22

اب تک66ہزا ٹن آم برآمد کرچکے ہیں،زراعت کو سی پیک کے فیز ٹو کاحصہ بنادیاگیا ہے۔سید فخرامام

ملتان:وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے کہا ہے کہ اب تک 66ہزار ٹن آم برآمد کیاجاچکاہے اورابھی پنجاب کا آم آرہاہے۔ انہوں نے کہاکہ آم کے باغات کو دس سال سے کاٹا جارہاہے لیکن اس کے باوجود اچھی پیداوارہوئی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے مقامی کالج میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ سید فخرامام نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے زرعی شعبہ کا پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہت اہم کردار ہے۔حکومت عام آدمی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ گندم کی پیداوار میں 27.48 ملین ٹن اضافہ ہوا ہےتاہم اس کے باوجود ہم گندم کی درآمد کر رہے ہیں۔اس مرتبہ دھان کی 8.4ملین ٹن پیداوارہوئی جو ایک ریکارڈہے۔اس میں سے آدھی پیداوار برآمد ہوتی ہے۔ مکئی کی بھی 8.4 ملین ٹن اورگنے کی 84 ملین ٹن پیداوار ہوئی۔کپاس کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔ کپاس کے بیج پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔ گندم کے بیج کے حوالے سے ٹریک اینڈ ٹریس کی پالیسی بنائی گئی ہے۔ دھان کی 8.4 ملین ٹن پیدوار ہوئی جس میں سے آدھی ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ رواں سال کینو کی ریکارڈبرآمدات ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی طور پر بیج کے معیار کو بہتر کرکے 15 فیصد پیداوارمیں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔سید فخرامام نے کہا کہ ہم پھولوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پھولوں کی برآمد کو بھی ترجیح دی جائے گی۔۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ چین کے ساتھ سی پیک کے فیز ٹو میں زراعت کو حصہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرگینک فارمنگ پر کام کرنے جا رہے ہیں۔کپاس کی پیداوار میں چائنہ اور انڈیا لیڈ کر رہے ہیں۔ چائنہ کے ساتھ کپاس کی پیداوار اور ریسرچ پر کام کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این آر او کے بہت سے خواہش مند ہیں، مگر ملا کسی کو نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم فرماتے تھے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔پاکستان کی تمام حکومتوں نے کشمیر پر غیر متزلزل موقف اپنایا ہے۔ وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں تقریرسے کشمیر کا موقف اجاگر ہوا۔انڈیا میں بھی چند ایسے لوگ ہیں جو بربریت پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ عمران خان کشمیر کے سفیر ہیں اور کشمیر کا مقدمہ ہر محاذ پر لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نریندر مودی اور کا وزیرداخلہ آر ایس ایس کے لوگ ہیں جنہوں نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا۔ ہمارے لئے کشمیر کا مسئلہ ایک بہت بڑا چینلج ہے۔ کشمیر کے معاملہ پر مریم نوازکے بیانات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری آئی۔ ٹی کی پچھلے سال ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر سے دو ارب ڈالر چلی گئی۔ چین نے محنت سے تیزی سے ترقی کی۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ ترقی علم کے ذریعہ ہو گی۔چین نے امریکہ سے ہتھیار نہیں مانگےبلکہ اس نے امریکہ سے کہا کہ ہمارے 20 ہزار ٹاپ طلبا کو اپنی یونیورسٹیز میں داخلہ دو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں