30

شہر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئےمختلف پراجیکٹ پرجلد کام شروع کیا جائے گا

گلگت، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈیویلپمنٹ ) کیپٹن (ریٹائرڈ) مشتاق احمد نے سیکریٹری واٹر اینڈ پاور،چیف انجینیئر واٹر اینڈ پاور گلگت ڈویژن، اور ڈپٹی چیف (پاور) محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے ہمراہ گلگت شہر کے پاور پراجیکٹس کا دورہ کیا۔ ان منصوبوں میں 6 میگاواٹ کارگاہ، 3.2 میگاواٹ نومل اور 20 میگاواٹ ہینزل، 3.5 میگاواٹ بگروٹ اور 500 کلو واٹ چھمو گڑھ کے بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق موسم سرما میں بجلی کے لوڈ شیڈنگ سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت ترجیحی بنیادوں پہ اقدامات اٹھا رہی ہے اسی سلسلے میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ( ڈیویلپمنٹ) نے سیکریٹری واٹر اینڈ پاور،چیف انجینیئر واٹر اینڈ پاور گلگت ڈویژن اور ڈپٹی چیف( پاور) محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے ہمراہ گلگت شہر میں واقعہ پاور پراجیکٹس کا دورہ کیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری (ڈیویلپمنٹ) نے اس حوالے سے کہا کہ رواں مالی سال کے اندر 6 میگاواٹ کارگاہ اور 3.2 میگاواٹ نومل کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے۔ان منصوبوں سے گلگت شہر میں بجلی کی کمی نمایاں طور پر دور ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت شہر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے 20 میگاواٹ ہینزل پراجیکٹ کو 40 میگاواٹ تک اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ڈیویلپمنٹ) نے متعلقہ آفیسران کو واضح ہدایات دی کہ31 دسمبر 2023 تک ان منصوبوں پر سول ورک کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔حکومت گلگت بلتستان موسم سرما میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کے تدارک کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے،اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس ڈیڈ لائن سے زیادہ تاخیر کے نتیجے میں حکومت ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں