53

ماورائے عدالت

مبیّنہ طور پر فی الحال یہ ایران کی مجبوری تھی کہ وہ اپنی سلامتی کیلئے امریکی و اسرائیلی جاسوسوں اور تنخواہ داروں کے ٹھکانوں پر حملے کرے۔ ایران کے مطابق ان ٹھکانوں سے ایران کی سکیورٹی فورسز اور عوام کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ پاکستانی حکام کی طرف سے بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم نہیں کئے گئے تھے۔ 17 جنوری 2024ء کو پاکستانی سفیر کو تہران سے واپس پاکستان بلا لیا گیا، نیز پاکستان میں ایرانی سفیر کو داخلے سے روک دیا گیا۔ 18 جنوری 2024ء کو پاکستان نے جوابی کارروائی کرکے ایران کے اندر میزائل فائر کیے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان نے سراوان کے علاقے میں میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ ایران کا سراوان نامی علاقہ پاکستانی سرحد سے بچاس کلومیٹر ایران کے اندر ہے۔ یہ تقریباً اتنا ہی فاصلہ ہے، جتنا پاکستان کی کوہ سبز کا پاک ایران سرحد سے بنتا ہے، جہاں پر ایران نے میزائل اور ڈرون حملہ کیا تھا۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس حملے کا وہی جواز بتایا ہے، جو ایران نے پیش کیا تھا۔ دفتر خارجہ نے حملوں کے جواز میں کہا ہے کہ پاکستان کئی سال سے ایران میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، لیکن ایران نے تعاون نہیں کیا اور نام نہاد “سرمچار” بے گناہ لوگوں کا خون بہاتے رہے۔ قارئین کی توجہ اس نکتے پر بھی رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ صورتحال اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے پانچ سالہ معاہدے پر دستخط کرنے کے صرف دو دن بعد پیدا ہوئی ہے۔ یہ جوابی حملہ اپنے ہمراہ چند پیغام رکھتا ہے، جن میں سے تین مندرجہ ذیل ہیں:1۔ پہلا پیغام یہ کہ بلوچستان میں عوام کیلئے جو پہلے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں، وہ خشک نہیں ہوں گی۔ بڑے پیمانے پر ایرانی تیل کی اسمگلنگ اور مسافر بسوں کے ذریعے طرح طرح کی اسمگلنگ میں کمی بیشی سے غریب عوام کی جیب کی صورتحال حسبِ سابق رہے گی۔2۔ اہالیانِ بلوچستان کی طرح زائرین کی صحت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پہلے بھی تفتان و ریمدان بارڈر کا عملہ لوگوں کے ساتھ کون سا عزت و احترام کے ساتھ پیش آتا تھا یا عوامی شکایات پر کوئی کان دھرتا تھا، جو اب ویسا نہیں ہوگا، لہذا زائرین بھی پریشان نہ ہوں۔3۔ اس صورتحال کا سارا فائدہ اُنہیں ہوگا جن کی پانچوں اُنگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہے۔ یہ واضح ہے کہ اب تک امریکی و اسرائیلی پراکسیز کی جانب سے ایران کسی براہِ راست حملے سے محفوظ تھا۔ جہادِ افغانستان کے بعد ہمیں ڈالر بٹورنے کا ایک اور سنہری موقع ہاتھ آگیا ہے۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے ہاتھ دھو رہے ہیں۔اس صورتحال میں عوام کو ہلکان نہیں ہونا چاہیئے۔ لوگ سوشل میڈیا پر جتنے مرضی ہے جنگی نعرے لگائیں، آخر میں عوام کو نُچڑی ہوئی ہڈیاں ہی ملنی ہیں۔ عام لوگ پتہ نہیں کب سمجھدار ہونگے؟ گذشتہ سالوں میں دہشت گردوں نے پاکستان میں اسّی ہزار نہتّے انسان مار دیئے، لیکن ہمارے ملکی اداروں کا بیانیہ یہی ہے کہ ہمیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں، مدارس اور مسلک کا علم نہیں۔ اسامہ بن لادن پاکستان میں قتل ہوا، لیکن ہمارے سکیورٹی اداروں کا بیانیہ یہی رہا کہ ہم پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لا علم تھے۔ گذشتہ کئی سالوں سے تفتان اور ریمدان بارڈر پر جو مسافروں، علمائے کرام اور زائرین کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ سب ہمارے ملکی اداروں کے علم میں بالکل نہیں ہے۔اسی طرح پارہ چنار میں کتنے ہی برس سے جو اہل تشیع کا ہولوکاسٹ جاری ہے، اس حوالے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مذہب کا ملکی اداروں کو کچھ علم نہیں۔ آئے روز گلگت و بلتستان کے مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن قاتلوں کے ٹھکانوں اور مدارس و مسلک کا ہمارے سکیورٹی اداروں کو کوئی علم نہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے واضح اور مطلوبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر میزائل داغنے کے بعد پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے تہران سے کہا کہ وہ اسلام آباد کو پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کرے۔ یعنی ہم تو لاعلم ہیں آپ بتائیں۔اب شرم سے ہمیں ڈوب مرنا چاہیئے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف ایران نے پاکستان کے اندر کارروائی کر دی اور ہمارے اداروں کا بیانیہ یہ ہے کہ ہمیں اس کارروائی کا علم نہیں تھا، حالانکہ ہر ذی شعور یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان جیسے ہائی سکیورٹی اور ایٹمی طاقت کے حامل ملک میں اداروں کی باہمی ہم آہنگی اور تعاون کے بغیر ایسی کارروائی ممکن ہی نہیں۔۔۔ تاہم پھر وہی بیانیہ کہ ہم لاعلم تھے۔ یہ لاعلمی ہر پاکستانی کیلئے باعث شرمندگی ہے۔ ماورائے عدالت لوگ لاپتہ اور اغوا۔۔۔ ہم لا علم ہیںٹارگٹ کلنگ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، تفتان و ریمدان بارڈر پر سرکاری اہلکاروں کی رشوت و بداخلاقی ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، پارہ چنار میں شیعہ کا ہولو کاسٹ۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، گلگت و بلتستان کے راستے میں مسافروں کا قتلِ عام۔۔۔ ہم لا علم ہیں، احسان اللہ احسان کا فرار۔۔۔ ہم لاعلم ہیں۔پورے ملک میں انسان کش کالعدم تنظیموں کی کارروائیاں اور شدت پسندی کو فروغ دینے والے مدرسے۔۔۔ ہم لاعلم ہیں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے لے کر انسانی اسمگلنگ تک سب کچھ۔۔۔ لیکن ہم لاعلم ہیں، اب ایرانی پاکستان کے اندر جا کر انسانیت کے دشمنوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر آگئے اور ہمارا بیانیہ پھر وہی ہے کہ ہم لاعلم ہیں۔۔۔۔بھائی اگر آپ اتنے ہی لاعلم ہیں تو پھر مولانا منظور مینگل صاحب سے پوچھ لیجئے کہ دہشت گردوں کا مذہب، مسلک، اور شجرہ نسب کیا ہے، نیز اُن کے ٹھکانے کہاں کہاں ہیں اور کون انہیں ٹریننگ دے کر پاکستان سے ایران بھیجتا ہے؟ ویسے یہ مولوی منظور مینگل کون ہے؟ بعید نہیں کہ ہمارے ادارے یہ کہہ دیں کہ ہمیں تو اُس کا علم نہیں، ہم تو اس سے لا علم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں