23

 انسان کی انسان سے ملاقات ایک طے شدہ امر ہے

تحریر ملک فیصل حیات اعوان لاوہ
 انسان کی انسان سے ملاقات ایک طے شدہ امر ہے۔ اس میں اسکا کمال کچھ صورتوں میں تو بالکل بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ شائد انسان  اپنے تعلق شدہ انسان سے تقدیر کے راستے ہی منسلک ہوتا ہے۔ اپنے ماضی پر نظر دوڑایں ہزاروں انسان ایسے ہوں گے جو آناً فاناً آپکی زندگی میں متعین لمحات کے لحاظ سے در آتے ہیں۔ ویسے سب انسان ہی ایسے آتے ہیں چاہے خونی رشتے ہوں احباب یا مہمان  ۔
آج میں جس دوست کا زکر کر رہا ہوں ان سے بھی ایک ملاقات مشترکہ دوست کے توسط سے ہوئ۔ اور پھر تعلق کا ایسا سلسلہ بن گیا جو لگاتار بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
کسی نے کیا خوبصورت انداز اپنایا تھا ملنے والے کے لئے ۔
 یونہی کوئی مل گیا تھا سرراہ چلتے چلتے۔
یا ٹھہریں انکے لئے فراز کا یہ مصرع زیادہ  جچے گا
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
 میں آج جنکا زکر کر رہا ہوں وہ میرے عزیز دوست  ملک امتیاز احمد ہیں۔ یہ شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ انہیں اس سفر میں قریباً دس سال ہو چکے ہیں ۔
ان کا قلم ہمیشہ مثبت صحافت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ہمیشہ فلاح معاشرت اور احترام انسانیت ان کے خیالات کا حصہ رہے ہیں۔ نہایت زندہ دل ، نرم دل مخلص اور انسان دوست آدمی ہیں۔ کم وسائل کے باوجود بھی توکل اور خودی انکےبہترین اوصاف ہیں۔
کھیل کے میدانوں کی رونق، سکول کی محافل کی جان اورانتظامیہ کے اچھے کاموں کو اجاگر کرنے والے ہیں۔   مسائل کی طرف ارباب اختیار کی توجہ مبذول کرانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ بہترین مشاورت انکا خاصہ ہے۔   اپنی رائے کا برملا اظہار کرتے ہیں۔
نہایت شاندار انسان ہیں۔ الله پاک نے انہیں بہت سے خواص سے نوازا ہے۔ درویش منش ، سادہ طبیعت ، فخر و غرور کا دور دور تک نام و نشان نہیں ۔  انکا نام  نہیں انکے خواص  انکی پہچان ہیں بقول شاعر
میں تیرا نام نہ لوں تو بھی لوگ پہچانیں
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔
اپنے شعبے میں بھرپور مہارت رکھتے ہیں اور واقعی انتہائ محنتی ہیں. دن میں ساٹھ ساٹھ کلو میٹر سفر انکا معمول ہے۔ کیا زبردست کیمرہ ورک ہے۔ مجھے انکی لی ہوی تصاویر بہت پسند ہیں۔
ٹک ٹاک بنانے میں انکا کوئ ثانی نہیں۔  بڑے بڑے افسران اور سیاستدان انکی ٹک ٹاکس کے منتظر رہتے ہیں اور انکے فن کے معترف ہیں ۔
انکے احباب کی فہرست کافی طویل ہے۔ کئ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ اور ہر پارٹی کے سیاستدان انکے حلقہ احباب میں شامل ہے۔ بے شک آسمان صحافت پہ انکی مثال چمکتے ہوئے چاند سی ہے۔ میری دعا ہے کہ رب رحیم انہیں مزید برکات سے نوازے آمین۔ سدا مسکراتے رہیں اور دلوں کو آباد کرتے رہیں ۔ بقول شاعر
ملا کسی کو ہے کیا سوچئے امیری سے
دلوں کے شاہ تو اکثر غریب ہوتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں