64

لہو لہو فلسطین اور اُمتِ محمدیہ    

بیت المقدس متعدد مرتبہ تخت و تاراج ہوا ہے یہاں کی آبادیوں کو کئی بار زبردستی جلاوطن کیا گیا اور اس کی گلیوں میں انگنت جنگیں لڑی جاچکی ہیں جن میں خون کے دریا بہہ چکے ہیں۔ یہ دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔

عبرانی زبان میں یروشلم اور عربی زبان میں القدس کے نام سے معروف تاریخی شہر بیت المقدس جس کے معنی پاک گھر ہے ان شہروں میں سے ایک ہی جسے نوعِ انسانی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس شہر کا ذرہ ذرہ مقدس ہے اکثر انبیاءعلیہم السلام اسی شہر میں مبعوث ہوئے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور کئی دوسرے انبیاءبھی یہی مدفون ہیں.

حضرت محمدﷺ ہجرت کے بعد 17 ماہ تک اسی طرف رخ کرکے نماز پڑھاتے رہے۔ جب آپﷺ معراج کے لیے گئے تو معراج پر جانے سے قبل اسی شہر میں واقعہ مسجد اقصیٰ میں آپﷺ نے تمام انبیاءعلیہم السلام کی امامت کروائی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اور مسیحی ایک ہزار سالوں تک اس شہر پر قبضہ کے لیے برسر پکار رہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق 7 ہزار سال قبل بھی بیت المقدس میں انسانی آبادی موجود تھی۔ اس طرح یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

 یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ یہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی، یہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی یہاں پر موجود مغربی دیوار یہودیوں کی اہم مذہبی یادگار ہے جسے دیوارِ گریہ بھی کہا جاتا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ بچا ہوا حصہ ہے۔

 عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش یعنی بیت الحم یہی واقعہ ہے۔ عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہی مصلوب کیا گیا اور اسی شہر میں ان کا سب سے مقدس کلیسا Church of Holy Sepulchre واقعہ ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ کہ…

  ایک ہزار سال قبل مسیح حضرت داﺅد علیہ السلام نے یہ شہر فتح کرکے اسے اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا تھا۔ انہوں نے 33 سال تک اس شہر پر حکومت کی۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں ایک معبد تعمیر کروایا جسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔ ہیکل سلیمانی میں تابوت سکینہ رکھا گیا۔ تابوت سکینہ ایک صندوق کا نام ہے جو شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا ہے اس صندوق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، ان کی جوتیاں، حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی، توریت کی تختیوں کے چند ٹکڑے، کچھ من و سلویٰ اور انبیاءعلیہم السلام کی کچھ دیگر نشانیاں موجود تھیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رہبام بن سلیمان کو تخت پر بیٹھے 5 سال ہی ہوئے تھے کہ مصر کے بادشاہ نے بیت المقدس کی جانب پیش قدمی کی اور بغیر کسی مزاحمت کے شہر میں داخل ہوگیا۔ وہ ہیکل سلیمانی اور عبادت کی تمام قیمتی اشیاءشاہی خزانوں کے ساتھ لوٹ کر لے گیا۔

٭ 640 قبل مسیح سے 700 قبل مسیح تک حکومت کرنے والے ہزکیہ نے اپنے دور میں ہیکل سلیمانی کی عظمت کو دوبارہ بحال کیا۔ یہودی قوم کی پہلی تباہی و بربادی بادشاہ بخت نصر (جسے کچھ لوگ شداد کے نام سے بھی جانتے ہیں) کے ہاتھوں 598 قبل مسیح میں ہوئی اس تباہی میں نہ صرف ہیکل سلیمانی کا نام و نشان مٹ گیا بلکہ دیگر صحائف کے ساتھ ساتھ توریت بھی غائب ہوگئی۔ بخت نصر کے اس حملے کے بعد تابوت سکینہ ایسا غائب ہوا کہ آج تک اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ 539 قبل مسیح میں ایران کے پہلے کسریٰ Cyrus The Great نے بابل کو فتح کیا تو اس نے یہودیوں کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ جب یہودی بیت المقدس واپس آئے تو انہوں نے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کیا۔ 63 قبل مسیح میں رومی جرنیل Pompey The Greatنے ہیکل سلیمانی کو ایک مرتبہ پھر تباہ و برباد کردیا لیکن چند ہی سال بعد Herod The Great کے دور میں ہیکل سلیمانی کو از سر نو تعمیر کروایا گیا۔ 70ءمیں جب رومی شہنشاہ Titus یروشلم شہر میں داخل ہوا تو اس کے فوجوں نے ہیکل سلیمانی کو جلا کر راکھ کر ڈالا اور یہودیوں کو چن چن کر مارا۔ 135ءمیں جب یروشلم کے یہودیوں نے رومن سلطنت کے خلاف بغاوت کی تب اس شہر کی زمین پر ہل چلا کر اسے ویران کردیا گیا اور یہاں بسنے والے اکثر یہودیوں کو غلاموں کی منڈی میں فروخت کردیا گیا۔ یہودیوں سے نفرت کی بناءپر رومن باشندوں نے ہیکل سلیمانی کی جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگا دیئے۔ رومن عہد میں ہیکل سلیمانی اور یہ شہر اسی طرح کئی صدیوں تک کوڑے اور غلاظت کے ڈھیروں میں ڈوبا رہا۔

٭ 638ءمیں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے رومن ایمپائر کو شکست دے کر بیت المقدس فتح کیا تو اس وقت یہاں یہودیوں کا کوئی معبد نہیں تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے یہاں ایک مسجد تعمیر ہوئی۔ یہی مسجد ”مسجد اقصیٰ“ کہلاتی ہے۔ اس سادہ سی مسجد کی تعمیر کے تقریباً 50 سال بعد اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے 691ءمیں مسجد اقصیٰ اور قبة الصخرة کی بنیاد اٹھائی۔ عربی میں قبة کا مطلب گنبد اور صخرة کا مطلب چٹان ہے۔ اسی لیے مسیحی اور یہودی قبة الصخرة کو Dome Of Rock کہتے ہیں۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت کے لیے یہ چٹان انتہائی تقدیسیت کی حامل ہے۔

٭ 1099ءمیں پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب صلیبیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہوگیا تو انہوں نے مسجد اقصیٰ میں بہت زیادہ ردوبدل کیا۔ مسجد کو ایک ہاسٹل کی شکل دے کر یہاں کئی کمرے بنالیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ ایک گرجا بھی تعمیر کرلیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے تقریباً 16 جنگیں لڑیں اور بالآخر 1187ءمیں سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصیٰ کو صلیبیوں سے پاک کردیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے چار مزید صلیبی جنگیں لڑی گئیں لیکن صلیبی بیت المقدس پر قبضے کا خواب کبھی پورا نہ کرسکے۔ 1229ءمیں مملوک حکمران الکامل نے بغیر لڑے بیت المقدس کو جرمنی کے بادشاہ Frederick دوم کے حوالے کردیا لیکن صرف 15 سال بعد 1244ءمیں سلطنت خوارزم نے یہ شہر دوبارہ فتح کرلیا۔ جس کے بعد اگلے 673ءسالوں تک یہ شہر مسلمانوں کے پاس رہا۔

٭ 1517ءمیں سلطنت عثمانیہ کے طاقتور سلطان سلیم اول نے بیت المقدس کو اپنی ریاست کا حصہ بنالیا۔ 1517ءسے لے کر 1917ءتک یہ شہر عثمانی سلطنت کا حصہ رہا۔ عثمانی سلاطین نے اس شہر میں بے شمار تعمیرات کیں۔ شہر کی گرد دیوار تعمیر کی، سڑکیں بنائیں اور ڈاک کا نظام قائم کیا۔ 1892ءمیں یہاں ریلوے لائن بھی بچھا دی گئی۔ عثمانی عہد میں بھی یہودیوں نے یہاں ایک آزاد یہودی ریاست کے قیام کی بہت کوششیں کیں البتہ سلطان عبدالحمید ثانی نے ان لوگوں کو ایسے کسی بھی اقدام سے باز رکھا یہاں تک کہ سلطان عبدالحمید ثانی کی معزولی اور جلاوطنی کے بعد بالآخر 11 دسمبر 1917ءکو برطانوی جرنیل Edmund Allenbyنے اس وقت کے کمزور عثمانیوں کو شکست دے کر بیت المقدس پر قبضہ کرلیا۔ تمام مغربی دنیا کے اخباروں نے اس فتح پر جشن منایا۔ جرنیل Allenby کے قبضے کے بعد یہ شہر تین دہائیوں تک برطانوی سلطنت میں شامل رہا اور اس دوران یہاں دنیا بھر سے یہودی لا لا کر بسائے گئے۔

٭ 29 نومبر 1947ءمیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا جس کے تحت نہ صرف فلسطین بلکہ بیت المقدس کے بھی دو حصے کردیئے گئے جن میں سے مشرقی حصہ فلسطینیوں جبکہ مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کردیا گیا۔ 14 مئی 1948ءکو مغربی فلسطین کے یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔ اس دھوکے بازی کے خلاف تمام عرب ممالک متحد ہوئے اور انہوں نے مل کر اسرائیل پر حملہ کیا لیکن انہیں اس جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد اگلے دو عشروں تک بیت المقدس کا مشرقی حصہ اردن کے پاس رہا لیکن 1967ءکی جنگ میں اسرائیل نے اس پر بھی قبضہ کرلیا۔ بین الاقوامی برادری آج تک اس قبضے کو غیر قانونی سمجھتی ہے۔ اسرائیل پارلیمان نے 1950ءہی سے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے لیکن دوسرے ملکوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے احترام میں بیت المقدس کی بجائے تل ابیب میں ہی اپنے سفارتخانے قائم کیے ہیں۔ عالمی برادری کے دباﺅ کے باوجود اسرائیل روز مرہ کی بنیادوں پر فلسطین کی زمین ہڑپ کرتا جارہا ہے۔ آئے روز نئی کالونیاں بسائی جاتی ہیں اور ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کردیئے جاتے ہیں۔ وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ آج ہمارے پاس سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے حکمرانوں کی جگہ کچھ ایسے حکمرانوں نے لے لی ہے جو صرف اپنی ذاتی دولت اور خزانوں میں اضافے کے طلبگار ہیں. ( بشکریہ مصنفین و مولفین اور رسائل و میگزین جنکی معاونت سے یہ کالم ممکن ہوا )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں