46

کربلائے فلسطین اورمسلمانانِ عالم

آج ڈیڑھ مہینے کے قریب ہورہا ہے ، بے گناہ مسلمانانِ فلسطین آگ وآہن کی بارش میں جلتے وچیتھڑے چیتھڑے ہورہے ہیں ،خدامعلوم کہ اب ان میں کوئی زندگی کے قابل ہے بھی کہ نہیں ۔ لیکن مسلمانانِ عالم خوابِ خرگوژ میں مدہوش ہیں ، قرب وجوار کے عرب مسلمانان توان بے کسوں اور مظلوموں کو دیکھنا اور سننابھی گوارہ نہیں کررہے ۔مصرواردن نے اپنے بارڈر بند کیے ہوے ہیں ، مظلوموں کو خوراک وپانی تک کی بھی سپلائی نہیں ہونے دی جارہی ، باقی اسلامی ملک بھی اپنی اپنی فوجی مشقوں سے امریکہ اور اسرائیل کو دانت دکھا رہے ہیں ، لیکن کوئی ایک بھی نہیں کہ ان کتوں کو جو فلسطینی بے گناہ بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کو اپنے ہتھیاروں سے بھنبھوڑ رہے ہیں ،ان کو للکار سکے یا اس جنگ میں شامل ہوجائے ، یہ جنگلی کتے اگر اسی طرح جتھوںکے جھتے ان نہتے بے ضرر بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر جھپٹے ہوے ہیں ، تو کسی عالمی تنظیم یا انسانیت دوست کو کوئی احساس نہیں ، تو کیا صرف بے حمیت مسلمان ہی ہیں ، جنہیں عالمی قوانین کی پاسداری مظلوموں کی حمایت سے روک رہی ہے ، اورکیوں؟تمام جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود اگر عالمی بدمعاش اسرائیل کا ساتھ ڈھٹائی سے دے رہے ہیں ،تو حیف ہے ان مسلمانوں پر جو آج بھی منتظر ہیں کہ اقوامِ متحدہ یاسلامتی کونسل اس قضیے کو حل کرے گی ، اسلامی ممالک کے اندر صرف مظاہرے وہ بھی ذرا دور کے ممالک میں کیے جارہے ہیں ، جن کو پتہ ہے کہ ہمارے لیے راستے ہی نہیں ، ورنہ اردن مصر شام ویمن کے مسلمان عوام اگر ایک مکمل احتجاج کریں اور اس وقت تک اپنی حکومتوں کو آرام سے نہ رہنے دیں جب تک وہ عوام کو اپنے بارڈروں سے گزر کرغزہ میں جانے کی اجازت نہ دے دیں ،تو کوئی وجہ نہیں کہ حکمران مجبور نہ ہوجائیں ۔ لیکن دردِ دل رکھنے والے بھی صرف اللہ اوراللہ کے رسولﷺ کو احجاج ریکارڈ کرارہے ہیں ، وہ کوئی عملی کام کرنے سے ڈرتے ہیں ، کہ اس طرح ہم بھی کہیں جنگ میں نہ جھونکیں جائیں ، لیکن یاد رکھیں اب عالمی جنگ کی بنیاد پڑچکی ہے ، اوریہ ٹالے سے ٹلنے والی نہیں ، الملحمۃ الکبرٰی کی ہوا چل پڑی ہے ، یہ اب سلگتی اور بھڑکتی کم وبیش ہوتی تورہے گی ، لیکن انجامِ کار یہ اس مقام کی طرف جارہی ہے ، جس کی پیشین گوئی میرے آقائے کریم ﷺ نے چودہ صدیاں پہلے فرمادی تھی ، لہذامسلمان امت جاگ جائے ،اورایک ایک کر کے مارے جانے کا انتظار نہ کرے ، ورنہ تاتاریوں کا وہ دور تاریخ بھول جائے گی جب مسلمانوں کے سروں کے مینار بنائے گئے تھے ، اللہ تو اپنے دین کو ختم نہیں ہونے دے گا ، کہ اس وقت بقولِ اقبال ؎ عیاں ہے یورشِ تاتار کے آفسانے سے ۔ کہ پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ۔خداوند تو شاید یہودیوں اور عیسائیوں ہی کو اپنے دین میں قبول کرکے اوران سے اپنے دین کا کام لے لے ،لیکن یہ بے حمیت مسلمان خود ہی نہیں اپنے نومولودنسلوں کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا لیں گے ، اللہ کو یہ بزدل بے حمیت اسلام کے صرف نام لیوا لوگوں کی ضرورت نہیں ،اللہ نے اسلام کو اگر غالب فرمانا ہے ، تووہ لفظِ کن سے غالب نہیں کرے گا ،بلکہ مسلمانوں کی غیرتِ ایمانی ،اور عملی جدوجہد سے غالب فرمائے گا ، اگر کن کہہ کر غالب کرنا ہوتا تو اس کے محبوب نبی ﷺ کوطائف واحدمیں پتھر نہ کھانے پڑتے ، صحابہ کو بھوک وپیاس میں جنگیں نہ لڑنا پڑتی ۔اللہ نے قرانِ پاک میں فرما رکھا ہے ،ترجمہ’ ’کیا لوگوں نے گمان کرلیا ہے ، کہ انہیں چھوڑ دیا جائے گا ،کہ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ،اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا‘‘ ۔دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے ،ترجمہ ’’ اے لوگوً!جو ایمان لائے ، تم سے جواپنے دین سے پھر جائے گا،توعنقریب اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا ، جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ،جومومنوں کے لیے نرم اورکافروں کے لیے سخت ہوں گے ،وہ جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں ،اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ، یہ اللہ کا فضل ہے جووہ جس کو چاہتا ہے عطافرماتا ہے،اللہ بڑی وسعت والا اوربڑے علم والا ہے ۔‘‘اور پھر اللہ تعالی فرماتا ہے ،ترجمہ ’’اورتمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میںنہیں لڑتے ،اورکمزورومجبور مرداور عورتیں اور بچے فریاد کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں نکال اس بستی سے کہ جس کے لوگ ظالم ہیں ، اور اپنے ہاںسے بنا ہمارے لیے کوئی ولی ،اوراپنے ہاں سے بناہمارے لیے کوئی مددگار ‘‘آج صرف فلسطین ہی نہیں پوری دنیا میں مسلمان جو ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ،وہ سب کے سب یہی دعا مانگ رہے ہیں ، کشمیر ، ہندوستان، فلطین، برما ، گزرے ان چند سالوں میں مسلمانوں پرکہاں کہاں کیا کیا ظلم نہیں ہوا ؟ لیکن مسلم امت جو شاید خدا اور رسول ﷺ کے نزدیک مسلمان ہیں بھی کہ نہیں ،یہ مظلوموں کی داد رسی کے بجائے ، ان پر عالمی تناظر میں صرف بیان بازی کررہے ہیں ، سناہے انہیں دنوں میں عرب لیگ کا اجلاس ہوا ، جس میں اسرائیل وامریکہ اوران کے حواریوں کے لیے تیل کی بندش ، فضائی راستوں کی بندش ، ان کے اڈے اپنے ملکوں سے اٹھانے کی قرارداد پیش ہوئی جس کی مخالفت مرکزی مسلمان ملک سعود یہ اور اس کے حواریوں نے کی ،اورکچھ ملکوں نے حق یا مخالفت میں ووٹ ہی نہیں ڈالا ،اورشاید چند ملکوں نے اس کی حمایت کی ،اب بتائیں یہ حج اورعمروں پر مسلط لوگ ،کون ہیں ؟لہذاامت کے عوام الناس سے اپیل ہے کہ اپنے اپنے ملکوں کے اشرافیہ و طبقہ ہائے حکمرانی کو جھنجوڑیں،کہ کل غزہ کی طرح تمہارے اوپر بھی کارپٹ بمباری ہوئی تو تمہاری فریادیں سننے والا بھی کوئی نہ ہوگا ،اوردوسرے یہ عرب لیگ کا معاملہ نہیں بلکہ عالمِ اسلام کا معاملہ ہے ، لہذاسلامی دنیا عرب وعجم سے وراہوکراسے اپنا مسئلہ سمجھے اورتمام اسلامی ممالک کو عرب لیگ میں پیش کی گئی قراردادکے مطابق اسرائیل ، امریکہ اوران کے حواریوں سے قطع تعلق کردینا چاہیے ،ورنہ اپنی کربلا منتخب کرلیں ۔ اللہ تعالیٰ بے گناہ فلسطینی بچوں ،بوڑھوں ،عورتوں کی شہادتوں کو اعلیٰ درجات میں قبول فرما کر ،اس مردہ امت کی حیات کا ذریعہ بنائے کہ ،شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ،آمین، وما علی الاالبلاغ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں