50

قاضی فائز عیسیٰ; عظیم باپ کا عظیم بیٹا

چیف جسٹس قاضی قاضی فائز بلاشبہ ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کیا قاضی فائز عیسیٰ کے والد قاضی محمد عیسیٰ نے پاکستان بنانے اور پھر بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا قاضی محمد عیسیٰ بلوچستان کے پہلے شخص تھے جنھوں نے انگلینڈ اور ویلز ( مڈل ٹیمپل) سے انکی دعوت پر خطاب کیا لندن جب واپس اۓ تو آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر محمد علی جناح نے انہیں مسلم لیگ بلوچستان کا صدر مقرر کیا قاضی محمد عیسیٰ بلوچستان سے واحد رہنما تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر رہے قاضی فائز عیسیٰ کے والد کا پاکستان پر یہ بھی احسان ہے کہ انھوں نے ریاست قلات کو بلوچستان کو پاکستان میں شامل کرنے پر راضی کیا قاضی فائز عیسیٰ کے دادا قاضی جلال الدین پاکستان کے قیام سے قبل ریاست قلات کے وزیراعظم تھے یہی وجہ ہے کہ قاضی خاندان نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کو یقینی بنایاپاکستان کی کرنسی کے اجراء میں بھی قاضی فائز عیسیٰ کے والد کا اہم کردار ہے کہا جاتا ہے کہ قاضی محمد عیسیٰ کی دعوت پر جب بانی پاکستان قائد اعظم بلوچستان تشریف لائے تو بلوچ سرداروں کے ہمراہ انہوں نے قائد اعظم کو سونے میں تولا اور پھر یہی سونا بذریعہ ترین کویٹہ سے کراچی اور پھر برطانیہ پہنچا جہاں سے پھر پاکستان کی کرنسی جاری ہوئی بانی پاکستان قائد اعظم کو کراچی میں گھر بھی قاضی فائز عیسیٰ کے والد نے ریاست قلات سے لیکر گفٹ کیا تھا قاضی فائز عیسیٰ پر انکے والد کی تربیت کا بے پناہ اثر ہے جبکہ انکی والدہ سادیہ عیسیٰ بھی سوشل ورک اور فلاحی کاموں کے لیے اپنی شہرت رکھتی ہیں، کئی ہسپتالوں کی بورڈز کی بھی وہ ممبر رہیں۔ والدین کی تربیت اور خاندانی عظمت کا اثر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہر بااتم موجود ہے، انہوں نے والدین سے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے اور مشکل ترین وقت میں بھی ڈٹ کر مزاحمت کرنا سیکھا ہے قاضی فائز عیسیٰ کو آئین کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری کا پاکستان کا علمبردار سمجھا جاتا ہے اس لیے جب انکے خلاف تحریک انصاف کی حکومت میں صدارتی ریفرنس لایا گیا تو انہوں نے آئین کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے آخری دم تک لڑنے کا فیصلہ کیا قاضی فائز عیسیٰ کا چونکہ دامن صاف تھا تو انہوں نے پروپیگنڈا، جھوٹ اور فریب کو سچ سے شکست دینے کی ٹھانی اور پھر سب نے دیکھا کہ وہ فتحیاب ہوۓ پاکستان کی پوری عدالتی تاریخ میں وہ واحد جج ہیں جنہوں نے اپنے اور خاندان کے تمام اثاثوں کا ریکارڈ پبلک کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر ڈالا ہےچیف جسٹس پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ اس کوشش میں ہیں کہ عدالتی نظام میں نہ صرف درستگی آۓ بلکہ تاریخی غلطیوں کو بھی مان کر انکو درست کیا جائےاس لیے مختلف کیسز کی سماعت کے سماعت کے دوران پاکستان کی تاریخ کی درستگی کے لیے وہ بار بار ایسے ریمارکس کثرت سے دیتے ہیں جس سے ماضی کی تاریخی غلطیوں کی تلافی ہوسکےتحریک انصاف کو تو ان سے خدا واسطے کا تو بیر ہے ہی لیکن انتخابی نشان بلے والے کیس کے بعد تو انکے خلاف پروپیگنڈا کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ہے ان عقل کے اندھوں کو یہ نہیں پتہ کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئین کی حکمرانی اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے کبھی نظریہ ضرورت کے حامی نہیں ہوسکتےپوری قوم نے سپریم کورٹ کی لائیو سٹریمنگ کارروائی میں خود سنا کہ چیف جسٹس تحریک انصاف کے لیے ہر ممکن گنجائش نکالنے کی کوشش کی لیکن وہ کیا کرسکتے تھے جب خود تحریک انصاف نے اپنی سیاسی خود کشی کی ہوئی تھی اگر ایک بھی کوئی دستاویز یا جواز دے دیا جاتا تو شاید وہ قانونی طور پر اسے جسٹیفائی کرکے تحریک انصاف کو راستہ دیتے لیکن تحریک انصاف کے یکسر انکار کے بعد چیف جسٹس کہنے پر مجبور ہوئے کہ پی ٹی آئی نے خود پر خود کش دھماکہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں