55

سکردو مصیبتوں کا مسکن

سردیوں کے شروع ہوتے ہی گلگت بلتستان خاص طور پر سکردو مصیبتوں کا مسکن بن جاتا ہےڈیم ہے لیکن بجلی نہیںدریائے سندھ بغل سے گزرتا ہے لیکن ہمارے کسی کام کا نہیںعوام کی ذہنی کیفیت یہ ہے کہ ہر دوسرا غریب شخص ذہنی ڈپریشن کا شکار ملز موجود ہیں لیکن عوام کیلئے گندم اور آٹا دستیاب نہیںکھانے پینے کی چیزوں کی تو بات ہی نہ کریں تو بہتر ہے کیونکہ پنجاب میں جو مرغی شائد وہاں کے جانور بھی کھانا پسند نہ کرتے ہوں وہ یہاں انسانوں کو کھلایا جاتا ہےڈیٹ ایکسپائری اور دو نمبر اشیاء تو معمولی سی بات ہے یہاں پر 10 نمبر کی کھانے کی چیزیں مرضی کی قیمت پر غلطی سےانسان کی شکل میں نظر آنے والے غریب عوام کو کھلانے کی وجہ سے اکثریتی آبادی دل کے مریض بن چکی ہےحفظان صحت سے عاری پانی پینے کی وجہ سے ہیپاٹائیٹس اور دوسری بہت سی بیماریوں کا شکار عوام روزگار کے بجائے ہسپتالوں کے چکر لگاتی نظر آتی ہےلیکن شکایت یا تقاضا کریں تو کس سے کریں صوبائی حکومت کی طرف دیکھوں تو وہ نہ بجلی پیدا کرنے کےحق میں ہیں اور نہ ہی سستی قیمت آٹا مہیا کرنے کے کیونکہ اگر وہ اس میں سنجیدہ ہوتے تو شہر سکردو کی بے بسی کا تماشہ دیکھتے ہوئے گزرتے دریائے سندھ پر ہائڈرو پاور کیلئے پروجیکٹ کی ابتدا نہ کر پائے تو کم از کم اسکے لئے کوئی لائحہ عمل ہی طے کرتے-عوام کے ووٹوں سے برسر اقتدار آئے نااہل ممبران اسمبلی کی طرف دیکھوں تو سوائے سہولت کاری اور چاپلوسی کے کچھ نظر نہیں آتا ، مراعات اور کرسی چھوٹنے کے ڈر سے ان میں زبان کھولنے کی ہمت نہیں اگر چہ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اقتدار اور کرسی وقتی ہے اور اسکے بعد انہوں نے انہی عوام میں لوٹ کر آنا ہے-وفاق سے تو توقع ہی رکھنا خیالی دنیامیں رہنے کے مترادف لگتا ہے کیونکہ وفاق اس صوبے کو ایک بوجھ کے علاؤہ کچھ نہیں سمجھتی اور خیرات کی شکل میں اتنا دینے پر راضی ہیں جس سے اس علاقے کے لوگوں کی سانسیں چلے باقی انکو عوام کے جینے یا مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ عوام کے پاس دو وقت کی روٹی کیلئے خرچہ کرنے کے پیسے نہیں اور یہ لوگ قیمتوں کو بڑھانے کے درپے نظر آتے ہیںاس وقت سکردو شہر کے وسط میں موجود ہرگسہ نالے میں پانی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پورے بلتستان کیلئے بجلی یہاں سے پیدا کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں سارا پانی ضائع جارہا ہے اور عوام لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔عمائدین علاقہ کی طرف سے متعدد بار نوٹس میں لانے کے باوجود ایڈمنسٹریشن اور دوسرے متعلقہ ادارے کسی کی سننے کیلئے تیار نہیں کیونکہ انہیں بجلی چاہئے عوام کے لئے پانی بچے یا نہ وہ انکا مسئلہ نہیںاگر یہی سلسلہ جاری رہا تو اپریل کے مہینے تک بجلی اور رواج آبپاشی تو دور کی بات پینے کے پانی کا بھی اللہ ہی حافظ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں