61

امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور علمائے دیامرکا کردار۔تحریر :وزیربرہان علی

امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور علمائے دیامرکا کردار۔امن کا پیغام گھر گھر پہنچا نا صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔جس معاشرے میں امن کی فضا قائم رہےگی وہاں کوئی انتشار اور بدمزگی نہیں ہوگی۔امن کے بغیر کوئی علاقہ یا معاشرہ خوشحالی کی طرف گامزن نہیں ہوسکتا۔حالیہ جو ناخوشگوار واقعہ حدور کے مقام پہ پیش آیا اس پر جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ہر ذی شعور چاہئے اُس کا تعلق جس مسلک سے۔ہو سب یک زباں ہو کے اس دہشتگرد فعل کی مذمت کر رہے ہیں! بلخصوص علمائے دیامرکا کردار خراجِ تحسین ہے۔علماۓ دیامر نے جس اندازمیں اُن نہتے اورمظلوم مسافروں کی مدد کی وہ بات قابلِ ذکر ہے سیول سوسائٹی نے بھی بڑھ چڑھ کرمحبت کا پیغام دیا۔علماے دیامر نے اپنے عمل سےیہ واضح کیا ،کہ ہم امن پسند لوگ ہیں اور ضلح دیامر امن کی سرزمین ہے۔کچھ مٹھی بھرملک دشمن عناصر گلگت بلتستان کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں،اور الحمد اللہ! اُن کا منصوبہ بُری طرح ناکام ہوگیا۔علمائےدیامر اور سیول سوسائٹی نے کھلم کھلا اپنے عمل کے زریعے پیغام دیا ،کہ ہم سب شیعہ ،سنّی اور اسمعیلی ایک تھے ایک ہیں اور ایک رہینگے۔افسوس صد افسوس! کچھ نام نہاد ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں یرگمال ہونے والے افراد اس دہشتگردانہ فعل کو مذہبی ٹارگٹ کیلنگ سے منسوب کرنے کی ایک ناکام کوشش کر رہے تھے اُن کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس واقعے میں شعیہ،سنّی اور اسمعیلی تینوں مسلک کو لوگ متاثر ہوئے جن کے لیے جی بی کی قوم دعاگو ہیں! ملک دشمن عناصر بلخصوص ہمارا ازلی دشمن انڈیا اب نت نئے ہٹکنڈے استعمال کرکےہماری جڑوں کو کھوکلا کرنا چاہتے ہے،تاکہ وہ با آسانی ہم پر وار کرسکے۔ یہ بزدلانہ حرکت بھی اس کی ایک کڑی ہے۔CPEC دشمن کو کھٹک رہا ہے اور دشمن پوری طرح ناکام ہوچکا ہے اس لیے بیرونی عوامل جی بی کے لوگوں کے اندر مسلکی آگ لگا کر خوشحالی کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔انڈیا اور امریکہ نہیں چاہتے ،کہ پاکستان کے اندر معاشی انقلاب آے،لیکن الحمدللہ! بیرونی عوامل اب اپنا آخری حربہ استعمال کر چکے اور پوری طرح ناکام ہوگے۔ ہم علمائے دیامر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نےخیر سگالی کا پیغام عام کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ،کہ ضلح دیامر امن کی سرزمین ہے۔حکومت سے عوام کا پُرزور مطالبہ ہے! کہ جی بی سکاؤٹس کو تائنات کیا جائے ،تاکہ مستقبلِ قریب میں ایسے ناخوشگوار واقعات رونما نا ہوں۔شاہراہ قراقرام کے پاس دہشتگردوں کی فائرنگ سے ناحق شہد ہونے والے مسافروں کے لواحقین کو تسلیت پیش کرتاہوں زخمی مسافروں کے جلد صحتیابی اور شہداء کی مغفرت کےلئے اللہ تعالی سے دعا گو ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں