42

غزہ میں اسرائیلی فوج ہرگھنٹے میں اوسطا 42بم گرا رہی ہے

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک )غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی مسلح افواج 23لاکھ کی آبادی والے علاقے غزہ میں ہرگھنٹے میں اوسطا 42بم گرا رہی ہیں،عرب میڈیا نے غزہ کی وزارت صحت کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کی مسلح افواج 7اکتوبر سے غزہ میں اوسطا 42بم برسا رہی ہیں ،ان بموں سے ہر گھنٹے میں اوسطا 12عمارتیں منہدم ہو رہی ہیں، 15فلسطینی شہید ہو رہے ہیں جن میں سے 6بچے ہوتے ہیں ، اس بمباری سے ہر گھنٹے میں اوسطا 35افراد زخمی ہو رہے ہیں،اسرائیلی بمباری سے گھر ، سکول ، مساجد ، چرچ اور ہسپتال غرض کوئی جگہ محفوظ نہیں،اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں کے نتیجے میں شمالی غزہ کے 8لاکھ سے زیادہ مکین بے گھر ہو چکے ہیں ، سرائیلی فوجی کارروائیوں نے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لئے دیگر علاقوں میں منتقلی کے راستے بھی مسدود کردیئے ہیں۔امریکا نے دعوٰ کیا ہے غزہ میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باوجود امریکا نے کہا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتاہے،امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے یقین دلایا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے بعد بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے،دوسری جانب سعودی وزیرِ دفاع خالد بن سلمان کی اعلی امریکی عہدیداروں سے ملاقات ہوئی ہے،وائٹ ہائوس کے مطابق ملاقات میں اسرائیل حماس جنگ اور غزہ میں انسانی امداد کی رسائی پر بات چیت کی گئی، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے لیے کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا جس پر بات چیت سعودی عرب اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری ہے دوسری جانب غزہ صحافیوں کا مقتل بن گیا، عالمی صحافتی تنظیم نے معاملہ عالمی عدالت میں اٹھا دیاغزہ صحافیوں کیلئے حالیہ دور کا سب سے بڑا مقتل بن گیا ، اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے اب تک غزہ میں 34صحافی مارے جا چکے ہیں ، رواں برس جنوری سے اب تک دنیا بھر میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 37ہے،بین الاقوامی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز نے غزہ میں صحافیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں اٹھا دیا،صحافتی تنظیم کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں 50سے زیادہ میڈیا عمارتوں پر جان بوجھ کر بمباری کی ہے،رپورٹرز ود آوٹ بارڈرز کاکہنا ہے کہ اسرائیل حماس جنگ کے آغاز سے اب تک 34صحافی جان کی بازی ہارے جن میں 12اپنی ڈیوٹی پر جبکہ 10غزہ ، ایک اسرائیل اور ایک لبنان میں مارا گیا ،تنظیم کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت دینے سے بھی انکار کر دیا جبکہ میڈیا کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے،صحافتی تنظیم کی جانب سے غزہ میں جنگی جرائم کی یہ تیسری شکایت عالمی عدالت انصاف میں درج کروائی گئی ہے،صحافتی تنظیموں اور عرب میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج جان بوجھ کر صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہے تا کہ میڈیا کو خاموش کیا جا سکے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی کا دنیا کو پتا نہ چل سکے دوسری جانب سے حماس نے غزہ میں گھسنے والے اسرائیلی ٹینکوں کو تباہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی، جنگجوں نے سرنگ سے نکل کر ٹینک شکن میزائلوں سے نشانہ بنایا،القسام بریگیڈز کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حماس کے جنگجو سرنگ سے نکلتے ہیں اور اسرائیلی ٹینکوں کو ٹینک شکن میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کرتے ہیں،غزہ میں زمینی آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج کو سخت جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، گزشتہ 30گھنٹوں میں اس کے متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، اسرائیل کی وزارت دفاع نے بھی غزہ میں اپنے 16فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے،واضح رہے کہ 7اکتوبر کے بعد سے ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 325ہو چکی جب کہ مجموعی طور پر 1400سے زائد اسرائیلی مارے گئے ہیں،ویڈیو جاری کرنے سے قبل حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے کہا تھا کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمت کار تمام محاذوں پر اسرائیلی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں، بہت جلد غزہ میں اسرائیلی فورسز کے حقیقی نقصانات کا پردہ فاش کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جبالیہ کیمپ پر فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں خواتین سمیت بچوں کا قتل عام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسرائیل کو بین الااقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر دوبارہ حملہ کیا ہے، فضائی حملے کے نتیجے پناہ گزین کیمپ کی تمام عمارتیں تباہ ہو گئیں، اقوام متحدہ کی جانب سے پناہ گزین کیمپ پر حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے اسرائیل کی غزہ پر جاری بمباری کے باعث خطے میں بڑھتے ردعمل کو روکنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اتوار کے روز ترکیہ پہنچیں گے،عرب میڈیاکے مطابق امریکی وزیر خارجہ 5نومبر کو ترکیہ کے دارالحکومت میں اعلی حکومتی عہدے داروں کے ساتھ مشرق وسطی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے،امکان ہے کہ ان کے اس دورے میں حوثیوں کے حالیہ راکٹ حملوں کے علاوہ شام میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی موجودگی بھی زیر بحث آئے گی،امریکی وزیر خارجہ اس سے قبل بھی اسرائیل حماس جنگ کے تناظر میں مشرق وسطی کا طویل دورہ کر چکے ہیں، اب بھی وہ مشرق وسطی کے کئی ممالک کا دورہ کریں گے، ان میں اردن بھی شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں