20

گلگت ،مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے ترجمان نے کہا ہے چلاس دہشت گردی حکومتی رٹ کے لیے چیلنج

گلگت ،مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے ترجمان محمد اشرف صدا نے کہا ہے چلاس دہشت گردی حکومتی رٹ کے لیے چیلنج ہے۔ را ملوث ہے تو سہولت کار نیٹ ورک کو سامنے لایا جائے ۔حکومت اپنے وجود کو جواز فراہم کرتے ہوئے بے گناہ افراد کو شہید کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے۔ اس دلخراش حادثے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کوسکردو مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے ترجمان محمد اشرف صدا نے کہا ہے چلاس دہشت گردی حکومتی رٹ کے لیے چیلنج ہے۔ را ملوث ہے تو سہولت کار نیٹ ورک کو سامنے لایا جائے ۔حکومت اپنے وجود کو جواز فراہم کرتے ہوئے بے گناہ افراد کو شہید کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے۔ اس دلخراش حادثے نے گلگت بلتستان کے عوام کوسخت عدم تحفظ کا شکار کیا ہے۔ بیڈ گورنس ،گندم بحران اور بد ترین لوڈ شیڈنگ کے بعد دہشت گردی کا واقعہ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کو نظام سے مایوسی کی جانب دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اس سے غرض نہیں کہ اس دردناک واقعے میں را ملوث ہے یا موساد ملوث ہے۔ بلکہ عوام اپنے جان و مال کا تحفظ چاہتی ہے۔ جان ، مال اور حقوق کے تحفظ میں ناکامی سے حکومتیں حکومتی جواز کھو دیتی ہیں۔وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار ایسے واقعات پر روایتی انداز میں مذمتی بیانات اور غیر ملکی ایجنسیوں کو زمہ دار ٹھہرانے کی بجائے ملوث دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لا ئیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکن ہے کہ اس بزدلانہ واقعے میں بھارت ملوث ہو تاہم اگر گلگت بلتستان میں بھارتی یا کوئی اور غیر ملکی نیٹ ورک موجود ہے تو انکی بیخ کنی حکومت کا کام ہے۔ صرف را ملوث ہے کہہ کر حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی ۔اشرف صدا نے کہا ہے کہ دنیا کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں گلگت بلتستان کی حساس جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے مستقبل میان بھی یہ خطہ بڑی عالمی طاقتوں کی سازشوں کا میدان بن سکتا ہے۔ لہٰذا گلگت بلتستان کے عوام کو متحد رہ کر اپنے مستقبل کا تحفظ کرنا ہوگا۔پاکستان پر منڈلاتے ہوئے دہشت گردی کے سائے گلگت بلتستان کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس حوالے وفاقی و صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مذید سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور گلگت بلتستان کے عوام کو بے یقینی کے دلدل سے نکالنے کے لیے بروقت کردار ادا کریں۔ اشرف صدا نے چلاس سانحے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے گلگت بلتستان پر حملہ قرار دیا۔ شہدا اور زخمیوں سے اظہار یکجہتی، شہدا کے درجات کی بلندی اور ذخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔سخت عدم تحفظ کا شکار کیا ہے۔ بیڈ گورنس ،گندم بحران اور بد ترین لوڈ شیڈنگ کے بعد دہشت گردی کا واقعہ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کو نظام سے مایوسی کی جانب دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اس سے غرض نہیں کہ اس دردناک واقعے میں را ملوث ہے یا موساد ملوث ہے۔ بلکہ عوام اپنے جان و مال کا تحفظ چاہتی ہے۔ جان ، مال اور حقوق کے تحفظ میں ناکامی سے حکومتیں حکومتی جواز کھو دیتی ہیں۔وقت آگیا ہے کہ ارباب اختیار ایسے واقعات پر روایتی انداز میں مذمتی بیانات اور غیر ملکی ایجنسیوں کو زمہ دار ٹھہرانے کی بجائے ملوث دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لا ئیں۔ انہوں نے کہا کہ مملکن ہے کہ اس بزدلانہ واقعے میں بھارت ملوث ہو تاہم اگر گلگت بلتستان میں بھارتی یا کوئی اور غیر ملکی نیٹ ورک موجود ہے تو انکی بیخ کنی حکومت کا کام ہے۔ صرف را ملوث ہے کہہ کر حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی ۔اشرف صدا نے کہا ہے کہ دنیا کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے تناظر میں گلگت بلتستان کی حساس جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے مستقبل میں بھی یہ خطہ بڑی عالمی طاقتوں کی سازشوں کا میدان بن سکتا ہے۔ لہٰذا گلگت بلتستان کے عوام کو متحد رہ کر اپنے مستقبل کا تحفظ کرنا ہوگا۔پاکستان پر منڈلاتے ہوئے دہشت گردی کے سائے گلگت بلتستان کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ اس حوالے وفاقی و صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مذید سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور گلگت بلتستان کے عوام کو بے یقینی کے دلدل سے نکالنے کے لیے بروقت کردار ادا کریں۔ اشرف صدا نے چلاس سانحے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے گلگت بلتستان پر حملہ قرار دیا۔ شہدا اور زخمیوں سے اظہار یکجہتی، شہدا کے درجات کی بلندی اور ذخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں