33

تحریک آزادی فلسطین کے زیر اہتمام سکردو یاد گار چوک پر احتجاجی جلسہ منعقد

سکردو، فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تحریک آزادی فلسطین کے زیر اہتمام سکردو یاد گار چوک پر احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں علماء سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جلسے میں معروف عالم ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی صدر آغا سید علی رضوی، شیخ زاہد حسین زاہدی، اپوزیشن لیڈر محمد کاظم میثم، شیخ حسن جوہری، پیپلزپارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کیپٹن (ر) سکند ر علی، سول سوسائٹی کے نجف علی، آئی ایس او کے ڈویژن صدر عاشق حسین، مجلس یوتھ ونگ کے صدر سید اطہر سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے کس نے سوچا تھا کہ اسرائیل کے آئرن ڈوم کا مقابلہ کرے جدید ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیل غیبی طاقت کے سامنے ریت کا دیوار ثابت ہوا دنیا نے صرف اسرائیل سے متعلق کہانیاں گڑے ہوئے تھے اند ر سے کھوکھلا تھاحماس اور حزب اللہ کے ایمانی طاقت نے اسرائیل اور امریکہ جیسے صیہونی قوتوں کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کیا انہیں چند دنوں میں جبری بسائے گئے4لاکھ سے زائد یہودی اسرائیل چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اسرائیل نے تمام تر انسانیت کو پامال کرتے ہوئے ہسپتالوں اور عبادت گاہوں پر حملے کئے جس سے ہسپتالوں میں موجود چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت نہتے شہری شہید ہو گئے لیکن دنیا صرف اسرائیل کے شہریوں کو مظلوم بنا کر پیش کر رہے ہیں یہ مغرب کی دغلا پالیسی ہے انہوں نے کہاکہ جتنے بھی اسلامی ممالک ہے وہ مصلحت پسندی کا شکار ہے صرف ایران اور لبنان کے حزب اللہ نے حماس کا ساتھ دیا ہے جو کہ مسلم ممالک کے شرم کا مقام ہے ہم سب کو اپنے فلسطینی مسلمان بھائیوں کی حمایت کرتے ہوئے ہر قسم کی تعاون کرنا ہوگا تاکہ پریشانی اور مشکل میں پھنسے ہوئے ہمارے مسلمان بہن بھائیوں کی مدد ہو سکے انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر گلگت بلتستان کو بھی فلسطین بنانے کے در پے ہیں لیکن ہمارے لوگ ہے کہ سمجھنے کو تیار نہیں ہے ہم نے بارہا اس طرف توجہ مبذول کرایا لیکن چند روپوں کیلئے ہمارے لوگ زمینیں فروخت کرتے ہیں ایک وقت آئے گا یہاں مقامی لوگوں سے زیادہ غیر مقامی لوگوں کا زمینیں ہوگی ہمارے متعدنیات پر غیروں کی نظریں ہیں وہ لٹ کے لے جارہے ہیں ہمیں کوئی احساس نہیں ہے انہوں نے کہاکہ شگر کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں مقامی لوگ نہیں جاسکتے وہاں پر چائینز پہنچے ہوئے ہیں اور وہاں سے معدنیات نکال نکال کر لے کر جارہے ہیں اب بھی ہوش کے ناخون لینے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے وقتوں میں ہماری نسلیں فلسطین اور اسرائیل کی طرح کے ماحول میں نہ پھنس جائے اور ہماری نسلیں ہیں کوستے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں