29

توقع ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بھارتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ردعمل

اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ بھارت اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے وزرائے خارجہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے،توقع ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بھارتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے،ہم تحریک عدم اعتماد کا آئینی،جمہوری اور سیاسی انداز میں مقابلہ کریں گے،ممبران کو منانے کی کوشش کریں گے لیکن ان کے ساتھ زبردستی نہیں کریں گے۔ہفتہ کو بلاول کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہاکہ  میری نظر میں بلاول کا بیان انتہائی ناسمجھداری والا بیان ہے،پریشان ہمیں ہوناچاہیےپریشان یہ ہیں،تحریک کاآئینی اورقانونی انداز میں مقابلہ کریں گے،کسی رکن اسمبلی کوووٹ دینےسےنہیں روکیں گے،زبردستی نہیں کریں گےاپنامینڈیٹ اراکین کویادکرائیں گے،ہم تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ قانونی، جمہوری اور سیاسی انداز میں کریں گے،ہم اپنے ممبران کو منانے کی کوشش کریں گے لیکن زبردستی نہیں کریں گے،تحریک عدم اعتماد تو ابھی جمع کروائی گئی ہے، او آئی سی کے 47 ویں اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان 48 ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ 27ستمبرکو میرے خطوط او آئی سی وزرائے خارجہ کو بھجوائے جا چکے ہیں۔صبح سے مہمان آنا شروع ہو گئےہیں،مصر کے وزیر خارجہ اتوار کو آ رہے ہیں،21 تاریخ کو ایک اور اہم وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں،میں بطور وزیر خارجہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے،مجھے امید ہے بلاول ہندوستان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے،یہ بچہ گھبراہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا اجلاس حکومت کا نہیں ریاست پاکستان کا ایونٹ ہے،عدم اعتماد ضرور کریں ہم ان کا جمہوری انداز میں مقابلہ کریں گے،آپ کے پاس نمبرز پورے ہیں تو پھر آپ گھبراہٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں،تاریخ کا تعین اسپیکر کا اختیار ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے اندر یکسوئی نہیں ہے یہ مختلف مفادات والے لوگ عمران خان کو گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں،یہ مثبت نہیں منفی اتحاد ہے،یہ بنانے کیلئے نہیں، گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں،ان کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے،نون لیگ کے اندر اختلافات سامنے آ رہے ہیں،نون لیگ کے اندر دو سوچیں ہیں،ایک سوچ تحریک عدم اعتماد کی پشت پناہی کر رہی ہے اور ایک اس کے برعکس بھی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا عدم اعتماد کی تحریک انہوں نے سوچ سمجھ کے پیش نہیں کی تھی؟یہ تو پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں 190/200 ووٹوں کی بات کر رہے تھے،آج بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہو گئے،اب ان کوگھبراہٹ کس بات کی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں