23

 زرداری اور نواز شریف کا مقصد ہی سیاست میں پیسہ بنانا ہے ، وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سیاست پاکستان کے عوام کی سیاست ہے، ہم خود کو عوام کی اخلاقی سیاست سے قطعی طور پر علیحدہ نہیں کریں گے اور عدم اعتماد کو عوام کی طاقت سے ناکام بنائیں گے،     حکومت بچانے کےلئے بلیک میل نہیں ہوں گے، ضمیر فروشوں کے خلاف آرٹیکل 63  ون اے کے تحت کارروائی شروع کر دی گئی ہے، زرداری اور نواز شریف کا مقصد ہی سیاست میں پیسہ بنانا ہے، سندھ کے غریب عوام کا پیسہ ہارس ٹریڈنگ پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات اسد عمر اور وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ گزشتہ روز ہم نے کہا تھا کہ ایکشن لیں گے جس کے بعد سارے لوٹے سامنے آ گئے ہیں، وزیراعظم عمران خان سے ہماری کچھ دیر قبل ملاقات ہوئی ہے اور ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، ہم اپنی حکومت بچانے کیلئے کسی قسم کی بلیک میلنگ، لوٹا کریسی اور سودے بازی کو مسترد کرتے ہیں، جو وعدے ہم پاکستانی عوام سے کرکے آئے تھے اس میں یہ روایتی سیاست فٹ نہیں بیٹھتی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور زرداری کا ایک بزنس ماڈل ہے کہ پیسے لگائو، حکومت میں آئو اور پھر پیسے کمائو۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کا 1990ء کی سیاہ دہائی سے آغاز ہوا، پاکستان کے عوام پر اب فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سیاہ دہائی کو مسترد کریں اور عمران خان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے فون آ رہے ہیں اور ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ مشتعل نہ ہوں، احتجاج کرنا آپ کا حق ہے لیکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک خاتون رکن کو 7 کروڑ روپے دیئے گئے، یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے، سندھ کے جو حالات ہیں ، لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے اور یہ جہازوں میں بھر کر پیسے یہاں لائے اور انہوں نے سندھ ہائوس کو آج کا نیا چھانگا مانگا بنایا، سندھ ہائوس میں بیوپاری منتخب اراکین کے ضمیروں کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں ۔  چوہدری فواد حسین نے کہا کہ میرا ان ضمیر فروشوں سے کہنا ہے کہ آپ نے عمران خان کے نام پر ووٹ لیا ہے، ہمت ہے تو پہلے استعفیٰ دو اور الیکشن لڑو اور پھر عوام کا سامنا کرو۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر آئے ہیں اور ہم نے ووٹ استعمال کرنے کے حوالہ سے قانونی پروسیڈنگ کا آغاز کر دیا ہے، آئین کے آرٹیکل 63 ون اے کے تحت جو ہماری قانونی پروسیڈنگ ہے وہ بھی چلے گی لیکن ہمارا اصل ہدف 27 مارچ کو ڈی چوک کا اجتماع ہے، یہ اسلام آباد کا ہی نہیں بلکہ خطہ کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا پاکستان عمران خان کو دیکھ رہا ہے اور عمران خان کی سیاست پاکستان کے عوام کی سیاست ہے ، ہم خود کو عوام کی اخلاقی سیاست سے قطعی طور پر علیحدہ نہیں کریں گے اور عدم اعتماد کو عوام کی طاقت سے ناکام بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نہ کسی کو پیسے دیں گے اور نہ ہی مراعات اور وزارتیں دیں گے، اس کے بغیر جو آنا چاہے وہ آ سکتا ہے، آرٹیکل 63 ون اے کہتا ہے کہ ایک شخص پارٹی چھوڑ گیا ہے تو اس کے خلاف پارٹی سربراہ نااہلی کا ریفرنس بھجوا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شیخ رشید احمد نے بطور اتحادی اور بطور وزیر داخلہ وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ جو کچھ سندھ حکومت نے کیا ہے وہ پاکستان کے آئین کی صریح خلاف ورزی اور بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ،  انہوں نے سندھ میں گورنر راج کا بھی مطالبہ کیا ہے لیکن اس پر ہم نے واضح غوروخوض نہیں کیا ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1998ء میں جب بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی تو اس وقت تمام ادارے نواز شریف کے ساتھ تھے، پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی لیکن اس کے باوجود عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں