گلگت(نمائندہ خصوصی)نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمدنے محکمہ زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز کی جانب سے دیئے جانے والے محکمانہ بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ گلگت بلتستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ شہری علاقوں کے علاوہ بیشتر آبادی کی معیشت کا انحصار زراعت اور لائیو سٹاک پر ہے۔ گلگت بلتستان کوان شعبوں میں خود کفیل بنانے کی ضرورت ہے جس کیلئے محکمے میں جدید خطوط پر اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ زرعی اور لائیوسٹاک کے شعبے میں روایتی طریقہ کار کے بجائے ہمیں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر توجہ دینی چاہئے جس سے ہمارے زمینداروں کو فائدہ ہو اور ان کی معیشت میں بہتری آئے۔ گلگت بلتستان میں پھلوں کی پیداوار میں اضافے اور پھلوں کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے پروسسنگ یونٹس تعمیر کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ مقامی سطح پر نرسریز کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ زمینداروں کو ملک کے دیگر علاقوں سے درخت لانے کی ضرورت نہ ہو۔ ای ٹی آئی کے تحت زمینوں کی آباد کاری ایک اچھا اقدام ہے اس سے زرعی زمین میں اضافہ اور زرعی شعبے میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ ہمیں زرعی اور ڈیری کے شعبے میں خود کفیل گلگت بلتستان بنانے پر توجہ دینی چاہئے جس کیلئے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا اور محکمے کو عام عوام تک ٹیکنیکل سپورٹ دینے کی ضرورت ہے۔ شہری علاقوں میں بھی کچن گارڈننگ کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے۔ گلگت بلتستان میں زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبے کو بہتر بناکر عوام کی زندگیوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انوارنمٹل پروٹیکشن ایجنسی (EPA) کو ہدایت کی جائے گی کہ آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں این او سی جاری کرتے ہوئے قدرتی ماحول متاثر نہ ہونے کو یقینی بنائے۔ گلگت بلتستان میں پائیدار ترقی کو حقیقی معنوں میں عملی جامہ پہنانے کیلئے بہتر منصوبہ بندی اور پالیسز کا تسلسل لازمی ہے۔ ناقص منصوبہ بندی اور پالیسز کے نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کا نقصان ہوتا ہے اور علاقے کی تعمیر و ترقی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے جس سے عام عوام کے مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ محکمہ زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز پبلک سروس کا محکمہ ہے لیکن مقامی کسانوں اور زمینداروں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس محکمے کی افادیت میں کمی آئی ہے۔ محکمے میں اصلاحات متعارف کرانے اور مقامی کمیونٹی تک رسائی اور ان کو ٹیکنیکل سپورٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ وسائل کا صحیح معنوں میں استعمال کو یقینی بنایا جائے۔