25

قومی سلامتی کے معاملہ ذاتی شرائط نہیں رکھنی چاہییں ، جو امریکا کو” ناں“ کر سکتا ہے اسے کوئی طاقت بلیک میل نہیں کرسکتی ،پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر کام کر رہے ہیں ،فرخ حبیب

لاہور:وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ عمران خان کی ڈکشنری میں بلیک میل کا لفظ نہیں ، جو امریکا کو” ناں“ کر سکتا ہے اسے کوئی طاقت بلیک میل نہیں کرسکتی ، کس پی ڈی ایم کی بات کریں ، ایک جلسوں والی اور دوسری پاﺅں پکڑنے والی ہے ، اسحاق ڈار شریف خاندان کی دولت بڑھانے کی معیشت چھوڑ کر شاہد خاقان عباسی کے طیارے پر فرار ہوئے،فضل الرحمان کا مسئلہ ایزی لوڈ ہے ، انھیں مسترد کیا ہوا ہے ،پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر کام کر رہے ہیں اوراس سلسلہ میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں، آئی ٹی این ای میں ساڑھے10ہزار درخواستیں آئیں ،فیصلوں کی شرح بہت کم ہے ، ن لیگ کے دور میں فیصل آباد کو ٹیکسٹائل کا قبرستان بنا دیا گیا ،ہم نے بجلی ،گیس کی قیمتیں کم کیں ، انڈسٹری کو ریلیف دیا ،آج فیصل آباد میں تمام شعبے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ،2018میں ن لیگ 24ارب اور آج ہم سروسز سمیت ایکسپورٹس کو 31ارب ڈالر تک لے آئے ہیں، ترسیلات زر اس کے علاوہ ہیں ،، چچا بھتیجی کی جب تک صلح نہیں ہوتی تب تک کسی کی نہیں چلنی۔ وہ پیر کو لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ جب ہمیں ملک ملا تو اس میں جرمنی ،فرانس، چین جیسی معیشت نہیں ملی،صرف 15دن کے ریزورموجود تھے ،عمران خان نے حالات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے چیلنج کو قبول کیا ،جی ڈی پی ڈیڑھ فیصدرہنے کی پیشن گوئی کی گئی تھی ، ہماری معیشت 4فیصد پر ہے ،ایکسپورٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں 2016تا2018 کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ نہیں ہوا ، 19ارب ڈالر پر منجمد تھا ، ہماری حکومت میں ترسیلات زر 29ارب ڈالر سے زائدہوچکی ہیں۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ عمران خان وہ وزیراعظم ہیں جو اپنا فلیٹ بیچ کر پیسہ پاکستان لائے ہیں، عمران خان پر کووڈ۔ 19کے دوران مکمل لاک ڈاﺅن کا پریشر تھا لیکن انہوں نے اپنی حکمت عملی کے تحت معاملات چلائے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 60لاکھ خاندانوں کو اوپر اٹھانے کا منصوبہ لیکر آئے ہیں ،5لاکھ روپے کاروبار کے لئے بلاسود قرضے ، گھر کی چھت کے لئے 20لاکھ کے بلاسود قرض دیئے جائیں کے ،100ارب سے زائد کی کم آمدن گھروں کی درخواستیں موصول ہوئیں ،بینکوں نے38ارب کے قرض منظورکر لئے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کی ترجیحات میں ملک بھر کے پریس کلبز اور صحافتی برداری کے ساتھ رابطے کو موثر بنانا ہے ، صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے کردار ادا کرنا ہے ، بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں صحافیوں کو ہاﺅسنگ کے منصوبوں میں شامل نہیں کیا گیا ، اس پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے ،کوشش ہے کہ ایل ڈی اے سٹی فیز ٹو میں جن کو پہلے پلاٹ نہیں ملے ان کا کوٹہ مختص کریں ، حکومت نے ہیلتھ کارڈ کے لئے 60ارب روپے مختص کیے ہیں ،اس میں صحافتی برادری کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات اور پریس کلبز کا چولی دامن کا تعلق ہے ،پریس کلب ہمارا اپنا گھر ہے ، ہمیں اس جگہ پر پہنچانے میں اس تاریخی پریس کلب کا بڑا کردار ہے ، پنجاب یونیورسٹی سے سٹوڈنٹ پولیٹیکس کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل حل کر رہے ہیں ،سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بنا رہے ہیں، نالہ لئی پر ایکسپریس وے بنا رہے ہیں،پنجاب کی تمام آبادی کی ہیلتھ انشورنس کرنے جارہے ہیں، کے پی کے میں ہیلتھ کارڈ سے کثیر تعداد میں لوگ مستفید ہوئے ہیں۔ وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا کہ نیشنل ایگریکلچر ٹرانسفرمیشن پلان لے کر آئے ہیں، ماضی میں خوردرنی تیل ، دالیں باہر سے منگوارہے ہیں لیکن اس پلان سے اس ضمن میں مدد ملے گی ، زراعت سے خوراک پروگرام تک پیدوار بڑھائیں گے ، پہلی بار گنے کے کسان کو 100ارب اضافی ملا ہے ،زیتون کی پیدوار کے لئے ایک ارب روپے بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مہنگائی پچھلے 10سالوں کا ریکارڈ توڑ چکی ہے ،لیکن ہماری کوششوں سے اس مہنگائی کا زیادہ اثر پاکستان کے عوام پر نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں مہمند ڈیم پر 35فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ، داسو ڈیم ، دیامر بھاشا ڈیم 4500میگا واٹ کامنصوبہ ہے ، 13ملین ایکٹر فٹ پانی ذخیرہ ، آنے والے 10سالوں میں ایک کروڑ 30لاکھ ایکٹر زمین سیراب ہوگی ،اپوزیشن بچگانہ سیاست سے باہر نکل کر حقیقت کی سیاست کرے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر انھیں انتخابی اصلاحات پر دعوت دی ،اگر اب بھی یہ نہیں آتے تو اس کا مطلب ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عوام سے جو وعدے کیے وہ پورے کریں گے، آئندہ کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 8مرتبہ پیپلز پارٹی اور 3 دفعہ مسلم لیگ ن آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال 3412ارب صوبوں کو این ایف سی کی مد میں جائے گی ،128ارب سندھ کو جائے گا جو غیر ترقیاتی پروگرام پرخرچ ہوگا ،93ارب تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہوں گے ،پنجاب کو 328ارب اضافی ملے گا جس میں 28فیصد نان ترقیاتی پروگرام پر خرچ ہوگا ،ہم وہ کام کر رہے ہیں جو معیشت میں نظم پیدا کرے اور کریڈٹ کارڈ اکانومی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی سے صحافیوں کے لئے جرنلسٹ پروٹیکشن بل لائے ، اس کے راستے میں کاوٹیں دور کیں گئیں ،بلاول کو امر یکا جانے میں کیا جلدی ہے ،پہلے وہ انسانی حقوق قائمہ کمیٹی میں صحافیوں سے متعلق بل کو منظور کریں ،ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں ، رائے میں کسی فریق کی دل آزاری نہ ہو ، پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی پر کام کر رہے ہیں، تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر رہے ہیں، آئی ٹی این ای ساڑھے10ہزار درخواستیں آئیں ،فیصلوں کی شرح بہت کم ہے ،پی ایم ڈی اے میں میڈیا کونسل لارہے ہیں ، پی ایف یو جے ،پریس کلبز، سی پی این ای ، پی بی اے سمیت سب سے ساتھ مشاورت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریویلج بل کے حوالے سے سپیکرپنجاب اسمبلی سے بات ہوئی ہے، متنازعہ شقیں واپس لیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس سے قبل احتساب کوئی ایشو ہوتا ہی نہیں تھا ، کرپشن معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہوتی ہے ، کرپشن کو سسٹم پکڑے گا۔انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت نے پوری قومی سیاسی قیادت کو یکجا کر کےقومی سلامتی پر اعتماد میں لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کا مسئلہ ایزی لوڈ ہے ،ابھی ان کا ایزی لوڈ ختم ہے اسی لئے ان کی بیٹری بھی ختم ہے، عوام نے خود انھیں مسترد کیا ہوا ہے ،فضل الرحمان مریم جیسے لوگوں کی امامت کرتے رہے گے ، فضل الرحمان حلوہ کھائیں اور سکون کریں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں قومی سلامتی کامعاملہ ہو وہاں ذاتی شرائط نہیں رکھنی چاہیے۔\932

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں