44

عوام الناس کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا بحیثیت ایڈیشنل کلکٹر میری اولین ذمہ داری ہے

گلگت،۔ڈپٹی کمشنر/کلکٹر گلگت امیر اعظم کی ہدایات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر /ایڈیشنل کلکٹر گلگت کیپٹن (ر)اریب احمدمختار نے زمینوں کے تنازعات کے کیسز کے حوالے سے کلکٹر کورٹ لگایا۔ جس میں ایڈیشنل کلکٹرگلگت نے (18) کیسز کی سماعت کی جن میں سے08 کیسزکے فیصلے سنائیں چھ کیسز کی رپورٹس نہ آنے پر تینوں سب ڈویژنوں کے اسسٹنٹ کمشنرز ہدایات جاری کرتے جلداز جلد چھ کیسز کی رپورٹس کلکٹر کورٹ میں پیش کریں تاکہ ان کیسز کے فیصلے جاری کئے جائینگے۔اورچار کیسز کے فریقین پیشی سے غیر حاضر تھے۔کلکٹر گلگت نے کورٹ کے سماعت کے دوران تینوں سب ڈویژنوں کے تحصیل آفس کے مختلف موصع جات کے پٹواریان کو ریکارڈ مال کے ہمراہ طلب کر کے ریکارڈ مال کی روشنی میں فیصلے جاری کئے۔ ایڈیشنل کلکٹر گلگت نے ڈسٹرکٹ قانونگو ڈی سی آفس گلگت کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 08 کیسزکے فیصلے صادر کئے گئے ہیں ان فیصلوں کے عملدرآمد کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل کلکٹر نے کورٹ میں سماعت کرتے ہوئے 08کیسز کی فیصلے جاری کرتے ہوئے چھ کیسز کے حوالے سے تینوں سب ڈویژنوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان چار کیسز کی ریکارڈ مال کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ کلکٹر کورٹ جلداز جلد ارسال کریں تاکہ ان کیسز کے بھی فیصلے جاری کئے جائینگے۔ ایڈیشنل کلکٹر گلگت نے فیصلے جاری کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ عوام الناس کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا بحیثیت ایڈیشنل کلکٹر میری اولین ذمہ داری ہے۔دیگر چارکیسزکے سائلان پیشی سے غیر حاضر رہنے پرایڈیشنل کلکٹر گلگت موقع پر ڈی کے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان چاروں کیسز کے فر یقین کو نوٹسز جاری کریں تاکہ وہ آئندہ پیشی پر حاضر ہو جائیں بصورت دیگر قانونی کاروائی عمل میں لاتے ہوئے کیسز کو خارج کیا جائے گا۔ دوران پیشی سائلان /پیشی کنندگان نے بھی کلکٹر گلگت کے فیصلوں پرمطمئن ہوکران کا بھرپور شکریہ ادا کیا۔کلکٹر کورٹ میں درستگی ریکارڈ،‘ بحالی انتقالات،شجرہ نسب،اپیل،اخراج ملکیت، منسوخی انتقالات، حوالگی رقبہ اور دیگر زمینوں سے متعلق کیسز کی سماعت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں