29

وفاق کی عدم دلچسپی، گلگت بلتستان میں بڑا مالی بحران پیدا ہو گیا

گلگت(سپیشل رپورٹرسے) وفاق کی عدم دلچسپی، گلگت بلتستان میں بڑا مالی بحران پیدا ہو گیا۔ محکمہ خزانہ نے تمام ادائیگیوں کیلئے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ وفاق سے پہلے گلگت بلتستان ڈیفالٹ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی عدم توجہی کے باعث گلگت بلتستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق موجودہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے مالی سال 2022-23کے سالانہ ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹ لگاتے ہوئے گلگت بلتستان حکومت سے کہا کہ ہمارے پاس ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگانے کے سوا کوئی چارا نہیں ہے کیونکہ ملک اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے گلگت بلتستان کو ملنے سالانہ بجٹ میں 15 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے پہلے گلگت بلتستان کیلئے40 ارب روپے ترقیاتی بجٹ کی مد میں رکھے گئے تھے جو کٹوتی کے بعد اب 25 ارب روپے کر دیئے گئے ہیں جبکہ اب تک دو کوارٹرز کی ریلیز 40فیصد کی جگہ صرف2.5ارب روپے جاری کئے گئے ہیں بجٹ کٹوتی اور ریلیز نہ بھیجنے کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ترقیاتی و غیر ترقیاتی امور کا پہیہ جام ہو چکا ہے اور گلگت بلتستان ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کا غیر ترقیاتی بجٹ جو پہلے ہی 9 ارب روپے خسارے میں تھا وفاق کی جانب سے مطلوبہ رقم جاری نہ ہونے کی وجہ سے یہ خسارہ بڑھ کر 10ارب پچاس کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شدید مالی بحران کی وجہ سے محکمہ خزانہ نے تمام معاملات میں ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں جبکہ نہایت ضروری ترقیاتی عمل کو چلانے کیلئے سابق وفاقی حکومت (تحریک انصاف) کی جانب سے گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کیلئے خصوصی ترقیاتی پیکیج کی مد میں دیئے گئے 40ارب روپے میں سے 4ارب روپے برج فنانسنگ کے ذریعے حاصل کر کے معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے یہ رویہ اور صورتحال مذید کچھ عرصہ جاری رہی تو گلگت بلتستان حکومت سرکاری ملازمین کو تنخواہیں بھی ادا نہیں کر سکے گی جبکہ صوبے میں ترقیاتی عمل مکمل طور پر جمود کا شکار ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں