20

پاکستان میں دہشتگردی کا عفریت دوبارہ سر اُٹھا رہا ہے، علامہ جواد نقوی

لاہور:مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کا عفریت دوبارہ سر اُٹھا رہا ہے، دہشت گردی کی کمر توڑنے دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح امسال بھی محرم اللاہورمجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کا عفریت دوبارہ سر اُٹھا رہا ہے، دہشت گردی کی کمر توڑنے دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح امسال بھی محرم الحرام سے قبل فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے، تکفیری و ناصبی اپنا اثر دکھا رہے ہیں، ایک ویڈیو وائرل کی گئی ہے جس میں آئمہ اطہارؑ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ گزشتہ برس سیدہ کائنات کی شان میں گستاخی کی گئی جس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی جس سے یہ آگ مزید پھیلی، جس کے بعد ذمہ دار علماء نے کردار ادا کیا اور آگ کو قابو کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مزاج جذباتی و احساساتی ہے، کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی جاتی بلکہ متاثرین بھی دشمن کے ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں، مذہبی طبقہ بھی عقلانیت سے دور ہے، دشمن چاہتا ہے کہ اسی جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرلے۔دشمن سوشل میڈیا سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جو باشعور لوگوں کیلئے تو مفید پلیٹ فارم ہے جبکہ بے شعور اور جذبانی لوگوں کیلئے تباہی کا باعث ہے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھی جن لوگوں نے توہین کی انہیں چھوڑ دیا گیا، گزشتہ برس کے مجرموں کو اگر سزا مل جاتی تو دوبارہ کسی کی جرات نہ ہوتی، مگر یہ نظام مجرموں کو سزا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسا ماحول بنائیں کہ خائن کو آگ لگانے کی جرات ہی نہ ہو۔ ایسا ماحول بنائیں کہ سٹیج جو جب کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہرے کرے اسے فوری جواب دیں، تو یہ سلسلہ رک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکابرین مل بیٹھ پر فضا کو پرامن بنائیں اور حکومت پر دباو ڈالین کہ مجرموں کو وقت پر گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا، انہیں باعزت بری کیوں کر دیا جاتا ہے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں برطانوی نظام عدل نافذ ہے، اس کا عمل ہی اتنا طویل ہے کہ انصاف مل ہی نہیں سکتا، وکیل جو مجرموں کو بھی بچا لیتے ہیں۔سب سے پہلے انہیں پھانسی چڑھایا جائے، جب انصاف کا نظام مضبوط ہو گا تو جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
حرام سے قبل فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے، تکفیری و ناصبی اپنا اثر دکھا رہے ہیں، ایک ویڈیو وائرل کی گئی ہے جس میں آئمہ اطہارؑ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ گزشتہ برس سیدہ کائنات کی شان میں گستاخی کی گئی جس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی جس سے یہ آگ مزید پھیلی، جس کے بعد ذمہ دار علماء نے کردار ادا کیا اور آگ کو قابو کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مزاج جذباتی و احساساتی ہے، کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی جاتی بلکہ متاثرین بھی دشمن کے ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں، مذہبی طبقہ بھی عقلانیت سے دور ہے، دشمن چاہتا ہے کہ اسی جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرلے۔دشمن سوشل میڈیا سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جو باشعور لوگوں کیلئے تو مفید پلیٹ فارم ہے جبکہ بے شعور اور جذبانی لوگوں کیلئے تباہی کا باعث ہے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھی جن لوگوں نے توہین کی انہیں چھوڑ دیا گیا، گزشتہ برس کے مجرموں کو اگر سزا مل جاتی تو دوبارہ کسی کی جرات نہ ہوتی، مگر یہ نظام مجرموں کو سزا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسا ماحول بنائیں کہ خائن کو آگ لگانے کی جرات ہی نہ ہو۔ ایسا ماحول بنائیں کہ سٹیج جو جب کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہرے کرے اسے فورلاہور( )مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی کا عفریت دوبارہ سر اُٹھا رہا ہے، دہشت گردی کی کمر توڑنے دعوے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کی طرح امسال بھی محرم الحرام سے قبل فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے، تکفیری و ناصبی اپنا اثر دکھا رہے ہیں، ایک ویڈیو وائرل کی گئی ہے جس میں آئمہ اطہارؑ کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ گزشتہ برس سیدہ کائنات کی شان میں گستاخی کی گئی جس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی جس سے یہ آگ مزید پھیلی، جس کے بعد ذمہ دار علماء نے کردار ادا کیا اور آگ کو قابو کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مزاج جذباتی و احساساتی ہے، کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی جاتی بلکہ متاثرین بھی دشمن کے ایجنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں، مذہبی طبقہ بھی عقلانیت سے دور ہے، دشمن چاہتا ہے کہ اسی جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر وہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کرلے۔دشمن سوشل میڈیا سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جو باشعور لوگوں کیلئے تو مفید پلیٹ فارم ہے جبکہ بے شعور اور جذبانی لوگوں کیلئے تباہی کا باعث ہے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس بھی جن لوگوں نے توہین کی انہیں چھوڑ دیا گیا، گزشتہ برس کے مجرموں کو اگر سزا مل جاتی تو دوبارہ کسی کی جرات نہ ہوتی، مگر یہ نظام مجرموں کو سزا دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں ایسا ماحول بنائیں کہ خائن کو آگ لگانے کی جرات ہی نہ ہو۔ ایسا ماحول بنائیں کہ سٹیج جو جب کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہرے کرے اسے فوری جواب دیں، تو یہ سلسلہ رک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکابرین مل بیٹھ پر فضا کو پرامن بنائیں اور حکومت پر دباو ڈالین کہ مجرموں کو وقت پر گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا، انہیں باعزت بری کیوں کر دیا جاتا ہے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں برطانوی نظام عدل نافذ ہے، اس کا عمل ہی اتنا طویل ہے کہ انصاف مل ہی نہیں سکتا، وکیل جو مجرموں کو بھی بچا لیتے ہیں۔سب سے پہلے انہیں پھانسی چڑھایا جائے، جب انصاف کا نظام مضبوط ہو گا تو جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
ی جواب دیں، تو یہ سلسلہ رک جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اکابرین مل بیٹھ پر فضا کو پرامن بنائیں اور حکومت پر دباو ڈالین کہ مجرموں کو وقت پر گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا، انہیں باعزت بری کیوں کر دیا جاتا ہے۔ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں برطانوی نظام عدل نافذ ہے، اس کا عمل ہی اتنا طویل ہے کہ انصاف مل ہی نہیں سکتا، وکیل جو مجرموں کو بھی بچا لیتے ہیں۔سب سے پہلے انہیں پھانسی چڑھایا جائے، جب انصاف کا نظام مضبوط ہو گا تو جرائم خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں