24

زندگی،موت اور خودکشی تحریر میر آفاق ظفر

زندگی کیا ہے؟ کیا زندگی ایک آزمائش ہے،ایک امتحان ہے یا پھر ایک سفر؟
قارئین کرام! میرے نزدیک زندگی آزمائش بھی ہے امتحان بھی ہے اور ایک سفر بھی ہے۔سب سے پہلے میں آزمائش پر بات کروں گا۔اگر دیکھا جائے تو زندگی سچ میں ایک آزمائش ہے۔انسان اپنی پیدائش سے لےکر موت تک آزمائشوں کے گھیرے میں رہتا ہے۔جب انسان زندگی میں کچھ بڑا ہوجاتا ہے تو اس کے اندر علم سیکھنے کی آزمائش آجاتی ہے اور جب انسان علم کی آزمائش سے فارغ ہو جاتا ہے تو پھر وہ دولت کمانے کی آزمائش میں آجاتا ہے،پھر اس کے بعد انسان ہر وقت آزمائشوں میں ہی رہتا ہے اور انسان ہر وقت یہ سوچتا ہے کہ وہ کیسے ان آزمائشوں سے پیچھا چھڑائے،لیکن انسان ان آزمائشوں کا حل بھی دنیاوی طریقوں سےکرنا چاہتا ہے،دراصل آزمائش اور سکون اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں،بعض اوقات اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آزمائش ڈال کر ان کے صبر کا امتحان لیتا ہے،اگر انسان اس آزمائش میں صبر و تحمل اور اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار رہے گا تو اللّٰہ تعالیٰ ایسے انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب کرے گا۔بس اس وجہ سے ہمیں ہر آزمائش میں اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار رہنا چاہیے اور اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی بھی ناامید نہیں ہونا چاہیے ۔
اب زندگی امتحان کس طرح سے ہے؟
دنیا انسان کےلئے ایک امتحانی مرکز کی مانند ہے جہاں پر ہر انسان اپنے حصے کا پرچہ دیے رہے ہیں ۔ پرچہ کا مطلب دنیا ہے، اگر انسان اس دنیا میں نیک اور اچھے کام کرے گا،تو اللّٰہ تعالیٰ اس بندے کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب کرے گا،اگر انسان اس دنیا میں برے کام کرے گا تو اللّٰہ تعالیٰ اس بندے کو دنیا و آخرت دونوں میں ناکام کرے گا۔
اب زندگی ایک سفر کی مانند کیسے ہے؟
زندگی ایک ٹرین کی طرح ہے،جس کا سفر اس وقت تک جاری ہے جب تک انسان اس دنیا میں زندہ ہے،اور موت اس کا ریلوے اسٹیشن اور یہ اسٹیشن انسان کی زندگی کا آخری اسٹیشن ہوتا ہے،اس کے بعد انسان اپنی منزل آخرت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
آخر میں صرف یہ کہنا چاہو گا کہ اس زندگی کا مقصد صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے،اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اپنی عبادت کرنے کےلیے پیدا کیا ہے ۔اگر انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بجائے دنیاوی کاموں میں مصروف رہےگا تو انسان ہر وقت آزمائشوں کا شکار ہوگا ۔۔۔
اس لیے انسان کو ہر وقت اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہئے اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے ہے۔۔
موت
موت اس عارضی دنیا کی اصل حقیقت ہے۔ ہر چیز کا اپنا وقت مقرر ہے اور ہر چیز اس وقت نکل جائے گی جب اس کا وقت آئے گا۔ یہ دنیا ایک اسٹیج کی طرح ہے اور ہم سب اداکار ہیں، جو مختلف کردار نبھا رہے ہیں، کچھ اپنے کردار ادا کرنے میں اچھے ہیں کچھ نہیں۔ آج ہم موت کو بھول کر مختلف کاموں میں بہت زیادہ مصروف ہیں اور اس عارضی دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور آخرت کو بھول گئے ہیں جو کہ اصل زندگی ہے۔ ہم اپنے مذہبی اصولوں کو توڑ رہے ہیں۔ اس کا اثر ہماری آنے والی نسلوں اور ہماری زندگیوں پر بھی پڑ رہا ہے ۔
کوئی یہ نہیں سوچ رہا ہے ہےکہ ایک دن ہم اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔
(كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْت)
“ہر نفس کو موت کی لذت چکھنی ہے”
ہم اللہ کے اس پیغام کو بھول چکے ہیں۔
موت کی کئی قسمیں ہیں۔ صرف روح کا جسم سے الگ ہونا ہی موت نہیں ہے۔ بلکہ اپنے خوابوں کی قربانی بھی موت کی ایک قسم ہے۔ بعض اوقات ہم اپنے خوابوں، محبتوں اور دیگر چیزوں کو قربان کر دیتے ہیں۔ رکاوٹوں اور پریشانیوں کی وجہ سے ہم اپنے خواب اور محبت وغیرہ کو حاصل نہیں کر پاتے۔ بےشک اس وقت ہم ہار مان لیتے ہیں اور اندرونی طور پر مکمل ٹوٹ جاتے ہیں ۔
لیکن ہم کو اس وقت بھی اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور مسکراہتے ہوئے زندگی جینا چاہیے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب کرے اور وقت سے پہلے ہم کو اپنی موت کی فکر کرنی چاہیے ۔۔
خودکشی
قارئین کرام! میرے مطابق خودکشی کا مطلب یہ ہے کہ خودکشی ایک ناامیدی، ہار ماننا اور مسائل اور دوسری چیزیں ہیں جو لوگوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ زیادہ تر نوجوان محبت، پڑھائی کے دباؤ، خاندانی مسائل اور تنہائی وغیرہ کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں، اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ ہمارے علاقے میں خودکشی کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے اور اس کی وجہ پڑھائی کے دباؤ، مالی مسائل اور محبت میں ناکامی تھی۔ زیادہ تر واقعات محبت میں ناکامی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ خودکشی کمزور لوگوں کی نشانی ہے۔ اس لیے ہمیں زندگی کے کسی بھی شعبے میں کمزور اور نا امید لوگوں کی طرح ہار نہیں ماننی چاہیے۔
اگر ہم آج کے معاشرے پر نظر ڈالیں اور خودکشی کے ماضی اور حال کا موازنہ کریں تو واضح ہو جائے گا کہ ماضی اور حال میں بہت فرق ہے۔ ماضی میں معاشرے میں کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اور موجودہ معاشرے میں بہت سے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماضی میں لوگ زیادہ مضبوط، چوکس اور توانا تھے اور اس وقت کے لوگ کسی بھی میدان میں ہار نہیں مانتے تھے اور آج کے دور میں لوگ ناامید، کاہل، موبائل فون کے غلام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خودکشی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
موجودہ حکومت اس سلسلے میں اپنا اہم کردار ادا کرے اور اپنے علاقے میں آگاہی پروگرام اور سیمینارز کا اہتمام کریں،جس سے خودکشیوں کی تعداد میں ضرور کمی آئے گی۔
اور آخر میں، میں یہ کہوں گا کہ انسان کو زندگی میں کبھی بھی مایوس اور ناامید نہیں ہونا چاہیے اور اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہیے اور خودکشی اور ایسی دوسری چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے جن سے اسے اور اس کے گھر والوں کو تکلیف ہو۔اور اس کی وجہ سے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نقصان اور پریشانی برداشت کرنی پڑے۔
مولانا رومی زندگی اور موت کے بارے میں کہتے ہیں
“کہ میں نے یہ سیکھا ہے اس دنیا سے
کہ یہاں ہر کوئی چکھے گا موت کا مزہ
لیکن بہت کم ہوں گے جو چکھ پائیں گے
زندگی کو ”
زندگی اور موت دونوں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ہے،یہ زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی امانت ہے ، اس لیے ہمیں اس امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہئے ہے ۔ ہم اس زندگی میں جو کچھ بھی کریں گے ، اس کا حساب ہم کو اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے دینا ہے اور خودکشی ایک ایسی چیز ہے جو انسان خود اپنے لیے انتخاب کرتا ہے،جو کہ اسلام میں حرام ہے ۔خودکشی کرنے والے کا آخری ٹھکانہ جہنم ہی۔ہے۔زندگی ایک نعمت ہے اس لیے ہم سب کو اس نعمت سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کا مزہ چکھنا چاہیے ۔
موت ایک حقیقت ہے جو کہ ایک نہ ایک دن انسان پر آنی ہے ۔ اس لیے ہم سب کو اس کی فکر کرنی چاہیے، اور خودکشی کرنے سے انسان کے مسائل حل نہیں ہوتے ، بلکہ وہ ابدی مسائل کو اپنے گلے لگاتا ہے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں