55

ہم سب کو تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشتگردی کے خلاف ایک ہونا ہوگا

گلگت(آئی جی بگورو سے)گلگت بلتستان اسمبلی کے ستائیسواں اجلاس میں ممبر گلگت بلتستان اسمبلی جاوید منوآ نے چلاس ہڈور سانحہ پر اپنی پیش کردہ تحریک التواء پر اظہار خیال کرتے ہوئےانکا کہنا تھا کہ ہم سب کو تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشتگردی کے خلاف ایک ہونا ہوگا۔ محض تقاریر کرنے سے معاملات بہت آگے جا چکے ہیں۔ اسمبلی کے ممبران کو قومی سلامتی کے ادارے اس معاملے پر مکمل ان کیمرہ بریفنگ دیں تا کہ اس معاملے پر کوئی مستقل لائحہ عمل وضع کیا جاسکے۔ ریاست کو قانون کی حکمرانی اور موثر عملداری کے لئے یکساں رویہ رکھنا ہوگا ۔ قانون کی موثر عملداری کے لئے ایک کا گریباں اور ایک کے پیر پکڑنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا۔ تحریک التواء پر اسمبلی اجلاس میں طویل بحث کے بعد وزیر اعلی نے یقین دہانی کروائی کہ کل تمام قومی سلامتی کے ادارے ایوان کے ممبران کو اس ایشو پر تفصیلی بریفنگ دینگے ۔ اجلاس کی کاروائی کل تک ملتوی کردی گئی۔اجلاس میں بات کرتے ہوئے ممبر اسمبلی رحمت خالق نے کہا ایوب وزیری نے صرف دیامر کے واقعات کا بتا رہا ہے وہ بھول گئے کہ دیگر اضلاع میں کیا کیا ہوا ہے دیامر میں ٹارگٹڈ اپریشن کے احکامات وزیراعلی پہلے ہی دے چکے ہیں اجلاس سے بات کرتے ہوئے ممبر اسمبلی ایوب وزیری کا کہنا تھا ہر دفعہ دیامر ہی دہشتگردی کےلئے استعمال کیوں ہوتا؟ وزیر اعلیٰ صاحب اگر دیامر ملوث نہیں ہے تو فیصلہ کرنا ہوگا یہ کمانڈر کہاں سے آتے ہیں، دیامر کی زمین ان دہشتگردوں کےلئے زرخیز کیوں؟ہمیں دہشتگردوں کے خلاف یک زبان ہو کر بات کرنی ہو گی ہم مزید قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش نہیں کر سکتے اگر دیامر میں اسلحے پر پابندی نہیں تو ہمیں بھی اپنے تحفظ کے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے اجلاس میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ شمس لون کا کہنا تھا کہ چترال لشکر جھنگوی کے حوالے سے خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے فیک اکاونٹ کے زریعے واقعے کو فرقہ واریت کی طرف لے جانے کی کوشش ہے انہوں نے مزید کہا دہشت گردی کا نام دے کر صرف دیامر کو بدنام نہ کیا جاۓ 1988 سے ابھی تک گلگت شہر میں بھی تقریبا 800 افراد دہشتگری کا شکار ہوۓ ہے ان کے قاتل کہاں ہے دہشت گردی صرف دیامر میں نہیں ہر جگہ ہوٸی ہے اس موقع پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے کہا کہ سانحہ ہڈر چلاس کیس میں کسی بے گناہ عام آدمی کو پکڑا گیا تو ہاتھ کاٹ دیں گے حکومت دہشت گردوں کو جانتی ہیں آپ انکو گرفتار کریں۔دیامر میں نانووے فصید افراد امن پسند ہے مٹھی بھر دہشتگردوں کا سب کو پتہ ہے کل کچھ چرواہوں کو پکڑ کر خانہ پوری کی گئی جب تک زندہ ہوں بے گناہ افراد کے خون پر بات کرتا رہونگا فوری طور پر ان کیمرہ اجلاس بلا کر ممبران اسمبلی کو حقائق سے آگاہ کیا جائے ورنہ کھبی خاموش نہیں رہے گے اجلاس کے آخر میں بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے کہا کہ دیامر میں 99 فیصد عوام امن پسند ہے اور ایسے واقعات کے خلاف ہے لیکن بدقسمتی سے چند شرپسند عناصر بھی موجود ہیں ان کو ہر صورت میں گرفتار کرینگے انہوں نے مزید کہا دیامر کے اندر سے دہشگردوں کا خاتمہ کرینگے اب گلگت بلتستان کو امن کا گہوارہ بنا کر دم لیں گے میری حکومت کو بیمار حکومت کہا جا رہا ہوں میں بیمار بےشک ہوں لیکن میرا دماغ بیمار نہیں ایسے فیصلے کرینگے کہ جس کے دور رش نتائج ملیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں