39

قوم کے اصل مجرم

کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کے تمام مشہور اخبارات اور الیکٹرانک چینلز پر یہودیوں کا کنٹرول ہے اور وہ میڈیا کو اپنے مذمو م مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان اخبارات میں آپ کو اسرائیل پر تنقیدی مضمون بھی پڑھنے کو ملیں گے اور الیکٹرانک چینلز پر اسرائیل مخالف تبصرے بھی سننے کو ملیں گے۔ ان تمام اخبارات اور الیکٹرانک چینلز کی پالیسی یہ ہے کہ وہ واقعات کی رپورٹنگ ایسے کرتے ہیں جس میں پڑھنے اور سننے والوں کو خبروں اور ہونے والے واقعات کا متوازن مواد مل جاتا ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ یک طرفہ رپورٹنگ کی جا رہی ہے۔ ہم اگر اپنے اخبارات اور الیکٹرانک چینلز پرپیش کی جانے والی خبروں اور ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ رپورٹنگ یک طرفہ ہو رہی ہے۔پاکستانی اخبارات اور الیکٹرانک چینلز اشتہار لینے کی خاطر حکومت وقت کی گود میں بیٹھے نظر آتے ہیں، میڈیا مالکان کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر حکومت وقت کے خلاف مواد اخبار میں شائع کر دیا یا چینل پر تبصرہ کر دیا تو اشتہار بند ہو جائیں گے۔ مقتدر حلقوں کا دباؤ بھی ذہن پر سوار رہتا ہے کہ کہیں ان کی پیشانی پر بل نہ پڑ جائیں۔ملازمین کی مستقل کانٹ چھانٹ بھی اسی لیے ہوتی رہتی ہے۔سفارش آ تی ہے کہ فلاں کو رکھ لو اور فلاں کو نکال دو۔حق گو صحافیوں اور اینکرز کو انہی کے کہنے پر ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے اور ملک چھوڑ کر بھی جانا پڑا۔تمام الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر حکومت کا کنٹرول ہے اور صرف وہی خبر عوام کو سنائی جاتی ہے جو یہ چاہتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے اب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی جھوٹی خبریں اور افواہیں جلد اپنا اثر کھو دیتی ہیں اور عوام گمراہ ہونے سے بچ جاتے ہیں۔سنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حق میں لکھنے والوں اور بولنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو چکی ہے جب کہ مخالفین کو لکھنے اور بولنے کی پوری آزادی ہے۔
پاکستانی صحافت میں چند نامورصحافی ایسے ہیں جو پرنٹ میڈیا میں کالمز بھی لکھتے ہیں اور شام کو مختلف چینلز پر بطور اینکر پرائم ٹائم میں چالیس سے پچاس منٹس دورانیہ کے پروگرام بھی کرتے ہیں ۔حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو بلا کر اور لڑوا کر تماشہ بھی دیکھتے ہیں۔ ان حضرات کو یہ زعم بھی ہے کہ حالات حاضرہ پر کیا گیا ان کا تجزیہ حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔سوشل میڈیا کے میدان میں آنے کے بعد ان نامور صحافیوں کی ساکھ گہنا چکی ہے۔ گھاگ صحافیوں میں حامد میر،طلعت حسین، جاوید چودھری،غریدہ فاروقی، عاصمہ شیرازی،سہیل وڑائچ، شاہ زیب خانزادہ، منصور علی خان، محمد مالک، ندیم ملک،سلیم صافی،سلیم بخاری، نصرت جاوید اور تمام لفافہ صحافی ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ تمام حضرات قوم سے سچ چھپاتے تھے اور حکومتوں کو بلیک میل کر کے ناجائز فائدے اُٹھاتے تھے۔ پچھلی حکومتیں انہیں مختلف طریقوں سے نوازتی رہتی تھیں۔ان کیلئے قومی خزانے کے منہ کھلے ہوئے تھے۔ان کو سرکاری خرچ پر بیرونی دورے اور حج بھی کروائے جاتے تھے۔ یہ حکومت وقت کی چاپلوسی میں نام نہاد ترقی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے۔عمران خان کے دور میں یہ حضرات مائیک اٹھائے پھرتے تھے اور عوام کے منہ میں اپنی زبان ڈال کر قوم کے سامنے مہنگائی کا رونا روتے تھے اب جبکہ مہنگائی % 45 بڑھ چکی ہے بغض عمران میں ان کی زبانیں گنگ ہو چکی ہیں۔یہ صحافی اور اینکر حضرات قوم کے اصل مجرم ہیں۔ انہوں نے قوم تک سچ پہنچنے نہیں دیا اور اگر کبھی لکھا یا تبصرہ کیا بھی تو آدھا سچ بتایا۔ان میں سے اکثر چالیس سے پچاس لاکھ ماہانہ کماتے رہے ہیں۔ان کی تنخواہوں کے بارے میں ایک مرتبہ جنرل(ر) قمر باجوہ نے بتایا تھا۔ ان کے پاس ان کی تنخواہوں اور ان پر ہونے والی نوازشات کی مکمل تفصیلات ہیں۔ عمران حکومت نے جب غیر ضروری اشتہار بند کیے تو ان سب کی تنخواہیں 50% تک کم ہو گئیں اور یوں یہ تمام صحافی بغض عمران میں مبتلا ہو گئے اور ان سب نے مل کر رجیم چینج آپریشن میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا جو اب سامنے آ رہا ہے۔ یہ سب اس بات سے بھی خائف ہیں کہ نوجوان یوٹیوبرز نے سوشل میڈیا پر اپنا سکہ جما دیا ہے،پہلے جو اطلاعات عوام تک نہیں پہنچتی تھیں اب سوشل میڈیا کے ذریعے عوام ان سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ قوم اب ان کے چالیس پچاس منٹس کے طویل پروگرامز دیکھنے کی بجائے سوشل میڈیا پر کیے گئے دس سے پندرہ منٹس کے حقیقت سے قریب تجزیئے دیکھنا پسند کرتی ہے۔تمام گھاگ صحافی اس بات کے ماہر ہیں کہ خبر یا کسی واقعہ کو سیدھا پیش کرنے کی بجائے مرچ مصالحہ لگا کر اور الجھا کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ “کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی “والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ جن سیاستدانوں کو بلاتے ہیں ان کو لڑانے کے لیے کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ ضرور چھوڑ دیتے ہیں جس سے و ہ آپس میں لڑ پڑتے ہیں اور یہ بیٹھ کر تماشہ دیکھتے ہیں۔ یہ ان کا محبوب مشغلہ ہے اور یوں یہ حضرات اپنے پروگرامز کی ریٹنگ بڑھاتے ہیں۔ فیک نیوز، افواہیں،سنسنی خیز خبریں پھیلانے اورحالات کا تجزیہ اپنے مفاد میں کرکے یہ نام نہاد دانشور اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔ بھاری معاوضے جو یہ اپنے مالکان سے بٹورتے تھے ان میں خاصی کمی آچکی ہے اور معاضوں میں کمی ان کیلئے خاصی تکلیف کا باعث ہے۔ صحافت کے یہ اُونچے میناربغض عمران میں اندھے ہو کر زمین بوس ہو چکے ہیں لیکن تکبّر اور رعونت سے ان کی گردنیں ابھی بھی اکڑی ہوئی ہیں۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ سب سے بد ترین انسان وہ ہے جسے حق اور سچ بات کا پتہ ہو اور وہ پھر بھی جھوٹ کے ساتھ کھڑارہے۔یہ قول ان سب نام نہاد دانشوروں پر پورا اترتا ہے۔ان کے گھناؤنے چہرے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔
چار ماہ بعد اینکر عمران ریاض خان کو اٹھانے والے افراد نے بالآخر رہا کر دیا ہے۔جس حالت میں وہ گھر لوٹے ہیں وہ بیان سے باہر ہے۔ چند جملے بولنے کے بعد عمران ریاض کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔بقول حفیظ اللہ نیازی وہ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ عمران ریاض کی گرفتاری پر صحافی تنظیمیں ایک دو مظاہرے کرنے کے بعد خاموش ہو گئی تھیں۔ صحافی اسد طور پر جب حملہ ہوا تھا تو حامد میر اور لبرل آنٹیاں میدان میں نکل آئیں تھیں اور بغیر کسی ثبوت کے افواج پاکستان کو رگید ڈالا تھا، پی ڈی ایم کی قیادت بھی اسد طور کے گھر پہنچ گئی تھی ،بعد میں تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ موصوف کا کوئی ذاتی معاملہ کسی خاتون صحافی کے ساتھ چل رہا تھا جس کی وجہ سے ٹھکائی ہوئی تھی اور معاملہ ایف آئی اے کے پاس تھا۔آزادی اظہارِ رائے کی علمبردار تنظیمیں جو عمران دور میں بات بات پر باہر نکل آتی تھیں اب شاید بھنگ پی کر سو رہی ہیں۔
قدرت کا بھی اپنا ایک اُصول ہے جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تواس کے تدارک کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔ہر فرعونے را موسیٰ ،آثارنظر آ رہے ہیں کہ ظلم کا یہ نظام اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ملک کے حالات تباہی کی طرف جاتا دیکھ کر حبیب جالب نے مارشل لاء دور میں چنداشعار کہے تھے جوآج کل کے حالات پر بھی منطبق ہوتے ہیں بلکہ درحقیقت ملک کے حالات مارشل لاء دور سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے
اس دیس کے اندھے حاکم ہیں
نہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں
نہ لوگوں کے وہ خادم ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں