گلگت بلتستان کی سرزمین نہ صرف قدرتی حسن سے مالا مال ہے بلکہ یہاں کے عوام،بالخصوص خواتین، بے پناہ صلاحیتوں کی حامل ہیں۔ دادی جواری پارک میں ویمن چیمبر آف کامرس ڈسٹرکٹ گلگت کی جانب سے جشنِ آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر منعقد ہونے والا خواتین کے لی میلہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر خواتین کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی محنت، ہنر اور عزم سے معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس میلے نے جہاں آزادی کی خوشیوں کو دوچند کیا، وہیں مقامی ثقافت، روایات اور دستکاریوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو خود کفالت کی جانب عملی راستہ دکھایا۔میلے میں صوبائی وزیرثریا زمان کی بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت نہ صرف حکومتی سطح پر خواتین کی حوصلہ افزائی کی علامت ہے بلکہ یہ اس امر کا اظہار بھی ہے کہ صوبائی حکومت خواتین کی معاشی خودمختاری کو اہمیت دے رہی ہے۔ وزیرنے واضح کیا کہ حکومت خواتین کو کاروباری سہولیات، تربیت اور مالی معاونت کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اب خواتین کو صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں سمجھا جا رہا بلکہ ان کی معاشی شمولیت کو ترقی کے عمل کا لازمی جزو تصور کیا جا رہا ہے۔ویمن چیمبر آف کامرس کی صدر نے اس موقع پر جو وژن پیش کیاوہ گلگت بلتستان کی خواتین کے لیے ایک نئی راہ متعین کرتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ “خواتین کے لیے میلہ کا مقصد نہ صرف جشنِ آزادی منانا تھا بلکہ خواتین کو مقامی سطح پر کاروباری پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب خواتین صرف ثقافتی سرگرمیوں میں نہیں بلکہ عملی اقتصادی میدان میں بھی قدم جما رہی ہیں۔ اس طرح کے میلوں کے ذریعے خواتین کو اپنے ہنر کی تشہیر کا موقع ملتا ہے، وہ اپنی مصنوعات کو مارکیٹ میں متعارف کرواتی ہیں، اور انہیں کاروباری سوچ اپنانے کی ترغیب ملتی ہے۔ یہ اقدام خواتین کی صلاحیتوں کو ملکی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کا قابلِ تحسین قدم ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گلگت بلتستان جیسے پہاڑی اور دور افتادہ علاقوں میں خواتین کو تعلیم، کاروبار اور روزگار کے مواقع تک رسائی میں کئی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔ ان چیلنجز میں محدود وسائل، سماجی روایات، اور مارکیٹ تک عدم رسائی جیسے مسائل شامل ہیں۔ مگر خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں خواتین کے سماجی و معاشی کردار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔خواتین چیمبرز، ہنر مندی کے مراکز، اور کاروباری تربیتی پروگراموں کے ذریعے نہ صرف انہیں اعتماد ملا ہے بلکہ ان کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت بھی بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں ویمن چیمبر آف کامرس جیسے اداروں کا کردار کلیدی ہے، جو خواتین کو تنظیمی سطح پر پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی آواز بلند کر سکیں اور مشترکہ کوششوں سے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں ادارہ جاتی سطح پر یہ ضروری ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر خواتین کے کاروباری منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے مالی و تکنیکی معاونت کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔مائیکرو فنانس اسکیمیں،کاروباری تربیت، اور مارکیٹ ایکسیس پروگراموں کا دائرہ وسیع کیا حق جانا چاہیے تاکہ دور دراز علاقوں کی خواتین بھی ان مواقع سے مستفید ہو سکیں اس کے ساتھ ساتھ، مقامی میڈیا کو بھی خواتین کی ان کامیابیوں کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں ان کے کردار کی اہمیت مزید اجاگر ہو۔خواتین کا معاشی استحکام کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ وہ صرف گھر کی معیشت نہیں سنبھالتیں بلکہ جب انہیں مواقع دیے جائیں تو وہ پورے معاشی نظام کو مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ جشنِ آزادی کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ میلہ اس بات کی علامت ہے کہ حقیقی آزادی صرف سیاسی یا جغرافیائی خودمختاری نہیں بلکہ سماجی و معاشی خود انحصاری بھی ہے۔ جب خواتین اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں گی، تو نہ صرف ان کے گھر بلکہ پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے اقدامات کو وقتی یا نمائشی سرگرمیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائےویمن چیمبر آف کامرس گلگت کا یہ اقدام یقیناً ایک مثبت آغاز ہے، مگر حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب ہر شعبہ زندگی میں خواتین کو برابری کی بنیاد پر مواقع حاصل ہوں اور ان کی محنت کا ثمر انہیں وہی عزت و مقام دے جو ایک ترقی یافتہ اور باشعور قوم کی پہچان ہے۔