78 برس کی خاموش وفاداری اور جواب طلب سوالات

گلگت بلتستان پاکستان کی شمالی سرزمین برف پوش پہاڑوں، بہتے دریاؤں اور بہادر انسانوں کی وادی ہے۔یہ وہ خطہ ہے جس نے یکم نومبر 1947 کو اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی اور بنا کسی شرط کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا۔یہ فیصلہ کسی دباؤ یا مفاد کے تحت نہیں بلکہ محبت اور عقیدت سے کیا گیا تھا۔
لیکن آج آزادی کے 78 برس بعد بھی گلگت بلتستان کے عوام ایک سوال لیے کھڑے ہیں آخر وہ مکمل پاکستانی کیوں نہیں بن سکے؟
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ جس کی آئینی حیثیت کا تعلق کشمیر مسئلے کے حل سے جوڑا گیا۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب دنیا اس علاقے کی حیثیت پر بحث کرتی ہے۔ تب یہی خطہ پاکستان کے دفاع کی پہلی صف میں نظر آتا ہے۔
گلگت بلتستان کے بہادر سپوت سرد ترین محاذوں پر مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔اگر یہ علاقہ متنازعہ ہے تو پھر ان کی شہادتیں کس کے دفاع میں لکھی جا رہی ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جو ہر باشعور پاکستانی کے دل میں اٹھنا چاہیے۔گلگت بلتستان کے عوام نے وفاداری کی انتہا کر دی۔وفا کے بدلے میں کبھی حقِ نمائندگی مانگا کبھی آئینی شناخت، کبھی وسائل پر حقِ ملکیت۔مگر افسوس کہ آج بھی نہ تو اس خطے کو آئینی صوبے کا درجہ دیا گیا اور نہ ہی اقوامِ متحدہ کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی ایسا انتظام کیا گیا جس سے عوام کی محرومی کم ہو۔ایسا لگتا ہے جیسے اس خطے کو صرف جغرافیے کے طور پر تسلیم کیا گیا انسانوں کے خطے کے طور پر نہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستِ پاکستان انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی ضمیر اس خطے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں۔یہاں کے لوگ صرف زمین کا حصہ نہیں یہ پاکستان کے وہ فرزند ہیں جنہوں نے ہر موقع پر وطن کا دفاع اپنی جان سے زیادہ عزیز جانا۔اگر ریاستی پالیسیوں میں کچھ تبدیلی ممکن نہیں تو کم از کم اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جائے تاکہ مقامی آبادی کے بنیادی حقوق محفوظ رہ سکیں۔اسی طرح متنازع علاقے کی حیثیت کے مطابق تمام سبسڈیز جنہیں ماضی میں عوامی فلاح کے لیے دیا جاتا رہا دوبارہ بحال کی جائیں تاکہ زندگی کی مشکلات کم ہوں۔اگر ان جائز مطالبات پر غور نہیں کیا گیا تو یقیناً احساسِ محرومی بڑھتا جائے گا۔اور جب احساسِ محرومی بڑھتا ہے تو سوالات جنم لیتے ہیں۔
اور یہ سوالات کسی ریاست کے لیے خطرہ نہیں ۔ بلکہ اصلاح اور انصاف کی ضرورت کا اشارہ ہوتے ہیں۔
پاکستان اور گلگت بلتستان کے درمیان رشتہ محبت، قربانی اور اعتماد کا ہے۔اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ
ریاست اس خطے کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ان کے مسائل کو حل کرے۔اور ایک ایسا آئینی راستہ نکالے جو نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہو بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کا بھی ترجمان ہو۔
وفاداری کو اگر انعام نہیں تو کم از کم شناخت تو ملنی چاہیے۔
78 برس کی خاموشی کے بعد اب وقت ہے کہ یہ سوالات جواب پائیں
محبت، انصاف، اور آئین کے دائرے میں۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ ریاستِ پاکستان اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ ملک کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
اب ان قربانیوں کا اعتراف صرف لفظوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہونا چاہیے۔اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو قانونی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ مقامی شناخت محفوظ رہے۔متنازعہ علاقے کے تمام سبسڈیز بحال کی جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔اور اگر ان پہلوؤں پر غور نہیں کیا گیا تو یقیناً احساسِ محرومی بڑھے گا اور اس کے ساتھ سوالات بھی جنم لیں گے۔لہٰذا، اس خطے کی تاریخی قربانیوں اور وفاداریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی ایسا آئینی اور انتظامی حل نکالا جائے جو پاکستان اور گلگت بلتستان دونوں کے مفاد میں ہو۔پاکستان اور گلگت بلتستان کا رشتہ محبت، قربانی اور اعتماد کا ہے اس رشتے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے۔
وفاداری کا سب سے بڑا انعام انصاف اور شناخت ہے۔اور یہی وقت ہے کہ اس انعام کو حقیقت میں بدلا جائے۔
اگر ان پہلوؤں پر غور نہیں کیا گیا تو علاقے میں احساسِ محرومی بڑھے گااور محرومی ہمیشہ سوالات کو جنم دیتی ہے
عوام کے سوالات
1. جب ہم نے 1947 میں اپنی زمین خود آزاد کی تو آج تک ہمیں آئینی شناخت کیوں نہیں دی گئی؟
2. جب ہم پاکستان کے پرچم تلے وفادار ہیں۔تو ہمیں آئین میں جگہ کیوں نہیں ملتی؟
3. جب ہمارے وسائل سے پورا ملک فائدہ اٹھاتا ہے تو ہماری ترقی کا حق کہاں ہے؟
4. اگر اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ علاقہ متنازعہ ہے تو ہمارے شہید بیٹے کس کے دفاع میں جان دے رہے ہیں؟
5. کیا وفاداری جرم ہے؟ کیا حب الوطنی کا انعام محرومی ہونا چاہیے؟
گلگت بلتستان کے عوام اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ریاست ان کی قربانیوں کو یاد رکھے گی اور ایک ایسا آئینی و انتظامی حل نکالے گی جو پاکستان اور گلگت بلتستان دونوں کے مفاد میں ہو۔
وفاداری کو اگر انعام نہیں تو کم از کم شناخت تو ضرور ملنی چاہیے۔
78 برس کی خاموشی کے بعد اب وقت ہے کہ یہ سوالات جواب پائیں
محبت، انصاف، اور آئین کے دائرے میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں