43

لچڑ چڑچل کا ویژن

انا اور ہٹ دھرمی کی تیسری جنگ عظیم جاری تھی۔۔ملک میں قانون اور انسانی حقوق کی لاشیں چوک چوراہوں اور شاہراہوں پر بکھری پڑی تھیں۔ہرطرف سے سڑاند اٹھ رہی تھی۔ ایک شخص نے ملکی صورتحال پر پریشانی کا اظہار کیا اور استفسار کیا۔۔کیا ان حالات میں ہم جنگ جیت پائیں گے؟
’’لچڑ چڑچل‘‘ نے سوال کرنے والے پر الٹا سوال داغ دیا۔۔۔پوچھا پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تمام جج اور عدالتیں ہمارے کنٹرول میں ہیں؟
پھر یہ بتاؤ کہ کیا ملک بھر میں آر او لگائے جانے والے بیوروکریٹ ہمارے احکامات پر مکمل عملدرآمد کررہے ہیں؟
کیا پولیس کی وردی میں غنڈہ گردی جاری ہے۔۔۔کیا انتخابی امیدواروں سے کاغذات نامزدگی چھیننے میں کوئی غفلت تو نہیں ہوئی؟
کیا آئین کی مقدس کتاب کے صفحات پر رکھ کر سموسے اور پکوڑے فروخت کیے جارہے ہیں؟
سوالی نے جواب دیا۔۔۔حضور بالکل ایسا ہی ہے۔۔۔سب کچھ حضور کی منشا کے عین مطابق ہورہا ہے۔۔۔۔
سر’’ٹُن ٹُن چڑچل‘‘ نے ایک معنی خیز قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا۔۔پھر بے فکر ہو جاؤ۔۔ملک رہے نہ رہے۔۔۔ریاست بے شک بھاڑ میں جائے لیکن انا اور ہٹ دھرمی کی جنگ میں فتح ہماری ہی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں