42

گلگت بلتستان سراپا احتجاج ھے

ان دنوں گلگت بلتستان سردیوں کے سخت ترین سرد موسم کی لپیٹ میں ہے۔ موسمیاتی تغیر کا حیرت انگیز اثر یہ ہے کہ دسمبر کا مہینہ بالائی علاقوں اور پہاڑوں پر برف باری کے بغیر گذر گیا۔ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ کم از کم چالیس پچاس سال ماضی تک یاد نہیں کہ سردیوں کے اس ٹھنڈے موسم میں کبھی برف نہیں پڑی ہو۔ ماہرین موسمیات اس صورتحال کو تشویش ناک قرار دے رہے ہیں اور اس لہر کو خشک سالی اور زرعی اجناس کی پیداوار میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ویسے بھی گلگت بلتستان کا  اکثریتی علاقہ پہاڑوں اور یک فصلی زمینوں پر مشتمل ہے ایسے میں خدا ناخواستہ کھیتی باڑی کے لئے پانی کی کمی ہوئی تو فوڈ سیکیورٹی کا مشکل مرحلہ درپیش ہوسکتا ہے۔
موسم کی یہ بے اعتدالی اپنی جگہ مگر دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور ہر بڑے شہر اور قصبات میں عوامی دھرنے دیے جارہے ہیں۔ سخت ٹھٹھرتے موسم میں بزرگ، جوان اور بچے بھی  کھلے آسمان تلے صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔ بلتستان کے مرکزی شہر سکردو کے قلب میں واقع یادگار شہداء میں گزشتہ ایک ھفتے سے دھرنا اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ وہی چوک ہے جس پر بنائی گئی یادگار پر لگی تختیوں پر ان شہداء کے نام کندہ ہیں جنہوں نے 1947-48 میں بے سرو سامانی میں جنگ آزادی لڑی، جانوں کا نذرانہ دیا اور علاقے کو آزاد کر کے پاکستان کے حوالے کیا۔ آج ستر سال بعد انہیں کی نسلیں اور ورثا گندم کے لئے نوحہ کناں ہیں۔
اس سارے مخمصے کا آغاز اس وقت ہوا جب صوبائی حکومت کی سکردو میں منعقد ایک کابینہ اجلاس میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا اور گندم کی فراہمی کو ایک حکومتی سروے کے ڈیٹا کے مطابق میں تقسیم کرنے کا عندیہ دیا گیا۔ عوام نے اس فیصلے کو یکدم مسترد کیا اور سروے کا بائکاٹ کیا یوں حکومت عوامی سطح پر ڈیٹا حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی۔ کابینہ کے فیصلے کے بعد سے ہی خطے میں بے چینی پھیلی گئی تھی اور جلسہ جلوس کا آغاز ہوچکا تھا مگر مورخہ 26 دسمبر 2023 کو حکومت کی جانب سے گندم قیمت کے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد احتجاج میں تیزی آگئی ہے۔
ملک میں جاری ہوشربا مہنگائی کا اثر گلگت بلتستان میں کئی گنا اور ہوجاتا ہے کیونکہ خوردونوش کا سامان اور دیگر اشیاء ضرورت دوسرے شہروں سے ٹرکوں میں لاد کر لائی جاتی ہیں جس پر ٹرانسپورٹ چارجز بہت زیادہ لگتے ہیں۔ خود محکمہ شماریات پاکستان کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق  ملک میں مہنگائی کی شرح اعشاریہ (CPI) اس وقت  تاریخ کی سب سے بلند سطح پر ہے اور اس کا ابھار 38.5 فیصد لگایا گیا ہے۔ ایسے میں گلگت بلتستان کا خطہ جو جغرافیائی ساخت اور دورافتادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ مشکلات کا شکار ہورہا ہے۔
علاقے کی معاشی محدودیت اور انتظامی و آئینی قضیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان میں جہاں جاگیرداری نظام کو ختم کیا تھا وہیں پر کئی اشیاء خوردونوش پر سبڈی کا فیصلہ کیا تھا جس میں رعایتی نرخوں پر گندم کی فراہمی پہلی ترجیح رہی۔
یہ انتظام گزشتہ سال تک من و عن چل رہا تھا لیکن اب جب صوبائی حکومت وفاق کے دباؤ پر سبسڈی کو ٹارگٹڈ کرنا چاہتی ہے اور ساتھ ساتھ گندم کی فی بوری قیمت میں بتدریج اضافہ جس کی وجہ سے یہ ہلچل شروع ہوئی ہے۔
اس وقت وفاق میں نگران حکومت ہے جس کا معیاد بھی بس چند دنوں کا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی چوں چوں کا مربہ ہے لہذا عوام کی خاص شنوائی نہیں ہو پارہی ہے۔
گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان کے مختلف مسائل اور سلگتے ایشوز پر جس توانا آواز نے پہچان بنائی ہے وہ سول سوسائٹی کی جانب سے “عوامی ایکشن کمیٹی” کے نام سے سامنے آئی ہے۔ اس ایکشن کمیٹی کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے نہ اب تک اس کا کوئی اظہار کیا گیا ہے لہذا ہر ایشو پر ان کی کال پر عوام بلا تفریق لبیک کہہ رہے ہیں اور متحد ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی حکومتوں عہدیداروں سے ایک دو نشستیں بھی ہوئی لیکن معاملات اٹک گئے اور کوئی مشترکہ حل برآمد نہیں ہوسکا۔ اب دو جنوری سے عوامی ایکشن کمیٹی نے سارے گلگت بلتستان میں ہڑتال اور جلسہ جلوس کا اعلان کیا ہے جبکہ سکردو میں دھرنے کا سلسلہ کافی دن پہلے سے شروع ہوا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر جماعتوں کے حالیہ مشترکہ اجلاس میں جو گلگت میں منعقد ہوا اس کے اعلامیہ میں پندرہ نکات بطور چارٹر آف ڈیمانڈ کے طور پر پیش کئے گئے اور منظور ہونے کے بعد میڈیا کو جاری ہوئے۔ ان نکات میں جہاں بہت سی بنیادی ضروریات اور اہم پراجیکٹس پر کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے وہیں کچھ نکات خاص ہیں اور ان پر تبصرہ و تجزیہ نہایت اہم ہوگا۔
* گلگت بلتستان اسمبلی کو آئین ساز اسمبلی بنایا جائے
* علاقے کا جب تک آئینی تصفیہ نہ ہو اس وقت تک گندم، تیل، نمک اور دیگر اشیاء پر سبسڈی دی جائے
* دیامیر بھاشا ڈیم سے اسی فیصد رائلٹی
* قدرتی معدنیات کی لیز غیر مقامی سے منسوخ کر صرف مقامی افراد کے لئے لائسنس دینا وغیرہ ۔
گلگت بلتستان اسمبلی کا قیام 2009 کے گڈ گورننس آرڈر کے تحت عمل میں لایا گیا لیکن اس کی فعالیت محدود ہے۔ اس کے رول آف بزنس میں 62 کے قریب نکات رکھے گئے ہیں جو زیادہ تر معمولی حیثیت کے ہیں۔ اس اسمبلی نے آئینی حق جیسے کئی ایشوز پر درجنوں قراردادیں متفقہ رائے سے منظور کیں مگر وفاق کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ پائی۔ اب لوگوں میں یہ احساس پرورش پا رہا ہے کہ ان کے منتخب نمائندوں اور موجودہ اسمبلی کی کوئی حثیت نہیں لہذا  اگر علاقے کو اختیار دینا ہے تو اسمبلی کو آئین ساز ادارہ بنانا ہوگا۔ یاد رہے کہ آئین ساز اسمبلی صرف ایک بار کے لئے بنائی جاتی ہے اور آئینی معاملات کی منظوری کے بعد تحلیل ہو جاتی ہے۔ آذاد کشمیر کی ابتدائی آزاد حکومت کو بھی یہی اختیارات ملے تھے جس کے تحت اس نے آزاد کشمیر کے تمام معاملات پاکستان کے سپرد کئے تھے۔ دوسری مثال مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہے جب 1950 میں شیخ عبداللہ کی قیادت میں جو پہلی آئین ساز اسمبلی بنائی گئی تھی جس نے دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت وضع کیا تھا۔
کیا وفاق میں آنے والی 2024 کی نئی حکومت یہ اختیار دے گی یا گلگت بلتستان اسمبلی اپنے آپ کو آئین ساز اسمبلی میں از خود بدل سکتی ہے یہ میلن ڈالرز والا سوال ہے۔
گلگت بلتستان میں ایک اہم پراجیکٹ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر ہے جس پر ابھی کام جاری ہے۔ شروع میں ہی اس کے نام سے تنازع کھڑا ہوا کہ ڈیم تو چلاس کے حدود میں بن رہا ہے اور نام بھاشا رکھا جارہا تھا۔ اس پراجیکٹ میں تیس گاؤں زیر آب آرہے ہیں اور چالیس ہزار تک کی آبادی متاثر ہورہی ہے۔ اس منصوبے کی بجلی پیداوار سے جو آمدنی ہوگی اس کی تقسیم پر بھی سوالات موجود ہیں۔ بجلی کی رائلٹی سے متعلق چلاس کے بشیر احمد خان کی درخواست پر سپریم اپیلٹ کورٹ نے 2010 میں فیصلہ دیا ہے کہ یہ گلگت بلتستان کا تخصیصی حق ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے جو چوتھا اہم نکتہ اٹھایا ہے وہ خطے کے منرلز اور معدنیات ہیں جس پر ہر طرف سے نگاہ غلط ڈالی جارہی ہے۔ گلگت میں بیٹھا کوئی بھی سیکریٹری ایک جنبش قلم سے خطے کی معدنیات کو کسی کے نام پر بھی لیز میں دے دیتا ہے یوں علاقے کے اہم وسائل دوسروں کے ہاتھوں میں جارہے ہیں اور مقامی لوگ معاشی استحصال کا شکار ہورہے ہیں۔ علاقے کی مقامی افراد جو منرلز اور معدنیات پر کام کرہے ہیں ان کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کے لئے مشکل شرائط رکھ کر وسائل غیر مقامی سرمایہ داروں کے ہاتھ فروخت کیا جارہا ہے یوں قدرتی وسائل پر سے مقامی لوگوں کی ملکیت تبدیل کی جارہی ہے جو نہایت خطرناک ہے۔
جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے وہ پاکستان میں تو فقط تقریروں اور ایک آدھ دن منانے کی حد تک رہ گیا ہے۔ اس مسئلہ کو نہ تو اقوام متحدہ سیریس لے رہی ہے اور نہ ہی مسلم دنیا سمیت دیگر ممالک میں خاص توجہ پا رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان نہ تو سفارتی سطح پر اور نہ ہی ملکی سطح پر اس حوالے سے کوئی جامع پالیسی بنا سکا اور نہ ہی کوئی مربوط حکمت عملی وضع کی گئی جس کے ثمرات بتدریج حاصل ہوتے۔ اب تو مقبوضہ کشمیر میں موجود حریت اور دوسری لیڈر شپ بھی خاموش ہوتی جارہی ہے جس کا بین ثبوت مودی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر کمزور ردعمل کے طور پر دیکھا گیا۔  بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں اس آرٹیکل کے خاتمے کو درست اور جائز تسلیم کیا ہے اور پندت نہرو دور میں رکھی گئی شق 370 کو Temporary arrangements قرار دیا ہے۔ اب نئے انتظام کے تحت جموں وکشمیر الگ صوبہ جبکہ لداخ اور کارگل یونین ٹریٹری بنائی گئی ہے اور دونوں حصوں میں الگ الگ گورنر رہیں گے۔
ادھر گلگت بلتستان کو گزشتہ پچھتر سالوں سے مسلسل  کشمیر ایشو سے منسلک رکھا گیا ہے اور یہ خطہ باضابطہ کسی آئین کے تحت نہیں بلکہ جز وقتی لیگل فریم ورک آڈرز اور صدارتی حکم ناموں پر چل رہا ہے جن کو کس بھی دور میں نہ تو  قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا نہ ہی ایکٹ آف پارلیمنٹ بنایا گیا۔ آذاد کشمیر کو 1948 میں آئین ساز کونسل کے اختیارات ملے جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کا آئین بھی مرتب ہوا۔ اسی آزاد کشمیر کے سردار محمد ابراہیم ، چودھری غلام عباس اور پاکستان کے بے محکمہ وزیر مشتاق گورمانی کے دستخطوں سے 1948 میں گلگت بلتستان کا انتظام و انصرام پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ حالانکہ نہ تو متذکرہ دونوں کشمیر کی شخصیات گلگت بلتستان کے نمائندہ تھیں اور نہ ہی اس معاہدے کی آئینی و اخلاقی حیثیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان نے اپنی جنگ آزادی خود لڑی تھی اور رضاکارانہ طور پر خود کو پاکستان میں شامل کردیا تھا اس میں آزاد کشمیر کا کیا دخل تھا۔
ادھر پاکستان اب تک گلگت بلتستان کے حوالے سے گو مگو کی حالت میں ہے ساتھ ہی سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے 2019 کے فیصلے میں بھی گلگت بلتستان کی کوئی خاص داد رسی نہیں کی لہذا آئینی انتظام و انصرام دھند کی لپیٹ میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں