یار محمد، پنجاب کے وزیر آبپاشی کاظم علی پیرزادہ، سندھ کے وزیر آبپاشی و منصوبہ بندی جام خان شورو، بلوچستان کے وزیر منصوبہ بندی و ترقی ظہور احمد بلیدی، سیکرٹری آبپاشی خیبرپختونخوا (وزیراعلیٰ کی نمائندگی میں) سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔بھارتی اقدام کی سخت مذمت اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ شرکاء نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی خطرناک ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی، سفارتی اور تکنیکی اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کو عالمی سطح پر چیلنج کیا جائے گا۔پانی کی دستیابی یقینی بنانے پر غورمکالمے کے دوران مغربی دریاؤں پر پانی کی طویل اور قلیل مدتی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے ملک میں پانی کے مؤثر استعمال، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیااجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وفاق اور صوبے مل کر ایسی پالیسیوں پر عمل کریں گے جن کے ذریعے ملک کے تمام علاقوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔قومی یکجہتی کا اظہارشرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ اور عوام کو پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے تمام صوبے اور وفاق متحد ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں قومی یکجہتی اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے تاکہ کسی بھی بیرونی دباؤ یا یکطرفہ اقدام کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اپنے آبی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر بھرپور اقدامات جاری رکھے گا اور بین الاقوامی فورمز پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گا۔