50

عیسائی فلسطین پر مظالم میں برابر کے شریک

یہ جو فلسطینی حماس کے مجائدین کو اسرائیل کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے عیسائی بھی دہشت گرد کہتے ہیں اس کے پیچھے عیسائیوں کے دماغ میں گذشتہ تین صلیبی جنگوں کی عداوت ہے۔ پہلے عیسائیوں نے بلفور معاہدے کے تحت اسرائیل کو فلسطین میں ریاست قائم کرنے دی ۔ اسرائیل نے پہلے ہی دن سے اپنی پارلیمنٹ کی دیوار پر کندہ کیاکہ’’ اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں‘‘ اس میں اِرد گرد کے عر ب ملکوں کے کچھ حصے شامل ہیں۔ عیسائیوں نے پوری دنیا کے یہودیوں کو جمع کر کے فلسطین میں آباد کیا۔ اسرائیلی کہتے ہیں وہ اللہ کی چہتی مخلوق ہے۔ باقی ساری قومیں کیڑے مکوڑے ہیں۔ ان کو تباہ کرنا ان کے مذہب میں شامل ہے۔ یہ باتیں اسرائیل اپنے بچوں کو بھی ہفتہ میں تین بار، از بر کراتے ہیں۔ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے فلسطینیو ںکا قتل عام کر کے ان کے گھروں اور زمینوںسے نکال کر در بدر کر کے نوے فیصد فلسطین پر قبضہ جما لیا۔
اسرائیل نے عیسائیوں کی حمایت سے گذشتہ کئی عشروں سے غزہ کے فلطینیوں کو جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ جب چاہتا تھا قیدیوں کو بمباری کر کے شہید کر دیتا۔غزہ کی چالیس میل لمبی اور بارہ میل چوڑی پٹی کے قیدیوں کے سامنے کنکریٹ کی دیوار بنائی ہوئی ہے۔جب چاہتا پانی بند کر دہتا ہے جب چاہتا ہے بجلی بند کر دیتا ہے۔خوراک، ادویات یعنی زندہ رہنے کی ہر چیز پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔ باہر سے کوئی امداد بھی نہیں آنے دیتا۔ ایک دفعہ ترکی نے ایک بحری جہاز میں غزہ کے قیدیوں کے لیے امداد بھیجی تو اس جہاز پر فوجی حملہ کر کے روک دیا تھا۔ مصر کی طرف ایک راستہ ہے اسے مصر کے فوجی ڈکٹیٹر سیسی نے امریکا کے حکم پر بند کیا ہواہے۔غزہ کے قیدی کہیں باہر نہیں نکل سکتے۔ ایسی گھٹن میں تنگ آکر حماس کے مجائدین نے قید میں مرنے سے بہتر ہے کہ میدان میں نکل کر موت کو گلے سے لگایا جائے،اور مظلومین ِغزہ پر بار بار بمباری کا بدلہ لیا جائے۔ چناچہ حماس نے بحری ، بری اور فضائی راستوں سے یک باریگی سے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ یاد رہے کہ حماس کوئی ملک نہیں، جس کے پاس اپنی اسٹیڈنگ فوج، نیوی یا ہوائی فوج ہو۔ جس کی کوئی سرحدیں ہوں۔ کوئی فوج ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر فوج لگی ہوئی ہو۔ بلکہ بائیس لاکھ آبادی کے نہتے قیدی ہیں، جو غزہ کی پٹی میں رہتے ہیں۔ حماس کے مجائدین نے صرف غزہ میں خفیہ سرنگیں بنائی ہوئی ہیں۔ جن کے اندر رہ کر وہ راکٹ اسرائیل پر داغتے رہتے ہیں۔ قوم پرست اسرائیلی ریاست جو غیر علانیہ ایٹمی طاقت ہے۔ میزائیل اور جدید ڈوم حصار کے اندر اپنے آپ کو محفوظ بنایا ہوا ہے، اُس سے جنگ کر رہے ہیں۔ حماس کے گوریلوں نے یک باریگی سے اسرائیل پر تین اطراف سے حملہ کیا۔ کنکریٹ کی دیوار کو کئی جگہ سے توڑ کر اندر گھس گئے۔ گلیئڈرز سے اُڑ کر اسرائیل کی زمین میں پہنچ گئے۔ سمندر کی طرف سے تیر کر اسرائیل میں داخل ہو گئے ۔سمندر میں اسرائیل کی نیوی پر تارپیڈو سے حملہ کر کے تباہی مچائی۔ حماس کا کہنا ہے جلد اسرائیل کی مکمل تباہی کی ویڈیو جاری کریں گے۔ پہلے دن ایک ہی وقت میں پانچ ہزار راکٹ داغے۔ زیادہ تو ڈوم ٹیکنالوجی نے تباہ کر دیے، مگرباقی راکٹوں نے اسرائیل میں تباہی مچا دی۔ بلکہ اب اسرائیل کی ایٹمی تنصیبات پر راکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔ حماس گوریلوں نے اسرائیل کے اندر گھس کر کئی فوجیوں اور کچھ سولین کو قیدی بنا لیا۔ کیا یہ اس صدی کا عجوبہ نہیں جو حماس کے گوریلوں نے انجام دیا ہے؟ اس کے رد عمل میں اسرائیل نے غزہ کی قید آبادی پر سات اکتوبر سے آج تک ہزاروں ہوائی حملے میں کارپٹ بمباری اور میزائیل داغ کر اورسفید فارسفورس کے بمب گھرا کر، اس تحریر تک تقریباً دس ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کو شہید کر چکا ہے۔ اس میں بچوںاور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اسرائیل نے حماس مجائدین پر حملہ کا بدلہ لینے کے بجائے نہتے غزہ کے قیدیوں پر ظلم کی انتہا کرکے ،ہلاکو کی یاد تازہ کر دی ہے۔ اسرائیل نے مساجد ، اسکولوں، ہسپتالوں اور مہاجر کیمپوں پر بمباری اور میزائیل داغ کر قیامت برپا کر دی ہے۔ ہزاروں رہائشی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کا نکالنے کا انتظام نہیں۔ میڈیا کی عمارتوں کو بھی نہیں بخشا۔ پچیس صحافیوں کو بھی مار ڈالا، جن میں بیس الجزیرہ ٹی وی قطر کے صحافی ہیں۔ اقوام متحدہ کے درجن بھر رضاکاروں کو بمب برسا کر ہلاک کر دیا۔ ان کی امدادی عمارتوں کو بھی نہیں بخشا۔ جنگ شروع ہوتے ہی امریکا کے صدر نے فوراً اسرائیل کادورا کیا۔ امریکی وزیر خارجہ تیسرا دورہ کر رہا ہے۔ امریکاکے فوجی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ امریکا نے اسرائیل کی مدد کے لیے پہلے ایک بحری بیڑا اسرائیل پہنچایا ۔ پھر دوسرا بحری پیڑا بھی پہنچا دیا۔ یورپ کے سارے عیسائی ملکوں نے اسرائیل کی حمایت اور مددپر کمر بستا ہیں۔ عیسائیوں کی مدد سے اسرائیل فلسطینیوں کی مکمل نسل کشی کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے جنگ بندی کی قرارداد منظور کی۔ جسے اسرائیل نے پہلے کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ فلسطینیوں کی حمایت میں سلامتی کونسل میں امریکا نے ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے پہلے کی طرح رد کر دیا۔ کیا اب بھی مسلمان حکمرانوں کو اللہ کے اس ہدایت پر کچھ شک ہے کہ، یہود اور نصارا تمھارے کبھی بھی دوست نہیں ہو سکتے ۔فلسطینیوں کی نسل کشی پرا قوام متحدہ کا اعلیٰ عہدہ دار مستفی ہو گیا۔کئی ملکوں نے اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ اس سفاکیت اور نسل کشی پر دنیا کے انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ اسرائیل کی حمایت ختم کر رہے ہیں۔ دنیا کے ستاون اسلامی ملکوں کے حکمران صرف زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں،جبکہ عیسائی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ اس ظلم کے خلاف مسلمان حکمرانوں کو فلسطینیوں کو اسلحے کی سپلائی شروع کرنا چاہیے۔ خاص کر اِرد گردر کے عرب ممالک جن کو اسرائیل فتح کر کے گریٹر اسرائیل بننا چاہتا ہے، کو جہاد کا اعلان کر دینا چاہیے۔ پہلے بھی اسرائیل ان کے علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ ان سہنری موقعہ ہے کہ وہ حماس کے ساتھ لڑائی میں شامل ہو کر اپنے علاقے واپس لے اور اسرائیل کی ناجائز ریاسے کو ختم کر دیں۔القدس صرف فلسطینیوں یا عربوں کا نہیں بلکہ امت مسلمہ کا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظمؒ نے بھی بے شمار مواقع پر فلسطینی جہاد کی حمایت کی اور اسرائیل کو ایک ناجائز غاصبانہ ریاست قرار دیا تھا۔ مسجد اقصیٰ جس کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے۔ وہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے۔ یہودی اسے گھرا کر، اس کی جگہ ہیکلِ سلیمانی بنانا چاہتے ہیں۔ مذہبی انتہا پسند امریکہ کے سابق صدر بش کا نائین الیون کے جعلی واقعہ پر بیان کہ، اُس نے صلبی جنگ چھیڑ دی ہے۔ فلسطینی مسلمانوں موجودہ نسل کشی اسی کا تسلسل ہے۔ترکیہ کے صدر اردگان نے بھی استنبول لاکھوں کی ریلی میں امریکا سے کہا ہے کہ تم نے صلیبی جنگ چھیڑ دی ہے۔ پہلی تین صلیبیوں جنگوں میں عیسائی مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ اب اس میں قوم پرست اسرائیل بھی شامل ہو گیا ہے۔ نائین الیون کے بعدپہلے یہودی اور عیسائی میڈیا سے مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد ثابت کرنے پر لگا دیا۔مغرب کی ترتیب شدہ آکسفورڈڈکشنری میں،پہلے انتہا پسندی کا لفظ عیسایوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اب آپ عیسایوں کی ترتیب شدہ آکسفورڈ ڈکشنری کھول کر دیکھیں لفظ عیسائی ہٹا کر لفظ مسلمان لکھ دیا گیا۔ یعنی جو مسلمان اپنے دین کو اپنا رہنما سمجھتا ہے اور سیاسی غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اب انتہا پسندہے۔ شاید اسی پر شاعر اسلام علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا۔
جلال پادشاہی ہو یا جمہوری تماشہ ہو۔
جدا ہودین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔
اب بھی مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ یہود اور نصارا کے ظلم سے چھٹکارا ملے ۔ دنیا میں اِن کو عروج نصیب ہو تو اسلام کے زرین اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ یہ اصول ہمارے قرآن اور نبی ؐ کی سنت کے اندر اب بھی موجود ہیں۔ اسی لیے مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ قرآن اور سنت کو تھام لو فلاح پا ئو گے۔ ان حالات میںمسلمان حکمرانوں کو یک جا ہو کر جہاد کا اعلان کر دینا چاہیے۔ سارے اسلامی ملک عیسا ئی بش کی طرف سے اعلان کردہ صلیبی جنگ کے خلاف متحد ہو نا چاہیے۔ عیسائیوں اس دفعہ اسرائیل کو فلسطینی زمین دے کر آگے رکھا ہوا ہے۔ اس سازش پر قابو پانے کے لیے مسلمان حکمرانوں چوتھی صلیبی جنگ میں متحد ہو کر لڑنے چاہیے۔ ورنہ یہ ایک ایک مسلمان ملک کو آپس میں لڑا کر اپنا اُلو سیدھا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے سامنے، ایران عراق جنگ، کویت پر عراق کا حملہ، عراق، افغانستان، بوسنیااور چیچنیا پرحملے وغیرہ مسلمان حکمرانوں کے سامنے ہیں۔ لہٰذا یہ صرف حماس کی جنگ نہیں قبلہ اوّل کو بچانے کی جنگ ہے۔ یہ عیسایوں کی طرف سے سے چھیڑی جانے والی چوتھی صلیبی جنگ ہے جس میں اسرائیل کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اللہ ہماری مدد فرما آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں