55

حسب حال!!،باقر حاجی

خطہ جنت نظیر بلتستان میں موسم سرما کی آمد آمد ہے۔ بچے بہت خوش ہیں کہ ان کے سکول بند ہو رہے ہیں اور مائیں پریشان کہ اب انہیں گھر پر ہی بچے سنبھالنے پڑیں گے۔ اس پریشانی کا حل نکالنے کے لئے اساتذہ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور بہت جلد کوچنگ سنٹرز کے قیام کی خوشخبری پر مبنی بڑے بڑے اشتہارات آویزاں کریں گے۔ ان اشتہارات میں وہ بچوں کی نالائقی کا ذمہ دار ان کے اپنے سکول کو ٹھہراتے ہوئے کوچنگ سنٹر کو اس کا بہتر نعم البدل کے طور پر پیش کریں گے۔ جب سکول لگیں گے تب یہی اساتذہ کوچنگ سنٹرز کی ناکامی، جز وقتی اساتذہ کی نالائقی اور بچوں کے بگاڑ پر نالاں نظر آئیں گے۔ انہی غلام گردشوں میں بندھے بچے دائرہ تعلیم میں جوق در جوق شامل ہوتے رہیں گے۔ پہاڑی علاقوں میں جاڑے کے موسم میں تین مہینے سورج کی بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ایسے میں دن چھوٹے اور راتیں طویل کر کے قدرت گلیشیرز کی زندگی کو دوام دیتی ہے۔ جدید دنیا ارتھ ڈے منانے کیلئے بیس منٹ سے ایک گھنٹہ بجلی بند رکھتی ہے اور زمین کے ساتھ محبت کا اظہار کرتی ہے۔ جدید دنیا اور ٹیکنالوجی سے نابلد ہونے کے باوجود بھی ہمارے ہاں محکمہ “پانی و بجلی” زمین سے عشق کا رشتہ نبھاتا ہے اور روزانہ ارتھ ڈے مناتے ہیں۔ انہیں تو ایکو فرینڈلی ایپروچ پر عالمی ایوارڈ ملنا چاہیئے۔ بجلی کا آنا جانا یوں تواتر و تسلسل سے لگا رہتا ہے گویا اب دل سے یہ پکار نکلتی ہے کہ؛جیسے تمہیں آتے ہیں نہ آنے کے بہانے ایسے ہی کسی روز نہ جانے کیلئے آ یہ بھی درست ہے کہ سردیوں میں مشینوں کیلئے پانی نہیں۔ مسئلہ پانی نہ ہونے کا نہیں، پانی پانی ہونے کا ہے، اکیسویں صدی میں بھی بجلی نہ ہونے پر صرف ایک بار ہم من حیث القوم شرم سے پانی پانی ہوجائے تو یقین کریں کبھی روشنی کی کال نہ پڑے گی۔ مگر اس کے لئے پہلے قوم کی ضرورت ہے، وگرنہ چلو بھر پانی ہی بہت ہے۔ پہلے پہل تو بجلی آنے اور نہ آنے سے بل پر فرق پڑتا تھا اب سیدھا سیدھا دل پر پڑتا ہے۔ بجلی پڑھائی، کاروبار اور آبادی میں اضافے پر بجلی بن کر گر رہی ہے۔ ہمارے ہاں اندھیرا ہے پر جہالت نہیں، اور ادباء ازل سے اندھیروں کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں اس لئے انہیں بھی سردیوں کی گھنیری راتیں خوب راس آتی ہیں۔ شعراء شعر جنتے ہیں اور ادباء شھر یلدا میں کتابوں کے مسودے کات لیتے ہیں۔ جانے اور لوگ ان راتوں کا کیا مصرف نکالتے ہیں مگر خوش بخت ہیں وہ جنہیں ان راتوں میں وصال یار میسر ہیں وگرنہ بقول داغ؛ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغجو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں اُرد گرد تو ٹیکنالوجی کی دنیا کی دھوم ہے۔ ہمسایہ ملک چاند کے سایہ دار آفق پر لنگر انداز ہو چکا ہے جہاں چاند پر پہلا قدم رکھنے والے بھی پہنچ نہیں پائے تھے۔ جبکہ ہم ابھی لاکھوں میل دور بیٹھ اس کے نظر آنے آور نہ آنے پر باہم دست و گریبان ہیں۔ ہلال کمیٹی میں گو کہ ایسا ایک بھی چہرہ نہیں جسے دیکھ کر چاند بھی شرما جائے اور نہ ان میں کوئی عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ان کو چاند سے کوئی جذباتی لگاو ہو۔ ان میں سے اکثر کی چار چار بیویاں ہیں اور اگر ان میں سے ایک کا بھی عید کا جوڑا تیار نہ ہو، چاند نظر آنے کی شہادت موصول کہاں ہوسکتی ہے۔ بقول انور مقصود کے ان میں سے ہر چند کی عمر اس نہج پر ہے کہ انہیں ٹھیک سے اپنا ازاربند نظر نہیں آتا وہ چاند کو کیسے دیکھیں گے۔ ہماری صلاح مانیے تو کمیٹی میں ایک دو شاعر ضرور شامل ہونے چاہیئے۔ پھر دیکھیے وہ کس طرح چاند ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ چاند رات پہلے ہی مشتہر کر دی جائے اور انہیں کسی پلازے کی بجائے موتی بازار کی سیر کرائیں۔ وہیں دو چند منٹوں میں چاند ڈھونڈ نکال لائیں گے وہ بھی یہ کہتے ہوئے کہ گویا ۔۔۔!رات پھیلی ہے تیری سرمئی آنچل کی طرح چاند نکلا ہے تمہیں ڈھونڈنے پاگل کی طرح ۔۔۔۔!!بہر حال، بلتستان کی خنک شامیں آدمی کے مزاج کو ٹھنڈک پہنچاتی ہیں۔ اسی لئے عنان اقتدار سے عوام مخالف فیصلے یہاں اکثر سردیوں میں وارد ہوتے ہیں۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے کا حالیہ فیصلہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ دیگر شہروں میں ٹائر جلا کر احتجاج کرنے کو غم و غصے کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں احتجاج میں جلاو گھیراؤ مظاہرین کو ٹھنڈ سے بچانے کی تدبیر ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ ایک دو ٹائر جلائے بنا خون جلاتی سردی میں کھلے آسمان تلے کون ٹک سکتا ہے۔ ڈاکٹر یونس بٹ نے کہا تھا کہ سائنسی تحقیق کے مطابق چیزیں گرم ہونے پر پھیلتی ہیں اس لئے اساتذہ بچوں کو دھوپ میں بٹھا کر علم دیتے ہیں۔ شاید یہی معاملہ ہوگا کہ محکمہ تعلیم سردیوں میں تعلیم پھیلانے پر زیادہ توجہ نہیں دیتا اور کوچنگ سنٹرز میں بھی کوشش کے باوجود خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں چند معاشرتی خوبیوں میں سے ایک شدید سردی بھی ہے جو کسی طور برائیوں کو پھیلنے نہیں دیتی۔ اب آپ خود اندازہ کر لیں کہ منفی پچیس ڈگری سنیٹی گریڈ میں کوئی ڈاکہ ڈالنے بھی کہاں نکل سکتے ہیں۔ وہ تو خیر چور ہیں جیسے تیسے کر کر چلے بھی جاتے، مگر چوکیدار سے لے کر مالک مکان حتی کہ کتوں تک کو اس سردی میں کسی گھڑی چین کہاں آتا ہے ۔ بوڑھے کھانس کھانس کر شام کی صبح کرتا ہے۔ البتہ کھڑکیوں پر پلاسٹک چڑھائے، کمروں میں بخاری جلا کر اندرون خانہ تپش بہتر ہوجاتی ہے اس لئے اور کچھ پھیلے نہ پھیلے آبادی بڑی تیزی سے پھیل جاتی ہے۔ دانا روتے ہیں کہ ہماری ثقافت کمزور ہو کر سستی اور ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ اب وہ گرم کپڑے اونی شالیں، روئی کی ٹوپیاں اور اونی بچھونے کہاں میسر ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ جتنی سستی یورپ کی ثقافت ہوچکی ہے اس سے کہیں زیادہ ہماری ثقافت آج بھی مہنگی ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو لنڈے بازار کا چکر لگا آئیں آپ کے چار طباق روشن ہوجائیں گے۔ اتنی سستی اور معیاری ملبوسات کہ یقین نہیں آتا۔ کچھ تو کہیں سے نہیں لگتا کہ اترن کے ہیں۔ اتنا سستا اور معیاری کہ دام کے دام اور کام کے کام۔ ایسے میں کوئی کیوں کر اسے نہ پہنیں پھر آپ کے نتھنے یوں ہی بیکار میں پھول جاتے ہیں کہ لوگ اپنی ثقافت چھوڑ رہے ہیں۔ سردی بہت بڑھ گئی ہے مگر میرے تو پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ کیونکہ یہی حسب حال ہے ۔۔۔ جانے آپ کو کیا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں