اسلام آباد(ملک فرخ عباس سے)حکومتِ پاکستان اور گلگت بلتستان کونسل کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق وزیر اعظم پاکستان، جو کہ گلگت بلتستان کونسل کے چیئرمین بھی ہیں، نے جسٹس (ر) یار محمد کو گلگت بلتستان کا نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48-A(2) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔نوٹیفیکیشن کے مطابق نئے نامزد نگراں وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل گورنمنٹ آف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کی فرسٹ شیڈول میں دیے گئے متن کے مطابق حلف اٹھائیں گے۔جسٹس (ر) یار محمد گلگت بلتستان کی عدلیہ کے سینئر اور انتہائی معزز ججز میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف عدالتی نظام کی باریکیوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں بلکہ آئینی و قانونی معاملات میں بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اپنے دورِ ملازمت کے دوران انہوں نے متعدد اہم نوعیت کے مقدمات کی سربراہی کی اور انصاف کی فراہمی میں دیانت داری، قانون پسندی اور غیر جانب داری کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ مختلف قومی اور علاقائی پالیسی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتے رہے، جبکہ انتظامی امور، سماجی انصاف اور اچھی طرزِ حکمرانی کے حوالے سے ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ انہیں ایک معتدل، معاملہ فہم اور اصول پسند شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر غیر جانب دار رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں نگران وزیر اعلیٰ کے لیے موزوں ترین امیدوار قرار دیا گیا۔ حکومتی و عوامی حلقے توقع کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات کے لیے شفاف، غیر جانبدار اور پُرامن ماحول کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گے۔نگراں وزیر اعلیٰ کی تقرری کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں نگران سیٹ اپ کا قیام مکمل ہو چکا ہے، اور انتظامی امور کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔