گلبر امجد کے گٹھ جوڑ نے گلگت بلتستان جو نقصان کیا 50 سال میں ریکور نہیں ہوگا،ن لیگ

گلگت(نیوز رپورٹر)آپ نے اے جے کے کو فیس کیا اور اس اے جے کے میں ان کے 30 پوائنٹ تھے تو اپ نے پھر وہاں پر 42 پوائنٹ ان کے مانے تھے تو کل کل گلگت بلتستان کے اندر اپ کو سو ماننا پڑے گا تو ایسا نہ ہو کہ کل آپ کو جو ہے معاملات یہ کیئر ٹیکر کے معاملات کی وجہ سے یہ ساری محرومیاں جتنی ہیں ساری مایوسیت جتنی ہیں یہ باہر نکلیں گی اور پھر ایسا نہ ہو کہ اپ کو سو پیاز بھی کھانے پڑے اور سو جوتے بھی کھانے پڑے ملی بھگت اپ لوگوں کی ہوئی ہے نا پیپلز پارٹی اور اپ کی امجد صاحب اور اپ کی وہ گلگت بلتستان کو جو آپ نے نقصان دیا ہے نا اس پانچ سال میں ڈھائی سال میں وہ ائندہ 50 سال تک اس کو اپ ریکور نہیں کر سکتے کہ 2020 میں جس طریقے سے جو ایک میگا میں نے اورنگ ہوئی جو جس طریقے سے کچھ لوگوں کو یہاں مسلط کیا گیا جو سیاسی لوگ نہیں تھے انہیں سیاسی لوگ بنا کر سیاسی جماعت بنا کر گلگت بلتستان کے اوپر مسلط کیا گیا مر کو ایک موقع ملا تھا ایک سنہری موقع دیا تھا اور یہ موقع بھی پی ایم ایل این نے دیا تھا اپ کو قیامر کو کہ جی اب وہاں کا چیپ منسٹر اگر لا رہے ہیں تو یہ چیف منسٹر چلے کچھ نہیں گلگت بلتستان کے لیے کچھ 19 کرے گا تو دیامر کے لیے 20 کرے گا لیکن دیامر کی صورتحال اج کیا ہے اپ کے سامنے ہے 80 80 سال کے لوگوں کو لا کر وہ وزیر بنا رہے ہیں تاہانگیر سے 80 80 سال کے لوگوں کو انپڑ ہیں بزرگ ہیں ان کو وزیر بنا رہے ہیں دیامر کی 60 70 ہزار کی ابادی میں ان کو کوئی نوجوان نہیں ملتا وہاں پر کوئی پڑھا لکھا نوجوان نہیں ملتا وہاں پر کوئی اچھا ادمی اور کوئی اس اس کوئی پالیسی میکر نہیں ملتا ان کو تو وہاں پر تانگیر میں کہ جس کے لیے وہ سفارش کریں گے اس کو وزیر بنا دیں اپ وہاں پر ان لوگوں کو وزیر بنایا جا رہا ہے کہ جو جنہیں بیچاروں کو خود ہی جو ہے نا یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ وزیر بنیں گے تو کریں گے کیا اپ ان لوگوں کے لیے وہاں پر وہ کر رہے ہیں جو حلقے کی اپ کی صورتحال ہے اب اسمٹ کے ساتھ مل کر جو اپ نے یہاں پر جو ہے جو کھیل کھیلا اپ نے اپ نے گلگت بلتستان کو 50 سال پیچھے کر دیا امجد صاحب اپ کی جماعت نے پیپلز پارٹی کا تو وطیرہ یہی ہے ان کا منشور ہی ہے یہ ان کے پاس تو اور کوئی منشور ہے نہیں لٹو اور پھٹو ان کو جہاں سے ملتا ہے وہاں وہ چلے جاتے ہیں گلبر صاحب کے ساتھ بھی ان کے ساتھ جو ٹائی اپ ہوا وہاں پہ وہ بھی یہی تھا کہ وہاں اپ یہاں ہم وہاں اپ کھائیں یہاں ہم کھائیں گے یہ جو لینڈ ریفارم پاس کروایا اپ نے وہ اسی معاہدے کے تحت کروایا اپ کے اپنے چھوٹے مفادات کے لیے اپ نے گلگت بلتستان کو بیچ دیا مختلف سیکٹرز کو بھیج دیا گلگت بلتستان کے اور اس پانچ سال کے عرصے میں گلگت بلتستان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈکا چھپا نہیں ہے گلگت بلتستان اپنی ایک تیز رفتار ترقی سے ایک دم کلیپس ہو گیا گلگت بلتستان جو ایک پرامن سفر پہ جاری تھا وہ کلیپس ہو گیا گلگت بلتستان کے اندر گورننس کو اب گریڈ کرنے کے لیے جو ریفارمز ہو رہی تھی وہ کلیپس ہو گئی گلگت بلتستان کی یوتھ جس کے لیے ایک جامع پلان پی ایم ایل این نے بنایا تھا وہ کلیپس ہو گیا کہ ایون گلگت بلستان کے تقریبا تمام سیکٹرز انتہائی متاثر ہوئے ڈھائی سال تقریبا جو ہے سابقہ پی ٹی ائی گورنمنٹ کے گزرے اس کے بعد پھر ایک نیا گروہ سامنے ایا پاکستان مسلم لیگ نون کا اس وقت بھی موقف تھا کہ گلگت بلتستان کے اندر چونکہ وہ الیکشن 2020 کے جو الیکشن ہے وہ میں نے اور ہوئے ہیں وہ الیکشن جو تھے وہ کسی طور پر بھی ٹرانسپیرنٹ نہیں تھے وہ ازادانہ نہیں تھے منصفانہ نہیں تھے شفاف نہیں تھے اس کے اوپر جو ہے مختلف فورنز کی رپورٹس موجود ہیں کہ وہ الیکشن کس طریقے سے چرایا گیا تھا اور پی ایم ایل این کا مینڈیٹ کس طریقے سے چرایا گیا اور پی ایم ایل این کو کس طریقے سے اس وقت جو ہے توڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی ہمیں ایک جامع رپورٹ اپ کے سامنے رکھنی ہے گزشتہ ڈھائی سال میں جو گورنمنٹ ائی وہ گورنمنٹ چونکہ ایک الائٹ گورنمنٹ تھی اس کے لیے جو کمیٹی ایک بنی تھی اس کمیٹی نے جو ہے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جی ایک الائٹ گورنمنٹ بنائی جائے پی ایم ایل این کا اس وقت بھی یہی موقف تھا کہ اب بلدستان میں کوئی گورنمنٹ نہ ہو بلکہ گلگتستان میں الیکشن ہونے چاہیے ڈھائی سال پہلے لیکن پریزیڈنٹ صاحب نے فیصلہ کیا اس کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان میں چونکہ گورننس جو ہے وہ ابھی ابھی ٹریک پہ ا رہی ہے اس نظام کو بچانے کے لیے اس نظام کو بہتر طور پر چلانے کے لیے گورننس کو جاری رکھنا ضروری ہے لہذا انتہائی مجبوری میں پی ایم ایل این نے اس وقت ان کا ساتھ دیا لیکن جو اس گورننس کے ساتھ اس گورنمنٹ کے ساتھ جو جس کے چیف منسٹر گلبر صاحب بنے ہیں جو معاہدہ ہوا جو ایگریمنٹ ہوا جو انڈرسٹینڈنگ ہوئی تھی وہ انڈرسٹینڈنگ تھی گڈ گورننس کی وہ انڈرسٹینڈنگ تھی گلگت بلتستان میں شفاف گورننس کی وہ انڈرسٹینڈنگ تھی گلگت بلتستان میں جو فائننشل سسٹم ہے گنیکلستان کا اس کو ایک شفا ٹرانسپیرنٹ ٹریک کرنے کا یہ تھا لیکن گلبر صاحب جب تشریف لے ائے اور ان کا جو موڈ تھا وہ علی بابا چالیس چور والا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں