59

مسئلہ فلسطین اور مسلم امہ کی تگ و دو

سیدنا ابوذررضی اللہ عنہ نے نبی کریم ۖ سے سوال کیا یارسول اللہ! کرہ? ارض پر سب سے پہلی مسجد کونسی تعمیر کی گئی؟آپۖ نے فرمایا: مسجدالحرام، پھرعرض کیا دوسری کونسی مسجد تعمیر ہوئی؟ آپۖ نے فرمایا:مسجدالاقصیٰ،انہوں نے سوال کیا ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟آپۖ نے فرمایا:چالیس سال۔
(صحیح بخاری:٦٦٣٣،مسلم:٠٢٥)
مسجد اقصی کے کئی نام ہیں جن میں سے سب سے ذیادہ مشہور مسجد اقصیٰ، بیت المقدس اور ایلیا ہیںـ اس کا کل احاطہ چالیس ہزار ایک سو چالیس مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہےـ یہ محض ایک گنبد نہیں ہے بلکہ پوری پہاڑی ہی بیت المقدس کہلاتی ہےـ
فلسطین کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کتنی پرانی ہےـ جالوت اسی سرزمین سے تھا جسے طالوت کی فوج کے ایک نوجوان نے شکست دی اور وہ بعد ازاں فوج کا سپہ سالار بنا اور بادشاہ وقت کی بیٹی سے شادی ہوئیـ یہ نوجوان حضرت داؤد علیہ سلام تھےـ جو نہایت غربت میں گزر بسر کرتے رہے، بکریاں چرایا کرتے اور ان سے جو اجرت حاصل ہوتی اسی پر گزارہ ہوتاـ مگر جب طالوت نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی لوہے کی ٹوپی پہننے والے جالوت کو قتل کرے گا اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کرے گاـ اس وقت حضرت داؤد علیہ سلام کی عمر بہت کم تھی مگر جذبہ بہت ذیادہ، اسی لیے کامیاب ہوئے اور پھر طالوت کے بعد بادشاہت کے منصب پر فائز ہوئےـ
وہ دیوار گریہ جسے دیکھ کر, چوم کر یہودی آہ و زاری کرتے اور اپنے ماضی کو یاد کرتے ہیں وہ ہیکل سلیمانی کی باقیات، (جانے ہے بھی یا نہیں) مگر اس ہیکل سلیمانی کی تعمیر داؤد علیہ سلام نے شروع کروائی تھی اور ان کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان علیہ سلام نے اسے مکمل کروایاـ اسی وجہ سے اسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہےـ جہاں تابوت سکینہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی کے طور پر اترا تھا وہ محفوظ کیا گیا تھاـ
مگر حضرت سلیمان علیہ سلام کے بعد یہودیوں میں وہی نافرمانیاں جاگنے لگیںـ یہاں تک کہ حضرت دانیال علیہ سلام کے دور میں بیت المقدس کا یہ حال تھا کہ وہاں جوئے اور سٹے کا بازار گرم تھاـ امیر کبیر تاجروں کو لایا جاتا، ان کی خدمات کی جاتیں اور غریب مسکین لوگوں کا داخلہ سختی سے منع تھاـ
اللہ تعالیٰ نے سورہ العمران کی آیات میں فرمایا؛
”اگر اہل کتاب (بنی اسرائیل) ایمان لے آتے تویہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ مومن ہیں اور اکثر فاسق ہیں۔ یہ تمھیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، مگر یہ کہ زبان درازی کر لیں۔ اور اگر یہ تم سے جنگ کے لیے نکلیں گے تو تمھیں پیٹھ دکھائیں گے۔ پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ نکلے گا۔ یہ جہاں کہیں بھی ہیں، ان پر ذلت کی مار ہے، مگر اللہ کے ذمہ کے تحت یا لوگوں کے کسی معاہدہ کے تحت۔ یہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور ان پر پست ہمتی تھوپ دی گئی ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور یہ جسارت انھوں نے اس سبب سے کی کہ انھوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور یہ حد سے بڑھ جانے والے تھے۔”
(العمران)
یہودیوں کو دو بڑے عذاب سے ڈرایا گیا تھاـ ان کی کتابوں میں بھی ان کا ذکر ملتا ہےـ ایک زمانے میں جب فلسطین پر مشرکین کی حکومت تھی تو مصر سے بچ نکلنے والے یہودیو سے وعدہ لیا گیا تھا کہ وہ دوبارہ بت پرستی اور برائیوں میں نہ پڑیں گےـ اس کے بدلے انہیں دعا کا ثمر طالوت کی شکل میں دیا اور بعد ازاں، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ سلام جیسے طاقتور نبی اور بادشاہ عطا فرمائے مگر یہ مکرو فریب، سازشوں سے باز نہ آنے والے تھےـ اپنی نافرمانیوں کے سبب پھر سے بھٹکا دئیے گئےـ فارس کے بخت نصر نے ایسا حملہ کیا کہ یرو شلم تباہ و برباد کر ڈالاـ ہیکل سلیمانی جلا کر راکھ کر دیا اور کہا جاتا ہے کہ تابوت سکینہ بھی یہیں جل گیا تھا اور کچھ حوالوں کے مطابق بخت نصر ساتھ لے گیا تھاـ لاکھوں کی تعداد میں یہودیوں کا قتل ہوا اور ستر ہزار کی تعداد، جن میں تاریخ کے مطابق ایک نبی
حضرت دانیال علیہ سلام بھی تھے، ان کو قیدی بنا لیا گیاـ
بخت نصر کے بعد سائرس اعظم کے دور میں انہیں یروشلم جانے کی اجازت ملی تھیـ مگر اس بار بھی یہ اسے سنبھال نہ پائے
بد اعمالیوں کی بدولت یرو شلم کھو دینے کے بعد حضرت عیسی علیہ سلام کے دور میں سازشی یہودیوں نے خود رومیوں کو فلسطین پر حملے کی دعوت دی تھیـمگر ذیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ یہودیوں نے رومیوں کے خلاف بھی سازشیں شروع کر دیں اور رومیوں کے فلسطین پر حملے کی نصف صدی میں ہی ان پر رومی بادشاہ طیلیوس کا قہر ٹوٹا، سوالاکھ قتل ہوئے اور ستائیس ہزار کو غلامی سہنا پڑیـ
اور نافرمانیوں کے سبب رومن بادشاہ طیلیوس کے دور میں دوسرے بڑے عذآب سے گزرنا پڑاـ اس کے بعد قرون وسطی میں یہودی سب سے نچلے طبقے کے طور پر دیکھے جاتےـ ان کی رہائش شہر کے سب سے گندی اور بوسیدہ عمارات میں ہوتیـ یہاں تک کہ قرون وسطی میں ہر بیماری کی جڑ بھی انہیں ہی قرار دیا جاتاـ
ہٹلر کے دور میں جو کچھ ہوا اور اس کے بعد کیسے انہیں فلسطین میں آباد کروانے کی کوششیں ہوئیںـ یہ سب کے سامنے ہےـ
نیتن یاہو نے کچھ روز قبل جو تقریر کی اور اس میں یروشلم اور اسرائیل سے متعلق تاریخ بیان کی وہ ایسے ہی ہے جیسے انہوں نے اپنی دینی کتب میں تحریف کی ہوئی ہےـ
اس وقت مسئلہ فلسطین پر نظر یہی آرہا ہے کہ تمام مسلمان ممالک، حماس کی طرفداری کریں یا نہیں مگر اسرائیل کے خلاف سخت پالیسی اپنائے ہوئے ہیںـ گو کہ امریکہ اور برطانیہ نے کھلم کھلا اسرائیلی جارحیت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے اور ہر طرح سے امداد کی بھی جا رہی ہےـ مگر ترکی، سعودی عریبیہ، پاکستان، بحرین، ایران، لبنان، یمن، اردن، کویت، عمارات سمیت سبھی فلسطین کے معاملے میں ڈٹ کر کھڑے تو ہوگئے ہیں مگر اسرائیل کی بمباری مسلسل جاری ہےـ اور امریکی سیکریٹری انٹونی جے بلنکن کی مختلف ملاقاتوں کے باوجود بھی نیتن یاہو ایک ضدی بچے کی طرح جنگ بندی پر آمادہ نہیںـ
غزہ پر حماس کے ٹھکانوں کے نام پر چودہ ہزار سے زائد حملے کیے جا چکے ہیںـ دس ہزار نہتے شہریوں اور چار ہزار آٹھ سو بچوں سمیت کئی لاشیں بچھائی جا چکی ہیںـ اس وقت یہ حال ہے کہ اس جارحیت کے خلاف جنوبی افریقہ نے بھی اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلوا لیئے ہیںـ سیکریٹری بلنکن شاید اس امید پر جنوبی کوریا کے دورے پر روانہ ہوئے کہ یہاں تو انہیں حمایت پورا یقین تھا کیونکہ چین اور روس نے بھی کھل کر جنگ بندی کی حمایت کردی، اس کے علاوہ فرانس کے صدر امانوؤل میکرون نے نہ صرف غزہ کے لیئے امداد کا اعلان کیا بلکہ واضح الفاظ میں”سیز فائر” کا مطالبہ بھی کیاـ ایسی صورت میں جنوبی کوریا کا دورہ امید کا باعث ہو سکتا تھا مگر وہاں بھی عوام فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور حکومت اپنے عوام کے خلاف کیسے جائے گیـ
اب بات یہاں یہ ہے کہ اس وقت مسلم امہ کا کیا کردار ہےـ مسلم اکثریت والے تقریبا 57 ممالک ہیںـ جن میں 22 عرب ممالک ہیںـ متحدہ عرب امارات اب مریخ پر جانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہا ہےـ بہت سے عرب ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیںـ اور اسی پر تکیہ کیے بیٹھے رہےـ گو اسرائیل کے معاملہ پر پہلے بھی عربوں اور اسرائیلیوں کی جنگیں ہو چکی ہیں 1948 اور اس کے بعد 1967 میں عرب اسرائیل جنگیں ہوئیںـ اور ان میں عرب ممالک کو شکست کھانا پڑیـ مگر شکست کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹیکنالوجی اور فوجی تربیت کو بہترین سطح پر لے جایا جاتاـ اپنی شکست سے سیکھ کر خود کی عسکری طاقت کو بڑھایا جاتا، بہترین اکانومی سٹریجیز اپنائی جاتیں کہ کوئی کسی مسلمان ملک کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتا مگر یہاں تاریخ سے کیا سبق سیکھا گیاـ اس وقت دیکھا جائے تو اسرائیل آئیسولیشن میں ہےـ امریکہ اور برطانیہ کھل کر جارحیت کا ساتھ تو دے رہے ہیں دوسری طرف امریکی سیکریٹری بلنکن جنگ بندی پر بھی بات کر رہے ہیں اور مختلف ممالک کی حمایت حآصل کرنے کی تگ و دو میں بھی لگے ہیںـ اور مسلمان ممالک اقوام متحدہ کی قرار داد پر تکیہ کیے بیٹھےـ وہ اقوام متحدہ جس کے کشمیر پر فیصلے کو بھارت تک سے نہ منوایا جا سکاـ لاڈلا باس اسرائیل کس کھاتے میں لکھتا ہےـ
اس وقت دکھ کی بات یہ ہے کہ اتنے مسلمان ممالک مل کر بھی اتنے طاقتور نہیں کہ ایک ملک کی جارحیت کا سامنا کرنا تو دور کی بات اسے روک ہی سکیںـ عربوں کی دولت کی مثالیں سنتے سنتے کان پاک گئے مگر اس دولت سے کیا حاصل کیاـ پاکستان جیسی ایٹمی قوت کے تو کیا ہی کہنے، کرپشن اور نا اہل حکمرانوں کو گود میں بٹھا رکھا ہےـ یورپی ملکوں میں جزیرے خریدے جا رہے ہیںـ ملک کی اکانومی کا برا حصہ عسکری قوت پر خرچ ہوتا ہےـ اور قوم سرحدوں کی حفاظت پر تعینات جوانوں سے بہت محبت بھی کرتی ہے مگر جرنیلوں کا کیاـــ جو ملک کی جڑیں کھوکھلی کر گئےـ ان حکمرانوں کا کیـــ ?ا جو خود تو جہادی نہ پیدا کر سکے قوم کو بھوک سے مار رہے ہیںـ کبھی سردی کا موسم خوبصورت تھا اب سردی میں لاک ڈاؤن ہوتا ہےـ ایسے مسلمان ممالک جہاد کریں گے جو عام آدمی کے منہ کا نوالہ تک چھین کر امریکہ، برطانیہ میں فلیٹ خریدتے ہیںـ اور ان نا اہلوں کے اسی کالے دھن سے وہ ہتھیار بنا کر نہتے مسلمانوں پر برساتے ہیںـ
اسلام میں سب سے بڑا جہاد تو نفس کا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب تک حکمران کے ہاتھون میں تلواریں تھیں، ان کی اولادیں تلوار زنی کو ہی اپنا مشغلہ سمجھتی تھیں تو مسلم امہ کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں پاتا تھاـ آج کے مسلمان نے اسلام بس اتنا ہی یاد رکھا ہے کہ اس مذہب میں چار شادیاں جائز ہیںـ دولت ہو تو پھر آدھے پونے کپڑوں میں ناچتی تھرکتی اداکاراؤں یا ماڈلز کو بیاہ لائیںـ پھر امید سے بیٹھ جائیں کہ ان کے یہاں مجاہد پیدا ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں