43

گیس پائپ لائن پر جرمانے کا خدشہ، پاکستانی وفد بات چیت کیلئے ایران پہنچ گیا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستانی وفد نگران وزیر توانائی محمد علی کی سربراہی میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بات چیت کے لیے تہران پہنچ گیا۔ پاکستانی وفد میں پیٹرولیم ڈویژن کی کمپنی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے ایم ڈی ندیم باجوہ بھی شامل ہیں جب کہ نگران وزیر توانائی محمد علی ایرانی ہم منصب سے مذاکرات کریں گے جس میں انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کے حکام بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہیکہ گیس پائپ لائن منصوبے میں پاکستان اپنے حصے کی پائپ لائن کی تعمیر کی ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست کرے گا، جرمانے سے بچنیکیلئے پاکستان کو مارچ 2024 تک ایرانی سرحد تک اپنیحصے کی پائپ لائن تعمیر کرنی ہے، معاہدے کے تحت ڈیڈ لائن تک تعمیر نہ ہونے کی صورت میں ایران عالمی ثالثی عدالت میں جاسکتاہے اور پاکستان پر 18 ارب ڈالر تک جرمانے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ معاہدے کے تحت منصوبہ شروع ہونے پرپاکستان کو ایران سے یومیہ 75کروڑ مکعب فٹ گیس درآمد ہونی ہے، پاکستانی وفد ایران پر عائد پابندیوں کے تناظر میں ڈیڈ لائن میں توسیع مانگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں