گرین ٹوررزم لیز سکینڈل’ کے حوالے سے گلگت بلتستان کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد

گلگت(س ر) سابق وزیراعلی خالد خورشید کی زیر صدارت ‘گرین ٹوررزم لیز سکینڈل’ کے حوالے سے گلگت بلتستان کا اہم مشاورتی اجلاس سابق سینیئر وزراء کرنل(ر) عبیداللہ بیگ اور راجہ زکریا مقپون و پی ٹی آئی کے دیگر سیننرہنماء شریک ریسٹ ہاؤسز کے خسارے کی آڑ میں گلگت بلتستان کے 44 سیاحتی مقامات اور 4400 کنال زمین اونے پونے دام گرین ٹوررزم نامی ایک نوزائندہ کمپنی کے حوالے کردی گئی ہے۔ 4199 کنال جنگلات کی وہ زمین ہے جس پر کوئی عمارت سرے سے موجود ہی نہیں۔اجلاس میں شرکاء کو اہم بریفںگ گرین ٹوررزم کی آڑ میں گلگت بلتستان کی انتہائی قیمتی زمینوں پر قبضے یعنی “بلیک ٹورزم” کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ کالا معاہدہ فوری منسوخ کیا جائے۔ بصورت دیگر کٹھ پتلی صوبائی حکومت عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہےپی ٹی آئی گلگت بلتستان کا فیصلہ ائندہ دنوں میں اہم قانون مشاورت کے بعد گرین ٹوررزم کمپنی معاہدے کے خلاف گلگت بلتستان کی عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا۔پی ٹی آئی گلگت بلتستان مشاورتی اجلاس میں اہم ترین فیصلہ اجلاس میں شرکاء نے گرین ٹوررزم کمپنی کے ساتھ کٹھ صوبائی حکومت کے لیز معاہدے کو گلگت بلتستان کی قیمتی زمین اور اثاثوں پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت نے عوام کے مفادات کے تحفظ کے بجائے گلگت بلتستان کی زمینوں پر قبضے کی مذموم کوشش میں شرمناک سہولت کاری کی۔ چند ماہ کے اقتدار، نوکری و مراعات کے لئے کٹھ پتلی حکومت میں موجود لوٹوں، ن لیگی و پی پی پی ممبران و سرکاری اہلکاروں نے بدترین ضمیر فروشی کی۔ عوام گلگت بلتستان ان مکروہ چہہروں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ ان کا کڑا احتساب کریگی اجلاس میں کٹھ پتلی حکومت صوبائی سے دو ٹوک مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور کالے گرین ٹورزم معاہدے کو منسوخ کرے اجلاس میں کہا گیا کہ گزشتہ سال پی ٹی آئی کی منتخب عوامی حکومت گراکر جی بی اسمبلی پر قبضے کے زریعے گلگت بلتستان پر کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنے کے گہناونے مقاصد پورے کئے جارہے ہیں۔ کٹھ پتلی صوبائی حکومت اب تک خفیہ معاہدہ عوام کے سامنے پیش کرنے سے فراری ہے۔ کٹھ پتلی حکومت گرین ٹوررزم کمپنی کے اصل مالکوں کا نام لینے کی سکت نہیں رکھتی کل کو یہ 4400 کنال زمین و قیمیت سیاحتی مقامات کیسے واپس لے گی۔ اس موقع پر سابق وزیراعلی خالد خورشید نے کہا کہ بانی چیرمین عمران خان نے 3 سالہ پہلے ہی گلگت بلتستان کے عوام کو خبردار کیا تھا کہ آپ کی زمین انتہائی قیمتی اور محدود ہے اس کا تحفظ کریں۔ پی ٹی آئی گلگت بلتستان سیاحتتی سرمایہ کی آڑ میں زمینوں پر قبضے کی کوشش کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اس میں شامل ہر تمام سہولت کاروں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ حکومت فوری گرین ٹوررزم کمپنی لیز معاہدہ منسوخ کرے۔ آئندی دنوں میں اہم قانونی مشاورت کے بعد معاہدے کے خلاف گلگت بلتستان کی عدالت سے رجوع کریں گے۔ سابق وزیراعلی خالد خورشید نے پی ٹی آئی کو ہدایت دی کہ گرین ٹوررزم کمپنی سکینڈل کے حوالے سے اپنے اپنے اضلاع میں عوام سے فوری راپطہ شروع کریں اور اس کے خوفناک حقائق عوام تک پہنچائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں