52

غزہ آہ و بکا میں مبتلا ہے، بچے جوان

غزہ آہ و بکا میں مبتلا ہے، بچے جوان ایسے مارے جا رہے ہیں جیسے فرعون نے بھی نہیں مارے ہوں گے، درد ہے کہ سینہ چاک کر رہا ہے اور دماغ ماؤف ہو گیا، رہی سہی کسر مسلم دنیا اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی مکمل خاموشی نے نکال دی، کوئی پرسانِ حال نہیں، یہ درد 1948ء سے فلسطین اور کشمیر میں جاری ہے، کبھی شدت اور کبھی اندر کی حدت خون نچوڑ رہی ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ دانشور ھو یا دین و دنیا کے مفکر، اس مرض کا علاج جانتے ھوئے بیان کرنے سے قاصر ہیں اور، آج تک اس کا حل نہیں نکال سکے، دوسری طرف فطرت اپنے قانون کے مطابق چل رہی ہے جہاں ایک ھی قانون ہے، محنت اور عمل سے سب بدلا جا سکتا ہے، اس قانون کے لئے مسلمان ھونا ضروری نہیں البتہ مسلمان کو زیادہ سمجھنا ضروری ہے کوئی اس کو صلیب اور حلال کی جنگ کے طور پر دیکھ رہا ہے، کوئی اسرائیل میں آکر کہتا ہے میں امریکی نمائندے کے طور پر نہیں آیا، میں یہودی ھونے کے ناطے آیا ہوں،
یادش بخیر، برطانیہ نے تقریباً آدھی دنیا پر حکمرانی کی ہے، معاش اور معاشرت میں آہستہ آہستہ گھستے گھستے، حکمرانی تک پہنچا تھا اور آج آدھی دنیا نو آبادیاتی نظام کے تحت ابھی تک غلام اور آزاد میں پھنسی ہوئی ہے، جس نے سبق سیکھ لیا وہ ترقی کے عروج پہ پہنچ گیا، باقی بچنے والوں پہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی ابتدا مشرق وسطی کی تقسیم سے کی تھی اور اسرائیل کو آباد کرکے طاقت میں تبدیل کر دیا، دوسری طرف سلطنت عثمانیہ والے کمزور معیشت، عرب ترک عصیبت اور حکمرانی کے نشے کی وجہ سے تقسیم ھو گئے، اس تقسیم کے بعد بھی بادشاہانہ سوچ نہیں بدلی، دوسری طرف یورپ نے بادشاہت، جہالت، ناانصافی اور حکمرانی کے نشے سے جان چھڑا لی، امریکہ کا وجود اور نظریہ ہر ازم کے خلاف ایک نئی طرز حکمرانی کے تحت سامنے آیا، اس نے سوشلزم کی، کیمونزم کی دیواریں گرائیں تو نیشنلزم کو بھی نہیں چلنے دیا، اس نے عراق، شام اور لیبیا کو صرف نیشنلزم کی سزا دی لیکن اپنی اصطلاح میں بڑا کلئیر ہے کہ وہ زمینوں پر نہیں ضمیروں اور نظریے پر قبضہ کرتا ہے، ویتنام کے بعد اس نے اپنی حکمت عملی بدل لی، کوئی علاقہ اس کا عارضی بسیرا ھو سکتا ہے مگر مستقل قبضے کی خواہش نہیں ہے، اس کا نام امریکہ نے” گلوبل سرویلینس اسٹیٹ ” یعنی پوری دنیا کی نگرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے کرنا، ان کی معلومات حاصل کرنا اور انہیں بلیک میل کرنا، رکھ دیا تاکہ کسی نظریے اور ازم چاہے وہ اسلامائزیشن یا امت کا اتحاد کیوں نہ ہو کے خلاف کھڑا ھونا ہے، اس کے لیے مشرق وسطی میں امریکہ نے اسرائیل کو مضبوط کیا، مشرق میں بھارت سے تعلق رکھا، گویا مقصد اسلام کے ملی نظریے، کمیونزم اور سوشلزم کو روکنا تھا، اس کے لیے دوسرے کی سرزمین استعمال کرنا اس نے اپنا حق سمجھ لیا، کمزور اور نااہل حکومتیں،کمیونٹی ویلفیر اور کسی حد تک تعلیم سے آغاز کرتے کرتے، اچہے حکمرانوں کے قتل تک بھی پہنچا گویا گلوبل سرویلینس اسٹیٹ کے تحت اس نے دنیا پر حکمرانی کا ایجنڈا مکمل کیا ہے، یہ میں نے کہہ رہا خود امریکی ماہرین اور انسان دوست دانشور لکھ رہے ہیں،
حال ہی میں آپ نے دیکھا ھوگا روس اور یوکرین کی جنگ ھوئی، نیٹو کے واضع اعلان کے باوجود یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا گیا تاکہ روس کے خلاف یوکرین کی سر زمین پر جنگ لڑی جائے، اس نے یوکرین کی حمایت نہ کرنے والوں سے بدلا لیا تو دوسری طرف چین اور روس نے مشرق وسطی اور افغانستان اور وسط ایشیا سے تعلقات قائم کر لئے، اسرائیل اور فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے کئی معاہدے ھو چکے تہے کہ چین،اور روس نے اسی امریکی پالیسی کے مطابق یوکرین اور ھانک کانک کا بدلا غزہ یا طوفان الاقصی کے ذریعے لیا، یہ تھیوری غلط بھی ہو سکتی ہے مگر قرائن بتا رہے ہیں کہ اچانک حماس کا حملہ اور امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچنا بیک گراؤنڈ میں ایران، روس اور چین میں سے کسی کی منصوبہ بندی ھوسکتی ہے، دوسری تھیوری یہ ہے کہ فلسطینی عرب اسرائیل بڑھتے ہوئے تعلقات کے بعد مایوس تہے اور اس مایوسی میں انہوں نے سخت قدم اٹھایا اس کے علاؤہ ان کے پاس آپشن نہیں تھا، یہ تھیوری بھی درست ھو سکتی ہے، لیکن اصل علاج ہے کیا تو اے ھمارے دوستو تعلیم اور ٹیکنالوجی وہ واحد ذریعہ ہے جس کو تقویت دئیے بغیر مسلم دنیا کیسے ایک بڑی طاقت سے مقابلہ کر سکیں گے،؟ یا آپ آسان حل ھی تلاش کر لیں تو وہ تمام مسلم ریاستوں کا ایک ھی ایجنڈے پر متفق ھونا ہے، ان دو تجاویز کے علاؤہ کوئی ہے تو بتا دیں، کیا آپ کے دل پر چھری نہیں چلتی جب نو ھزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ھو جائیں غزہ کھنڈر بن جائے بچے اپنے خواب کہاں تلاش کریں،؟
ان سوالوں کے جوابات تمام مسلمانوں سے، یا ایسی تنظیموں سے بھی پوچہے جائیں گے جو ریاستیں مضبوط کرنے کے بجائے جتہے مضبوط کرتے ہیں آخر مسلماں اپنی سرزمین اور اپنے’’سر‘‘دوسروں کے لیے کب تک پیش کرتے رہیں گے؟ درد ناک سوال ہے، حکمت، بصیرت اور سیاسی فہم بھی کوئی چیز ہے کہ نہیں، سوچنا ھوگا میں تو کم از کم اتنا انسانی خون نہیں دیکھ سکتا گلوبل سرویلینس اسٹیٹ کا نعرہ لگانے والے نے اپنا کام محنت سے کر دکھایا، اس کے مخالفین اور سپر پاور کا دھونس قائم کرنے کے لیے بھی ھماری سرزمین اور ھمیں استعمال کرتے ہیں، کیا یہ سوال درست ہیں کہ نہیں اپنی آرا ضرور دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں