46

فلسطین میں انسانیت کا دکھ: بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ ،تحریررحمت عزیز خان

فلسطین میں جاری تنازعہ ایک المناک اور خطرناک بحران بنتا جارہا ہے جس نے لاتعداد معصوم جانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس خطے کی تاریخ کشمکش، مصائب و مشکلات اور سیاسی، مذہبی اور علاقائی تنازعات کے پیچیدہ جال سے عبارت ہے۔ اور فلسطین کے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتے جا رہے ہیں اس لیے یہ ضروری ہے کہ فلسطینی عوام کی موجودہ حالت زار اور اس سے پیدا ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع کو فی الفور روکا جائے۔
تاریخی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل-فلسطینی تنازعہ کی جڑیں 19ویں صدی کے اواخر سے ملتی ہیں جب فلسطین میں آکر یہودیوں نے رہائش اختیار کی تھی، اس وقت فلسطین سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا جب یہودیوں نے فلسطین پر قدم رکھا تو تشدد میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدفلسطین کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں 1948 میں یہود و نصاری کے تعاون سے ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس واقعہ کو نکبہ یعنی (تباہ) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس نکبہ نامی واقعے کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی شہید اور لاتعداد بے گھر ہوگئے۔
اس کے بعد کی دہائیوں میں بھی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگیں، علاقائی تنازعات، اور جاری تشدد کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے قبضے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی، جس سے بڑے پیمانے پرمظلوم فلسطینیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے۔
آج 2023ء میں فلسطین کی صورت حال انتہائی نازک اور خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ اسرائیل کے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بین الاقوامی سطح پربھی مذمت کا سامنا ہے جسے بہت سے لوگ اور ممالک انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں غزہ کے ایک اسپتال پر حالیہ بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف سمیت 800 سے زائد فلسطینی جانوں کا المناک نقصان ہوا اور اسرائیل کے اس حملے کو 2008 کے بعد سے سب سے مہلک فضائی حملوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، اور بہت سے لوگ اور ممالک اسے نسل کشی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔فلسطین میں ان دنوں صورتحال انتہائی سنگین ہے، غزہ کے رہائشیوں کو بھوک، غربت، خوراک اور پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے لیے تدفین کی جگہ کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ فلسطین میں انسانیت مصائب اور مشکلات کا شکار ہے۔
بین الاقوامی برادری کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور فلسطین اسرائیل تنازع کا حل تلاش کرے۔اس سلسلے میں یہ کہا جارہا ہے کہ بدقسمتی سے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کوششوں کو بھی ناکام بنا دیا گیا ہے، جنگ بندی کی قراردادوں کو ویٹو کا سامنا کرنا پڑا۔ حماس کے سربراہ نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے اقدامات کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، جس سے سفارتی کوششیں مزید دباؤ میں آ رہی ہیں۔اردن، مصر اور فلسطینی اتھارٹی نے ہسپتال پر بمباری کے ردعمل میں امریکی صدر سے طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔
پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے معصوم فلسطینیوں کی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان بہت سے دوسرے اسلامی ممالک کی طرح فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے اور فلسطین تنازعہ کے پائیدار حل کا مطالبہ کرتا ہے۔ فلسطینیوں پر انسان سوز مظالم کو روکنے کا مطالبہ محض بیان بازی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جس پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہئیے اور فوری کارروائی کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔
فلسطین کی موجودہ صورتحال پوری انسانیت کے لیے اور خصوصاً مسلمانوں کے ضمیر پر بدنما داغ ہے۔ فلسطینی مسلمانوں کی معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں اورفلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے انسانیت سوز مظالم ناقابلِ برداشت ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ متحد ہو کر اس بحران کو حل کرنے کے لیے بامعنی اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ فسلطینی مسلمانوں کی مزید جانیں ضائع ہو جائیں۔
٭رحمت عزیز خان چترالی اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں آپ کا اردو ناول ”کافرستان”، اردو سفرنامہ ”ہندوکش سے ہمالیہ تک”، افسانہ ”تلاش” اور خودنوشت ”چترال کہانی”، پھوپھوکان اقبال(بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں