37

گندم کی سبسڈی اور مرکزی پالیسی کے بارے میں اسٹیک ہولڈرز پر مبنی مرکزی اور ڈویژنل سطح کی کمیٹیاں تشکیل

گلگت، گلگت بلتستان وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں گندم کی مروجہ قیمتوں، گندم کی سبسڈی اور مرکزی پالیسی کے بارے میں اسٹیک ہولڈرز پر مبنی مرکزی اور ڈویژنل سطح کی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں ۔ ان کمیٹیوں کو صوبے بھر کی سطح پر سیاسی زعما، سماجی رہنماؤں ، معاشی شعبہ جات کے ماہرین اور میڈیا سے وابستہ پروفیشنلز کے ساتھ مشاورت کا کام سونپا گیا ہے تاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے عوام میں شعور اجاگر کرایا جا سکے ۔ وزیر اعلی سیکریٹیریٹ سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کی روشنی میں مرکزی کوارڈینیشن کمیٹی کے کنوینئر صوبائی وزیر خوراک غلام محمد ہونگے ۔ مزکورہ کمیٹی کے باقی ممبران میں وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا, وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن رحمت خالق, وزیر قانون سید سہیل عباس شاہ, وزیر ترقیات و منصوبہ بندی راجہ ناصر علی خان ، وزیر سماجی بہبود و پاپولیشن دلشاد بانو ، وزیر داخلہ شمس لون ، مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ثریا زمان، معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ شامل ہیں ۔ مرکزی کمیٹی کے سیکریٹری کے فرائض سیکریٹری محکمہ خوراک عثمان احمد کو سونپے گئے ہیں ۔گلگت کی ڈویژنل سطح کی کمیٹی کا کنوینئر معروف قانون دان اور رکن صوبائی اسمبلی امجد حسین کو مقرر کیا گیا ہے ۔ دیگر ممبران میں رکن صوبائی اسمبلی فتح اللہ خان ، معاون خصوصی برائے آبپاشی حسین شاہ ، رکن صوبائی اسمبلی رانی صنم فریاد ، اور معاون خصوصی برائے اطلاعات ایمان شاہ شامل ہیں ۔ بلتستان ڈویژن کے لئے قائم کردہ کمیٹی کا کنوینئر سینئر وزیر برائے لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی حاجی عبدالحمید کو مقرر کیا گیا ہے ۔ دیگر ممبران میں سینئر وزیر برائے محکمہ تعمیرات سید امجد زیدی اور صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات راجہ ناصر علی خان شامل ہیں ۔ صوبائی وزیر زراعت انجینیئر محمد انور کو دیامر استور ڈویژن کے لئے تشکیل کردہ کوارڈینیشن و مشاورتی کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا ہے ، کمیٹی کے دیگر ممبران میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا فضل رحیم، معاون خصوصی مولانا سرور شاہ, معاون خصوصی ذبیح اللہ شامل ہیں ۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کی ہدایات کی روشنی میں مرکزی کوارڈینیشن و مشاورتی کمیٹیز اور ڈویژنل کمیٹیز عوام الناس اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد گندم کی منصفانہ تقسیم سمیت دیگر امور کی بابت اپنی تجاویز دو ہفتے کے اندر صوبائی حکومت کو پیش کریں گے۔ تمام ڈویژنل و اضلاع کی انتظامیہ کو بھی ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ ان تشکیل کردہ کمیٹیز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں