معدنی وسائل پر تحقیق سے خطے کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے،محکمہ معدنیات جی بی

گلگت:محکمہ معدنیات گلگت بلتستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق خطے کے مختلف اضلاع میں تانبے، گرینائٹ اور ماربل کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن کا مجموعی رقبہ 2060.06 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گلگت ضلع معدنی وسائل کے لحاظ سے سرفہرست ہے، جہاں 522.56 مربع کلومیٹر رقبے پر یہ قیمتی ذخائر موجود ہیں۔ غذر 478.21 مربع کلومیٹر کے ساتھ دوسرے، استور 189.07 مربع کلومیٹر کے ساتھ تیسرے، اور نگر 199.53 مربع کلومیٹر کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔تانبے کے ذخائر کے لحاظ سے غذر 287.28 مربع کلومیٹر کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ گلگت میں 259.7 مربع کلومیٹر اور استور میں 159.83 مربع کلومیٹر رقبے پر تانبے کے اہم ذخائر پائے گئے ہیں۔ گرینائٹ کے حوالے سے گلگت (205.93 مربع کلومیٹر) اور غذر (119.67 مربع کلومیٹر) نمایاں اضلاع قرار دیے گئے ہیں۔ماربل کے ذخائر میں نگر 113.42 مربع کلومیٹر کے ساتھ سرفہرست، غذر 71.26 مربع کلومیٹر اور سکردو 70.46 مربع کلومیٹر کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ محکمہ معدنیات کے مطابق خطے میں ان معدنی وسائل کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں کے ذخائر بھی موجود ہیں جن پر تحقیق اور سرمایہ کاری سے خطے کی معیشت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں