44

ایڈولف ہٹلرکی غلطی اوراس کا خمیازہ , تحریر:سید ارشاد کاظمی

قارئین کرام،تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہٹلر جرمنی کا رہنے والا تھا اور اس کی ماں ایک مصری خاتون تھی۔ہٹلر کے باپ کے دنیا سے جانے کےبعد یہودیوں نے اس کی ماں کے ساتھ بدسلوکی اور نازیبا حرکات کیے،جسے ہٹلر نے بچپن سے مشاہدہ کیا اور اسی دن سے یہودیوں سے نفرت اس کے دل و دماغ میں سرایت کر گیا اور انتقام کی آگ بھڑکنے لگی۔ہٹلر نے یہودیوں سے انتقام کو اپنی زندگی کا ہدف اور مقصد بنا لیا،اتفاق سے اس کی جسمانی نشوونما غیر معمولی انداز میں ہونے لگااور کم وقت میں جسمانی لحاظ سے مظبوط تر ہوتے گئے،بہر کیف وہ جرمنی کے افواج کا سپہ سالار بنا اوراس دوران یہودیوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور،جب بھی کسی محاز پر جنگ کا موقع آتا یہودی آفیسروں کو آگے رکھتے تھے اور اپنی ہی فوج کے زریعے سے ان کو مار دیتے تھے،فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہٹلر نے ایک سیاسی پارٹی “نازی”بنایااور اس وقت سیاست میں قدم رکھا جب جرمنی کو شدید قسم کے معاشی مشکلات کا سامنا تھا،ایسے میں ہٹلر نے نیو جرمنی کا نعرہ لگایا اور سوشلزم کا پرچار کرنے لگے،شروع میں اس کو خاص پزیرائی نہیں ملی لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے اور اپنی جدو جہد جاری رکھا،قصہ مختصر 1933 میں اس کو اقتدار ملا اور وہ جرمنی کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا،سوشلزم کا نعرہ اقتدار حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا،اور یوں ہٹلر کا حقیقی چہرہ جرمنی کے عوام کے سامنے عیاں ہوا،چونکہ اسے یہودیوں سے شدید نفرت تھا،اس نے یہودیوں کا قتل عام شروع کیا اور 1933سے لیکر1945تک کم و بیش 60لاکھ یہودیوں کو قتل کیا اور کچھ یہودیوں کو یہ کہہ کر زندہ چھوڑ دیا کہ تاکہ دنیا والوں کو معلوم ہو جائے،کہ ہٹلر نے یہودیوں کو کیوں مارا۔کاش اگر ہٹلر اس وقت یہودیوں کا مکمل صفایا کرتے تو دنیا والے امن و چین سے جی رہے ہوتے،ہزاروں بچے یتیم نہ ہوتے،ہزاروں خواتین بیوہ نہ ہوتے،بھائی بہن سے اور بہن بھائی سے جدا نہ ہوتے،ماوں کے گود یوں سر عام نہیں اجڑتے،لوگوں کی عزتیں محفوظ ہوتے،شہر کے شہر یوں پلک جھپکنے میں راکھ کا ڈھیر نہ بنتے،ہر طرف خاک و خون نہ ہوتے،ہٹلرکی ایک غلطی کی سزا اہل عرب بلخصوص اہل فلسطین (سر زمین انبیاء) اسرائیل کی شکل میں بھگت رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں