قاضی نثار احمد پر حملہ کے تمام ملزمان کی شناخت، دو گرفتار،آئی جی پولیس گلگت بلتستان

گلگت (نمائندہ خصوصی)
اہلسنت والجماعت کے امیر قاضی نثار احمد پر ہونے والے حملے میں ملوث مبینہ دہشت گردوں کی تصاویر جاری کر دی گئی ہیں۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ افضل محمود بٹ نے گلگت میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے جبکہ دو مرکزی ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔آئی جی پولیس کے مطابق 5 اکتوبر کو قاضی نثار احمد پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قاضی نثار احمد سمیت مجموعی طور پر 6 افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تفتیش جدید خطوط پر کی گئی، جس کے دوران حملے کے مختلف مراحل میں سہولت کاری کرنے والے عناصر کو بھی قانون کی گرفت میں لایا گیاافضل محمود بٹ نے انکشاف کیا کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ نعیم عباس ولد سلطان علی تھا، جسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گرفتار دونوں مرکزی ملزمان کا تعلق روندو سے ہے جبکہ واقعے کے مرکزی سہولت کار کا تعلق جلال آباد، گلگت سے بتایا گیا ہے۔آئی جی پولیس نے مزید بتایا کہ اس حملے میں مجموعی طور پر 9 افراد ملوث تھے، جن میں سے 5 افراد ایک گاڑی جبکہ 4 افراد دوسری گاڑی میں سوار تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملزمان کے نام سامنے آ چکے ہیں اور ان کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں، جنہیں میڈیا پر جاری کر دیا گیا ہےافضل محمود بٹ کا کہنا تھا کہ دستیاب شواہد، ٹھوس ثبوت اور اعترافی بیانات کی بنیاد پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مذکورہ تمام افراد اس حملے میں براہِ راست ملوث تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کے بعد قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور کسی بھی ملزم کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی۔آخر میں آئی جی پولیس نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ گلگت بلتستان میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں