55

مسئلہ فلسطین پر’’ او آئی سی‘‘ کی خاموشی،تحریر صائم رضا کاظمی

فلسطینی ریاست پر اسرائیلی حملے تقریباً ایک مہینے سے جاری ہیں اس حملے میں مغربی ممالک جنہوں نے اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا اب وہ بھی عوام کے دباؤ میں آگئے ہیں ا ممالک میں بھی اسرائیلی جارحیت اور ظلم و بربریت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں حال ہی میں برطانیہ میں ہونے والے احتجاج میں برطانوی وزیراعظم کے منع کرنے کے باوجود لاکھوں لوگوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اسی طرح دیگر ممالک جنوبی افریقہ پیرس فرانس برازیل میں بھی احتجاج جاری ہے اس احتجاج کا مقصد اسرائیلی ناجائز قبضہ کے خلاف آواز اٹھانا ہے یہ سب غیر مسلم ممالک ہیں یہ لوگ بھی باطل کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں کترا رہے ہیں اب دوسری طرف اسلامی ممالک کے پاس آجائے اسلامی ممالک نے بھی احتجاج کیا لیکن کیا وہ احتجاج فلسطینیوں کے لیے فائدہ مند ہے یاد دلاتے چلیں اسلامی تعاون تنظیم کا ادارہ 1969 ميں اس وقت قائم ہوا جب اسرائیلیوں نے مسجد اقصیٰ اقصیٰ آگ لگائی تھی اور اس وقت مسلم ممالک نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جو آج تک پورا نہ ہو سکا آج فلسطین کا علاقہ مکمل تباہ ہو چکا ہے بچے خواتین بے یارومددگار ہیں ہسپتالوں میں اکسیجن ختم ہو گیا ہے مرنے والے مسلم ممالک سے مدد کی اپیل کررہے ہیں ان کی آنکھوں میں ایک مایوسی ہے گویا وہ محشر میں الله اور اس کے رسول حضور اکرم (صلی الله عليه وآلہ وسلم ) کو تمام مسلمانوں کی شکایت کریں گے مسلم ممالک ابھی تک احتجاج ہی کر رہے ہیں 11نومبر 2023 کو اس جنگ کے 36 روز بعد اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس سعودی عرب میں منعقد ہوا جس میں مسلم ممالک کے سربراہان نے شرکت کی مسلم ممالک نے کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے ایرانی صدر ترک صدر اور انوار الحق کاکڑ کے علاوہ کسی نے اسرائیل کو منع نہیں کیا انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ صرف فلسطینیوں کی نہیں تمام مسلم امہ کی ریڈ لائن لائن ہے اس کے علاوہ کسی نے کوئی خاطرخواہ مزاحمت نہیں کی کسی نے اسرائیل کو خبردار نہیں کیا اور نہ کسی نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی بند کرے کوئی فلسطین کی مدد نہیں کر رہا ہے مسلم ممالک سوئے ہوئے ہیں اگر آج ہماری آنکھوں کے سامنے فلسطین کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے کل کو اگر اسرائیل نے ہم میں سے کسی کا ایسا حال کیا تو کیا ہم ایسے ہی خاموشی رہیں گے اگر ہم اکھٹے نہ ہوئے تو مستقبل میں ہمارا حال بھی ایسا ہی ہوگا آخر اس خاموشی کی وجہ کیا ہے؟ اگر ہم ظلم دیکھ کر بھی اس کے خلاف نہ اٹھے اور ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دیں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں