24

گلگت بلتستان کے وسائل اور اس کے مسائل تحریر : جمشید علی طیفور

گلگت بلتستان خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے دنیا کے بلند ترین پہاڑ چوٹی کے ٹو ضلع شگر میں واقع ہے اس کے علاوہ تین پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندہ کش کی پہاڑیاں بھی یہاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کی خوبصورت ترین اور دلکش سیاحتی مقامات بھی یہاں پائے جاتے ہیں لیکن اس وقت گلگت بلتستان مسئلے میں گرا ہوا ہے بلتستان میں اس وقت موسم سرما کی سخت ترین سردیاں شروع ہوئی ہے اور بلتستان میں اس وقت بجلی کی لوڈشیدڈنگ، اور آٹے کی قلیت کے باعث لوگ دربدر کی ٹھوکرین کھا رہے ہیں اور ہر طرف مسائل ہی مسائل نظر آریے ہیں۔ اس وقت بلتستان کا ہیڈکواٹر اسکردو میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانہ19 سے 20 گھنٹوں پر مشتمل ہے اس کے علاوہ بلتستان کی زیادہ تر آبادی بالائی علاقوں پر مشتمل ہے بالائی علاقوں میں گندم کی کمی کی وجہ سے لوگ بے سروسامانی کے عالم میں زندگی کے ایام گزار رہے ہیں اور گندم کی سبسڈی کی کٹواتی کی وجہ سے لوگ گندم کے لیے ترس رہے ہیں اور آٹا کے پیچھے دربدر کی ٹھوکرین کھا رہے اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان میں بہت زیادہ مسائل پائے جاتے ہیں اس کے لیے یہاں کی اپوزیشن پارٹیاں اور صوبائی حکومت مل کر عوام کے مشکلات کم کریں تاکہ عوام سکون اور چین کی زندگی گزار سکے۔ گلگت بلتستان کے اندرنی اور آئین حقوق کے لیے اپوزیشن اور حکومت کو مل کر حکمت عملی بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کے ذریعے عوامی مسائل حل ہوسکے اگر اس طرح چلتے رہے تو معاملات اور مسائل سنگین تر ہوتے جائیں گے جس کا نقصان یہاں کے باسیوں کو ہوگا یہاں کی ہر سیاسی، مذہبی پارٹی گلگت بلتستان کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ یہاں کے لوگوں کی زندگی بہترین انداز میں گزر سکے صرف الیکشن کے ٹائم میں بلند بانگ نعرے لگا کر اور عوام کو سبز باغ دیکھا کر ووٹ والی صوبائی حکومت عوامی ایشو کو حل کرنے میں بری طرح ناکام نظر آرہی ہے اگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کو اللہ تعالی نے قدرتی وسائل سے مال لا مال کیا ہے اور حکومتوں کی نااہلی اور نالائقی کی وجہ سے یہاں کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ایک سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں ہائیڈروالیکٹرسٹی پیدا کرنی کی صلاحیت بہت زیادہ پائی جاتا ہے اور ہائیڈرو الیکٹرک سٹی کے ذریعے پورے پاکستان کو فری لوڈشیڈنگ بناسکتے ہیں جبکہ یہاں کے عوامی نمائندوں اور حکومتوں کا المیہ یہ ہے کہ 70 سالوں میں گلگت بلتستان میں کوئی میگا پاور پرواجیکٹ نہیں لگا سکے اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات کے ذریعے ہم اپنے ملک کو خود کفیل بناسکتے ہیں گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے علاوہ اپنی خوبصورتی کی مثال آپ ہے اگر اس کا موازنہ سوئزر لینڈ سے کیا جائے تو سوئزرلینڈ کی معیشت کا دارومدار سیاحت پر منعصر ہے۔ اگر گلگت بلتستان مین بھی صیح منعوں میں پالیسی مرتکب مرتب کرے تو یہاں کی معیشت بھی پاکستان کی گرانٹ پر انحصار نہیں ہوسکتی ہے اس کےعلاوہ گلگت بلتستان اس وقت مسائل کا گڑھ بن گیا ہے ایک سال سے زائد عرصہ گزارنے کے باوجود زلزلہ متاثرین اور سیلاب متاثرین کے مسائل یوں کے تو ہیں اور مسائل کا حل ناگیز ہوگیا ہے اس کے علاوہ مارکیٹ میں سبزیاں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے بول رہی ہے اور مہنگائی اپنے عروج پر ہے اس وقت پاکستان میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور غریب عوام الناس بوند بوند کے لئے ترسنے پر مجبور ہے۔ گلگت بلتستان میں حکومت نامی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے ہر طرف مسائل ہی مسائل نظر آ رہے ہیں اور مسائل حل ہونے کا نام ہی نہیں رہے ہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ایشو لوڈشیڈنگ، اور گندم کی کمی کا ہے اور صوبائی حکومت مسائل حل کرنے میں بلکل ناکام نظرآرہی ہے۔ آئیے ہم سب کو مل کر گلگت بلتستان کی فلاح و بہبود اور اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہر کسی کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا اور یہاں کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہونا پڑے گا آنے والا وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔یہاں کی باصلاحیت یوتھ کو ہنر مند بنانے کے لئے دور جدید کے تقاضوں کو پورا کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں