70

یونیورسٹیوں کے طلبہ اور سگریٹ نوشی کی لعنتی فیشن ،تحریر: محمدنور وزیر

ملکی جامعات کا جب بھی ذکر کیا جاتا ہے تو انسانی دماغ  میں ایک باشعور اور مضبوط قوم کی جیتا جاگتا تصویر بن کر سامنے  آجاتی ہے ۔ کیونکہ اکثر اوقات ان جامعات کی طرف رواں دواں نوجوان نسل اسی مملکت خداداد کا مستقبل تصور کیا جاتا ہے ۔ انھیں دیکھ کر انسان کو دلی طور پر خوشی اور اطمینان ہوتا ہے کہ اب وطن عزیز پاکستان  ماضی کی نسبت علمی اور شعوری لحاظ سے مضبوط سے مضبوط تر پوزیشن حاصل کرنے کی طرف رواں دواں ہے ۔ صاف ستھرے لباسوں میں ملبوس ان جامعات کے طلبہ یعنی والدین کے ان شہزادوں اور شہزادیوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ یہ ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ۔ ہمارے ملک کے ستون ہیں۔ یہ مضبوط ہوں گے تو ملک بھی مضبوط ہو گا ۔ اور وطن عزیز پاکستان کا مستقبل بھی انتہائی روشن اور محفوظ ہوگا ۔
مگر بدقسمتی سے انسان کو اس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب آپ کی نظر اچانک ان طلبہ پر پڑ جاتی ہے جس کے ہاتھوں میں سگریٹ ہوتی ہیں اور وہ انتہائی آرام کے ساتھ سگریٹ کے بڑے بڑے کش لیتے ہوئے اس لعنت سے مغزوز ہوتے ہیں ۔ یہاں یہ امر انتہائی مایوس کن ہے کہ شہر اقتدار اسلام آباد کے اکثر جامعات جو ملک کے انتہائی معتبر تعلیمی ادارے تصور کیے جاتے ہیں میں آج کل نوجوان طلبہ میں سگریٹ نوشی نے فیشن کا روپ دھار لیا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی طلبہ سگریٹ  نوشی کی اس فیشن کو ماڈرن لوگوں کی نشانی سمجھ کر خود بھی اختیار کر لیتے ہیں اور دوستوں کو بھی یہی دعوت دیتے ہیں ساتھ ساتھ  خود کو انتہائی ماڈرن بھی تصور کرتے ہیں ۔ دوستوں کے ساتھ کسی بھی جگہ بیٹھ کر سامنے ٹیبل پر موبائل فون ، ولیٹ اور ساتھ ساتھ سگریٹ کا ڈبہ لائٹر سمیت لازمی رکھا جاتا ہے تاکہ سامنے بھیٹے ہوئے دوستوں کو یہ دکھا سکے کہ فلمی ہیرو آپ کے سامنے تشریف فرما ہے ۔ یہ ماحول اکثر جامعات کے کیفیٹریا اور کنٹینز میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ رجحان نہ صرف مالی لحاظ سے  اونچے طبقات میں ہے بلکہ درمیانے اور کم درجے کے طبقات میں بھی پایا جاتا ہے ۔ جو کہ ایک المیہ ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر معماران قوم ہی کمزور اور دھوندلا ہو جائیں تو پاک دھرتی کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ملکی جامعات میں طلبہ کو سگریٹ نوشی کی کھلی آزادی کئ سوالات جنم دیتی ہیں ۔ جیسا کہ کسی بھی جامعہ کی کیفے یا کنٹین تک سگریٹ کی رسائی کیسے ممکن ہوئی ؟ اس خوفناک چیلنج پر قابو پانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی ؟ خود اسی دھندے میں یونیورسٹیز کے انتظامیہ ملوث تو نہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر نوجوان عام طور پر ہلکی منشیات جیسے سگریٹ، چھالیہ، گٹکا، نسوار اور پان سے شروع کرتے ہیں اور پھر ہیروئن، افیون، کوکین، آئس اور شیشہ وغیرہ جیسی سخت نشہ آور ادویات کی طرف چلے جاتے ہیں۔ اب سگریٹ کی اس لعنتی فیشن کے نتائج کیا ہونگے تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ نتائج انتہائی سنگین ہونگے ۔
بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ سازی کی صنعت کو قانونی حیثیت حاصل ہے، لیکن یہ ایک مضحکہ خیز امر ہے کہ سگریٹ کی ڈبیہ پر ” خبردار! تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے” جیسا وعظ تو رقم کیا جاتا ہے، لیکن اس صنعت کو روکنے یا اس کی خریدوفروخت کے حوالے سے کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ کاشف مرزا صاحب کی اسی موضوع  پرتحریر شدہ اردو کالم میں انہوں نے ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے (یو این او ڈی سی) کی 2020 ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق، 35 ملین سے زیادہ لوگ منشیات کے استعمال کے نتائج سے دوچار ہوئے۔ ڈبلیو ایچ او کےمطابق دنیا میں تمباکو کے استعمال سے ہر سال 8 ملین سے زیادہ لوگ مرتے ہیں جن میں سے 1.2 ملین اموات صرف غیر فعال تمباکو نوشی سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں 8.1 ملین افراد منشیات کے عادی ہیں، سالانہ 50 ہزار نئے منشیات استعمال کرنے والوں کومنشیات کے عادی افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ جن میں 78 فیصد مرد اور 22فیصد خواتین شامل ہیں۔ شامل اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ منشیات کے عادی افراد میں سے 55 فیصد کا تعلق پنجاب اور 45 فیصد ملک کے دیگر صوبوں سے ہے۔ واضح رہے کہ اس میں ایک خاص شرح تعلیم یافتہ نوجوانوں کا بھی ہیں جو یقینا خدشہ کی باعث ہے ۔
 بد بختی یہ ہے کہ آج کے دور میں نوجوان نسل میں، حتیٰ کہ لڑکیوں میں بھی، سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ  شیشہ کا استعمال ایک فیشن بن گیا ہے۔ اس کے خلاف بھی کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ انڈین موویز (فلمیں) ، خاص کر آج کل کی پاکستانی ڈراموں اور میڈیا پر منشیات کے استعمال کی ایک طرح سے براہ راست  ترغیب دی جاتی ہے ۔کبھی سگریٹ نوشی کو پریشانی اور ڈپریشن کا تدارک خیال کیا جاتا ہے اور کبھی اس سے ملتے جلتے دیگر مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ جو نئی نسل کو ایک طرح سے براہ راست اس لعنت کی ترغیب دی جا رہی ہے ۔ اشتہاری صنعت میں بھی سگریٹ اور دیگر نشہ آور اشیاء کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں۔
طلبہ کو سگریٹ نوشی سے بچنے ایک اہم ذریعہ اساتذہ بھی ہیں۔ جو اپنے طلبہ کو اس کے نقصانات بتاکر انہیں وصیت کرکے منع کرسکتے ہیں ۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا اساتذہ اور دیگر سٹاف ممبرز اس لعنت سے خود بھی محفوظ ہیں یا نہیں؟ منشیات کے استعمال میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں کم قیمتوں پر منشیات تک آسان رسائی، تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی اصول، منشیات کے اڈوں اور کارٹیلوں کا وجود اور موجودگی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی، خاندان کے اندر اور تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال سے متعلق آگاہی کا فقدان اور ذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔ جیسے اضطراب، افسردگی، غصہ، جرم، غم، کم خود اعتمادی، مایوسی، مسترد کرنا وغیرہ، تجسس اور تجربہ کرنے کی ترغیب، میڈیا کی تصویر کشی کا اثر، ساتھیوں کا دباو ، والدین، خاندان اور برادری کی جانب سے تعاون کی کمی جیسی وجوہات سے طلبہ میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
کاشف مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ اس لعنت کے تدارک کیلئے  تمام اداروں اور یونیورسٹیوں کی مشترکہ قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام متعلقہ قومی قوانین اور پالیسیوں پر عمل درآمد کریں اور غیر قانونی منشیات اور تمباکو کے استعمال کے مسئلے کو حل کرنے کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول ماہر نفسیات، سماجی کارکنان، این جی اوز اور دیگر کے ساتھ ہاتھ ملائیں۔
واضح رہے کہ جن یونیورسٹیوں  میں اس لعنت کو کنٹرول کرنے کی فکر ہیں ۔ وہاں سگریٹ نوشی کی اس فیشن والی لعنت پر نہایت کڑی نظر رکھی جاتی ہیں ، جس سے سگریٹ نوشی میں واضح طور پر کمی دیکھنے کو ملتی ہیں جو ایک خوشائن بات ہے ۔ اس کی ایک نمایاں مثال نمل یونیورسٹی اسلام آباد بھی ہے ۔ جس کی فوجی ایڈمنسٹریشن نے اپنی ٹائیٹ پالیسیز کی بدولت علم کی اس عظیم منبع کو فیشن کے طور پر سگریٹ نوشی کی اس بڑی لعنت پر مکمل پابندی عائد کی ہے ۔ جو نمل یونیورسٹی اسلام کو شہر اقتدار کے دیگر تمام معتبرعلمی اداروں سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔
یہاں بات یہ نہایت ضروری ہے کہ اگر ملکی جامعات میں طلبہ یونین جیسی مثبت سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جاسکتی تو انہی اداروں میں نشہ کی روک تھام اور نشہ فروشوں کو دبوچنا کیسے ممکن نہیں؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ انہی جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ کی مستقبل میں مضبوط کردار کو اگر اب سے نشہ کی صورت میں دیمک لگ جائے تو پھر تو ان سب کا اللہ ہی حافظ ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ والدین نے بچوں پر خاصی اچھی سرمایاکاری کی ، اساتذہ نے بہت محنت کی لیکن یہی پڑھے لکھے بچے پھر بھی اگر معاشرے کیلئے ایک لعنت بن جائے تو ذمہ دار کون ہوگا ؟ واضح رہے کہ کچھ بیماریوں کا علاج ڈاکٹرز کے ہاں نہیں بلکہ اپنے اندر ضمیر کی غیرت کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں ۔ جس پر صرف اور صرف انسان خود ہی غیرت کرکے قابو پاسکتے ہیں ۔ ایک دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ ملکی جامعات کی نسبت اسلامی مدرسوں میں نشہ کی لعنت انتہائی کم پائی جاتی ہے جو واقعی قابل ستائش امر ہیں۔ تدارک کے کیلئے  یہاں پر صرف اور صرف  ایک ہی تجویز دیا جاتا ہے کہ طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینےکیلئے مواقع دی جائے ۔ ورنہ پڑھے لکھے لوگ جب جاہل بن جاتے ہیں تو وہ معاشرے میں ہر منفی سرگرمی کا تخلیق کار بن جاتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں