21

سندھ حکومت کے تمام منصوبوں کا حشر ہمارے سامنے ہے، فرخ حبیب کا واپڈا ہاﺅس میں کے فور منصوبے کے حوالے سے ایم او یو کی تقریب سے خطاب

اسلام آبا:وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے تمام منصوبوں کا حشر ہمارے سامنے ہے، ایک نالہ صاف نہ ہونے سے ہر سال کراچی ڈوب جاتا ہے، ایسے میں سندھ حکومت کیسے اتنا بڑا پراجیکٹ K-4بنا سکتی ہے؟ کراچی کے عوام کئی دہائیوں سے ٹینکر مافیا کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں، کراچی کے عوام کا استحصال روکنے کے لئے کے۔فور منصوبہ معاون و مددگار ثابت ہوگا، وزیراعظم عمران خان نے کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کے تحت کے۔ فور منصوبہ واپڈا کے حوالے کیا، اکتوبر 2023 میں K-4 منصوبہ مکمل ہونے پر کراچی کے عوام کو650 ملین گیلن پانی اضافی مل سکے گا۔ وہ جمعرات کو واپڈا ہاﺅس میں کے فور منصوبے کے حوالے سے ایم او یو تقریب سے خطاب کررہے تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ واپڈا کے پاس اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس نوعیت کے منصوبے بروقت مکمل کرسکے، صلاحیت نہ ہونے، عدم توجہی اور نااہلی کی وجہ سے یہ منصوبہ کئی سالوں سے کھٹائی کا شکار تھا، ہماری سمت درست ہے، وزیراعظم عمران خان کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کے تحت کراچی کے لوگوں کو ہر ممکن سہولیات دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، سیاستدان کا فوکس آئندہ انتخاب پر ہوتا ہے، عمران خان وہ عظیم لیڈر ہیں جو آنے والی نسلوں کے لئے ڈیمز بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ70 سالوں میں 13 ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بنے، عمران خان 10 سالوں میں اتنا پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں، پاکستان کے عوام کو سستی بجلی دینے کے لئے 10 ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 45 فیصد ایمپورٹیڈ فیول پر بجلی بنانا پڑرہی ہے یہ انوائرمنٹ فرینڈلی بھی نہیں، ماضی میں سستے بجلی گھر نہ بنا کر مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا پر دنیا کے سرمایہ کار اعتماد کررہے ہیں، 500ملین ڈالر کے گرین یورو بانڈ پر6 گنا زائد 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سامنے آئی۔انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کے یہ منصوبے پاکستان کے سٹریٹجیک اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی فلاح وبہبود کے منصوبے بالائے طاق ہوکر مکمل کرنا ہونگے۔ چیئرمین واپڈا جنرل(ر) مزمل نے کہا کہ کراچی کے عوام کو 50 فیصد صاف پانی کی قلت کا سامنا ہے، کے فور منصوبے میں تاخیر کی وجوہات میں ڈیرائن اور گراﺅنڈ سروے میں کمزوریاں تھیں، اب منصوبے کی ری ڈیزائننگ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے 121 کلومیٹر علاقے میں پائیدار، صاف اور محفوظ پانی پہنچائیں گے، آسٹریا کمپنی آئی ایل او کنسلٹنسی ،جامع پلان اور کوآرڈینیشن کی خدمات سر انجام دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق، سپریم کورٹ اور سندھ حکومت کی جانب سے کراچی واٹر سپلائی منصوبے کے فور کے حوالےپر اعتماد کا شکریہ اداکرتے ہیں۔ آسٹریا کے سفیر نکلس کیلر نے کہا کہ واپڈا ایک بہترین ادارہ ہے جو 50 سال سے اچھا کام کررہا ہے، ہماری کمپنی آئی ایل او پر اعتماد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر واپڈا اور آسٹریا کمپنی آئی ایل او کے مابین کے۔فورمنصوبے کی کنسلٹنسی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں