83

گندم سبسڈی کا مسلہ کن حکومتوں میں پیدا ہوا ۔تحریر : کرن قاسم

آج گلگت بلتستان بھر میں گندم سبسڈی کے خاتمے حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کی کال اور مرکزی انجمن تاجران کی تعاون پر شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی لیکن اس دوران ضلع غذر کے ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں بعض دکانداروں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال میں حصہ نہیں لیا جبکہ دیگر 9 اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب دیکھی گئی گندم سبسڈی میں کٹوتی نرخوں میں اضافہ اور آٹا بحران حوالے سے اگر ہم اک نظر پچھلی حکومتوں پر ڈالیں تو آج یہاں جو گندم سبسڈی کا مسلہ عوام کے سامنے آرہا ہے وہ ماضی کی حکومتوں کی زیادتیوں کو آج عوام اور موجودہ حکومت دونو بھگت رہی ہے گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے دوران جب گندم سبسڈی میں کٹوتی کا ایشو عوام کے سامنے آیا تو عوام نے جگہ جگہ احتجاج شروع کیا لیکن سابقہ صوبائی حکومت کو ان احتجاجوں سے اثر اس لئے نہیں پڑا کہ یہاں تحریک انصاف کی حکومت اور وفاق میں نون لیگ کی حکومت تھی اس وقت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سبسڈی میں کٹوتی کا نزلہ نہ صرف وفاق پر گرا کر خود کو دودھ سے بھی صاف ثابت کرنے بلکہ اپنی سیاسی پوزیشن کو عوام کے سامنے ایک دلیرانہ شخصیت ثابت کرنے وزراء سمیت وزیر اعلیٰ نے ہر فرم اور ہر اجلاسوں میں حلفاً یہ کہدیا کہ مر جائیں گے کٹ جائیں گے لیکن ہم وفاق سے عوام کیلئے کبھی گندم سبسڈی کا بھیک نہیں مانگیں گے بس یہی وجہ ہے کہ سبسڈی گندم کے طریقہ کار و فراہمی میں سب سے بڑی خرابی کا آغاز سابقہ حکومت سے شروع ہوا ہے بیشک اس سے پہلے کی 2 حکومتیں نون لیگ اور پیپلز پارٹی بھی سبسڈی گندم کٹوتی اور نرخوں میں اضافہ کی قصور وار ضرور تھیں لیکن ان کے دور میں کبھی آٹے کا اتنا بڑا بحران پیدا نہیں ہوا تھا جتنا ہم نے تحریک انصاف کی دور حکومت میں دیکھا یہاں سابقہ حکومت میں شامل بعض وزراء و ممبران اور اپوزیشن اراکین اسمبلی آج موجودہ حکومت کا حصہ بنے بیٹھے ہیں لیکن ان کی طرف سے ہم نے گندم سبسڈی میں کٹوتی کے حوالے سے کوئی ایک لفط بھی سابقہ حکومت کی ناقص کارکردگی پر روشنی ڈالتے نہیں سنا بس منہ میں تالے لگا کر اسلام آباد یا پھر یہاں کہیں عوامی نظروں سے اوجھل خاموشی سے حکومت میں بیٹھے مزے لے رہے ہیں ان کو چاہئے کہ جب پچھلی حکومت میں عوام کے ساتھ اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے گندم سبسڈی پر جو نامناسب کردار ادا کیا تھا اس کو عوام کے سامنے لائیں کھل کر بولیں تاکہ عوام حقیقت جان سکے 33 ممبران اسمبلی میں سے 32 ممبران اسمبلی اس وقت باقاعدہ تنخواہیں لے رہے ہیں لیکن منظر عام پر چند ممبران کے علاؤہ مثبت کردار ادا کرتے ہوئے کوئی دکھائی نہیں دے رہا جس کی وجہ سے عوام اور حکومت کے درمیان کسی بھی مسلے پر مذاکرات کا سلسلہ ہمیشہ اسی وجہ سے ناکام ہوتا آرہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں