25

گلگت بلتستان میں بھی تحریک انصاف کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں شروع

اسلام آباد(پ ر)وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے نجی ٹیلیویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نادانی سے یا منظم منصوبے کے تحت گلگت بلتستان کو معاشی اور سیاسی طور پر عدم استحکام کی طرف دھکیلنے پر گامزن ہے، گلگت بلتستان کو سابقہ ادوار میں بھی عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور خطے کی حساس حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ حکمرانوں نے سیاسی اختلافات کی بنیاد پر گلگت بلتستان کو معاشی اور سیاسی طور پر مفلوج کرنے کی سعی نہیں مگر موجودہ وفاقی حکومت وفاق کی اکائیوں کو دیوار سے لگا کر ملک میں شورش اور ناچاقی کو فروغ دینے کے درپے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کا وفاق کے ساتھ فنانشل ایگریمنٹ نہیں ہے اور این ایف سی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی نہیں ملی ہے۔ گلگت بلتستان ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے وفاقی گرانٹ پر انحصار کر رہا ہے اور خطے کی مخصوص جغرافیائی اور حساس نوعیت کے باعث وفاق نے گلگت بلتستان کا انتظام براہ راست اپنی نگرانی میں رکھا ہوا ہے اور گندم سبسڈی سمیت دیگر مراعات بھی دی گئی ہیں مگر موجودہ حکومت نے نہ صرف خطے کیلئے مختص بجٹ میں اضافہ کے بجائے پچیس فیصد کٹوتی کی اور گندم سبسڈی میں رکاوٹیں حائل کردی ہیں اور اب بجٹ ریلیز میں تاخیر کر کے عوام کو زندہ درگور کرنے کے درپے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں 5 سال کا مینڈیٹ ملا ہے مگر پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت نے اقتدار سنھبالتے ہی کردی تھیں اور عدم اعتماد کیلئے جوڑ توڑ شروع کیا گیا اور نظام کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے معاشی ناکہ بندی اور گلگت بلتستان کو دیوار سے لگانے کی پالیسی شروع کردی گئی۔ سابقہ ادوار میں جس جماعت کی بھی گلگت بلتستان میں حکومت ہو، وفاق نے یہاں عدم استحکام یا عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی سازش نہیں کی لیکن موجودہ حکومت نے نہ صرف وزیر اعلی گلگت بلتستان پر موٹر وے میں شیلنگ کی جسارت کی بلکہ خطے کے منتخب وزیر اعلی پر ایف آئی آر بھی کاٹی گئی۔ گلگت بلتستان سے پہلے بھی سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ میں شرکت کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے قافلے آتے رہے ہیں مگر ان کی راہ میں روڑے نہیں اٹکائے گئے نہ ان کی حب الوطنی پر سوالات کئے گئے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی سب سے پہلے گلگت بلتستان کا بجٹ کاٹنے کا فیصلہ کیا لیکن ہمارے بھرپور احتجاج پر مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ نے یقین دہانی کروائی کہ گلگت بلتستان کا کٹوتی شدہ ری کرنٹ بجٹ 47 ارب سے 60 ارب کردینگے جبکہ ترقیاتی بجٹ جو 12 ارب 50 کروڑ تک محدود کردیا گیا تھا، اس کو بھی 20 ارب تک بڑھانے اور پی ایس ڈی پی 11 ارب اے 20 ارب تک بڑھانے کا وعدہ کیا گیا مگر ابھی تک صرف ترقیاتی مد میں دو ارب چوراسی کروڑ اور ری کرنٹ بجٹ کی مد میں ساڑھے تئیس ارب روپے ریلیز کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان ملک کی جی ڈی پی میں بھرپور کردار ادا کررہا ہے اور این ایف سی میں شامل ہوتا تو گلگت بلتستان کا حصہ ایک کھرب پچاس کروڑ سے زائد ہوتا۔وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ کٹوتی اور فنڈز کی بروقت ریلیز نہ ہونے سے صوبہ معاشی طور پر بحران کا شکار ہے، صوبائی حکومت کے پاس پچھلے سال کی طرح ڈیزل جنریٹرز چلانے کے پیسے نہیں ہیں جس کی وجہ سے مائنس 7 ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈ میں بائیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ میں مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ کو چیلینج کرتا ہوں کہ وہ ٹی وی پروگرام میں دستاویزات لیکر آئیں کہ اگر موجودہ حکومت نے اس سے زیادہ گلگت بلتستان کو ترقیاتی یا غیر ترقیاتی مد میں فنڈز فراہم کر دئیے ہیں تو ان سے معذرت کرونگا۔ وفاق کی جانب سے فنڈز کٹوتی اور بروقت ریلیز نہ ہونے سے ترقیاتی منصوبے جمود کا شکار ہیں اور صوبائی حکومت پاور پراجیکٹس مکمل نہیں کر سکی جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کو طویل دورانیے کے لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ گلگت بلتستان کے سابقہ ادوار میں پی ایس ڈی پی منصوبے وزارت امور کشمیر کے زیر نگرانی ہونے کی وجہ سے 10 سے 12 سالوں سے منصوبے تعطل کا شکار رہے ہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کیلئے پرنسپل اکاونٹنگ آفیسر کے اختیارات گلگت بلتستان کو منتقل کردئے لیکن پی ڈی ایم کی حکومت نے اس بنیاد پر پی ایس ڈی پی کی مد میں بھی فنڈز ریلیز نہیں کئے ہیں کیونکہ وہ پرنسپل اکاونٹنگ آفیسر کے اختیارات گلگت بلتستان منتقل ہونے پر خائف ہیں۔ گلگت بلتستان کی حکومت باقی صوبوں کے برعکس ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ پاور جنریشن میں خرچ کرتا ہے کیونکہ پی ایس ڈی پی کے پاور پراجیکٹس کئی دہائیوں سے مکمل نہیں ہو پارہے اور گلگت بلتستان میں ہر سال خصوصا سردیوں میں لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے نہ صرف گندم سبسڈی میں اضافہ نہیں کیا بلکہ سبسڈی روک کے گلگت بلتستان کو غذائی بحران کی طرف دھکیلا اور پھر یہ گندم سبسڈی پر سیاست بھی کر رہے ہیں۔ مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ نے کہا تھا کہ کرپشن نہ ہو تو موجودہ سبسڈی گلگت بلتستان کی گندم ضروریات کیلئے کافی ہے، اس پر ہم نے انہیں واضح کر دیا کہ اگر ہم کرپشن کر رہے تو آپ خود گندم سبسڈی سے عوام کی ضروریات پوری کردیں کیونکہ موجودہ سبسڈی میں صرف 10 سے 11 لاکھ تک گندم مل سکتی ہے حالانکہ گلگت بلتستان کو ہر سال 16 لاکھ گندم بوری کی ضرورت ہے۔وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان گلگت بلتستان کیساتھ مخلص تھے، وہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور سیاحتی حب بنانے کیلئے پر عزم تھے، انہوں نے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کیلئے قانون سازی کیلئے اہم اقدامات کئے تھے مگر اپوزیشن جماعتوں کی ریشہ دوانیوں کے باعث گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کا جواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں