یہ وقت ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ بعض اوقات ہم سب دباؤ، الجھن، مایوسی، اُداسی، تناؤ، غصے اور چڑچڑاہٹ جیسی کیفیات سے گزرتے ہیں۔
ہماری مصروف اور ہنگامہ خیز زندگیوں میں یہ کیفیت اب کوئی انوکھی بات نہیں رہی۔
رابطے بڑھنے کے باوجود تنہائی،اج کا انسان ہر لمحہ کسی نہ کسی ڈیجیٹل دنیا میں مصروف ہے۔
فوری پیغامات، سوشل نیٹ ورکس اور الگورتھم کے ذریعے معلومات کا مسلسل بہاؤ یہ سب ہمیں بظاہر ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، مگرحقیقت میں ہم پہلے سے زیادہ تنہا ہو چکے ہیں۔
سوشل میڈیا نے انسان کو ایسا جال دے دیا ہے جس میں تعلقات تو بے شمار ہیں مگر تعلق کی گرمی ناپید ہے۔
کلب، پارک، اور سینما جیسی جگہیں جہاں کبھی لوگ ہنستے، باتیں کرتے اور جیتے تھے،
اب خاموشی سے بند ہو رہی ہیں۔
ان کی جگہ ایپس، گیمز، اور OTT پلیٹ فارمز نے لے لی ہے۔
مگر انسان کی ایک فطری ضرورت — قربت اور لمس — اب بھی پوری نہیں ہو پاتی۔
افسر ہو یا کھلاڑی، ٹک ٹاکر ہو یا اداکار —
ہر چمکدار چہرے کے پیچھے ایک انسان ہے،
جو محبت، توجہ اور سمجھ کی تلاش میں ہے۔
یہ خالی پن جب شدت اختیار کرتا ہے تو
اس کا اظہار نشے، بے مقصد تفریحات، وقتی لذتوں یا خود کو بہلانے والے عملوں کی صورت میں ہوتا ہے۔
مگر یہ سب وقتی سکون ہیں — اندر کا اضطراب برقرار رہتا ہے۔
ہم ایک دوسرے کا خیال کیسے رکھیں؟
ہم کیسے جانیں کہ جو شخص بظاہر ہنستا ہے،
وہ اندر سے ٹوٹا ہوا ہے؟
ہم کیسے پہچانیں کہ جو روز خوبصورت پوسٹس شیئر کرتا ہے،
وہ دراصل تنہائی میں ڈوبا ہوا ہے؟
مجھے ان سوالوں کے جوابات نہیں معلوم،
مگر میں ان پر روز سوچتا ہوں۔
کبھی صرف ساتھ ہونا کافی ہوتا ہے
میں کوئی ماہرِ نفسیات نہیں،
لیکن میرا یقین ہے کہ اگر ہم کسی ایسے شخص کے ساتھ بس موجود رہیں
جو اداسی، غصے یا تنہائی سے گزر رہا ہو،تو یہ بھی ایک بڑی مدد ہے۔
مشورے دینے کے بجائے،اگر ہم خاموشی سے سن لیں، ایک کال کر لیں، ایک ملاقات کر لیں یا ایک چھوٹا سا تحفہ دے دیں،تو یہ کسی اداس دل کے لیے روشنی کی کرن بن سکتا ہے۔
یہ بات بظاہر معمولی لگتی ہے،مگر کسی ایسے انسان کے لیے جو اندر سے خالی اور تھکا ہوا ہے،یہ چھوٹی سی توجہ —
زندگی بدلنے والی ہو سکتی ہے۔