40

اقبال عمل اور یقینی منزل کا راستہ،تحریر محمد خورشید اختر

ہماری سوچ اور عادات کچھ ایسی ہیں کہ فن اور فنکار دور کی بات ایک مفکر اور مدبر کو بھی وہ مقام نہیں دے پاتے جس کا وہ حقدار ہے، مجدد اور مفکر صدیوں کے لئے رہنما ھوتے ہیں، ھم طاقوں میں سجانے والے بھی نہیں رہے، یہی حال اقبال جیسے عظیم مفکر، شاعر اور مدبر سے ھوا ھے کہ ھم اسے مصور پاکستان بھی مانتے ہیں، کہتے ہیں۔ مگر آج تک اس کے افکار کو عام فہم کرکے اپنی نسلوں تک نہیں پہنچا سکے، یہ 2006ء کی بات ہے ایف ڈی ای کے ڈائریکٹر جنرل مقصود الحسن نے سکولوں اور کالجوں میں اقبال فہمی کے لیے اقبال کی نظموں اور غزلوں کو تحت اللفظ اور بصری آلات کے ذریعے پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا میں بھی اسی ٹیم کا حصہ تھا میں نے مشاہدہ کیا کہ نوجوان کس قدر تیزی سے اقبال کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کرنے لگے تھے ان کے اندر بے انتہا شوق پیدا ہوا کہ وہ اقبال کو سمجھ سکیں، اس کے تخیل کو اپنا سکیں، مگر بدقسمتی سے یہ سلسلہ رک گیا، اور اقبال خود ہی بول پڑا کہ
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لاالہ الااللہ۔
ھمارے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم دونوں نے نوجوانوں کو بے زبان کر دیا ہے، وہ بس ایک لکیر کے فقیر بن کر رٹا اور شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں،
اقبال ایک فلسفی شاعر اور مصلح تو تھے ہی مگر انہوں نے عرب و عجم، شرق و غرب کے تمام مشاہدات آور عملی تجربات کو سامنے رکھ کر فکری باریکیوں کو بیان کیا اور اگر بیسویں صدی میں ایک اقبال ھی ھوتے تو کسی بھی قوم کو فکری تعمیر کی روشنی اقبال سے ہی ملتی، علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمان ھوں یا انسانی معاشرے میں بے عملی کا شکار کوئی قوم ھو اس نے اسے بیدار اور باعمل بنا دیا، یہ فکری نبض شناسی اور علاج دونوں مشکل کام ہیں جو اکیلے اقبال نے کر دی، اقبال خود غالب کو بڑا شاعر اور فنی عروج کا مقام دیتے تھے، مگر فکری اعتبار سے پہلی دفعہ ادب برائے زندگی یا ادب برائے مقصد کا بیڑا اٹھایا اور اسے منزل دی،یہی رجعت پسندی دراصل زندگی کے مقاصد سے آگاہ کرتی اور انسان کو اپنی تخلیق پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے،” تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن ” کی طرف توجہ دلا کر اقبال نے خودی کا مطلب سمجھا دیا، انسان دراصل اپنی ذات میں ایک انجمن ھے اس کے اندر اتنا بڑا سمندر ہے کہ اس کے اندر غوطے کھانے کے لیے ہی زندگی دی گئی تاکہ عرفان ذات سے، وہ معرافت خدا تک پہنچ جائے، علامہ اقبال انسان اور خصوصاً مسلمان کو خودی کا درس دیا تاکہ وہ قومی تعمیر کا ذریعہ بن سکیں،
فرد کے ھاتھوں میں ھے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ھے ملت کے مقدر کا ستارہ۔
جب فرد عرفان ذات حاصل کر لے گا تو وہ کسی بھی قوم کے لئے مفید بن جائے گا، یہ حکمت اور فکر بالکل عین فطرت اور تشریح قرآن ھے، اسی فکر و فلسفے کو اقبال نے قوم کے رگ و پے میں ڈال دیا، فکر اقبال دراصل مایوسی کے اندھیرے ختم کر کے روشنیوں میں لے آتی ہے اور انسان کو عمل پر مجبور کر دیتی ہے، مسلم اقوام نے آج تک جس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ یہ بے عملی، سستی اور قائلی ھی تھی جس نے برصغیر کے مسلمان حکمرانوں کو ڈبو دیا، امت مسلمہ کی نشاتہ الثانیہ کو زوال میں بدل دیا کہیں کسی جگہ تحرک پیدا ھوا تو اس کا نتیجہ کامیابی سے نکلا وہ پاکستان کا حصول ھو یا مشرق وسطی اور دنیا میں آنے والی تبدیلیاں سب کی بنیاد عمل ھے جو علم کی روشنی سے شروع ھوتا ھے اور عمل سے پروان چڑھتا منزل پہ پہنچتا ہے، اقبال نے تمام مشاہدات آور تجربات کے بعد دعوت دی کہ،
یہ گھڑی محشر کی ھے تو عرصہ محشر میں ھے
پیش کر غافل عمل اگر کوئی دفتر میں ہے،
مسلم امہ جن مسائل سے دوچار تھی یا ھے اقبال اس کا کھلے عام پرچار ھی نہیں عمل کا طریقہ بھی بتاتا ہے اور کہتا ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
کوئی کسی بھی میدان میں ھو وہ ان تین اصولوں سے اس میدان کا امام بن سکتا ہے، آج کل امام صرف دولت، خوشامد اور دھونس سے بنتا ہے جس کا نتیجہ ھمارے سامنے ھے، صداقت اور امانت سے عرب کے جہالت زدہ معاشرے میں انقلاب آسکتا ہے تو آج ہر ذریعہ علم موجود ہے بس کمی عمل کی ھے، جس سے پوری امت غافل ھے اور غفلت کی سزا اربوں انسان بھگت ریے ہیں، اقبال کی شاعری اور فلسفہ فنی خوبیوں سے خالی ھے نہ فکری اور عملی مقاصد سے دور ھے جہاں جہاں جس قوم نے سمجھا یا اقبال کے پیش روں اور مفکرین سے سیکھا وہ عروج پر پہنچ گئے، جس نے بے عملی اور مایوسی کو گلے لگا لیا وہ پاتال میں پہنچ گیا، عروق مردہ میں جان پیدا کرنی ھو، یا فکری مغالطوں سے باہر آنا ھو علامہ اقبال کی شاعری اور فکر کو مشعل راہ بنا کر منزل کی تلاش آسان ہے، ھمیں اقبال کو طاقوں، گانے بجانے اور یوم اقبال کے محدود ترانوں سے نکال کر قومی فکر کا اثاثہ بنانا ھوگا تاکہ حضرت انسان اور خاص کر مسلمان اپنی منزل جو مہ کامل کی صورت میں ھے کی طرف گامزن ہو،
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ، یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں