56

واقعات کا بڑھتا رجحان:تحریر امتیاز یٰسین

ذرائع مواصلات،پیاموں کے تبادلے میںجدید اسمارٹ اینڈرائیڈ موبائلز،کیمروں اور دیگر آلات نے کیمونیکیشن،معلومات کی ترسیل میں جدت اور تیزی کی سہولیات مہیا کر کے فاصلوں کو سمٹ کر گلوبل ویلج بنا دیا ہے ۔دوسری طرف ان آلات کے منفی استعمالات نے سماجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں مسائل کے انبار کھڑے کر رکھے ہیں ۔بلا شبہ ہر چیز کے دو رخ ہیں روشن و تاریک ۔موبائل کے متنوع بڑھتے استعمالات میں وہ منفی عناصر جنہوں نے سماجی و مذہبی زندگی کے وقار میں سب سے زیادہ بگاڑ پیدا کر رکھا ہے وہ ہے موبائل کو جنسی اسکینڈلز،جرائم کا آڈیو ،ویڈیو استعمال۔روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں جس میں کسی دوشیزہ یا کسی شہری کو آڈیو ویڈیوز کے ثبوتوں یا ڈیجیٹل ترمیم کے ذریعے حسب منشا مطالبہ کی تکمیل کیلئے بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ایسا مجرمانہ نوعیت کا مواد منفرد ذرائع سے حاصل اور پراسس کر لیا جاتا ہے۔ہر مرد و عورت کے ہاتھ میں ہمہ وقت انڈرائیڈ موبائل کی موجودگی نے اس عمل کو بہت حد تک آسان اور عام بنا رکھا ہے۔ پبلک مقامات ،سڑکات ،چوک چوراہے،شادی ہال، تعلیمی اداروں،ہوٹلوں ، بسوں کے اڈوں ، ریلوے اسٹیشن میٹنگز،جلسوں یا کسی بھی بیٹھک میں لگے کیمروں کی زد میں آیا کوئی بھی معیوب قول و فعل آپ کے لئے قانونی و سماجی مسائل پیدا کر کے پریشانی یا بلیک میلنگ کا موجب بن جاتا ہے ۔علاوہ ازیں نظر نہ آنے والے خفیہ کیمروں کی اتفاقی فلرٹ ریکارڈنگ سے گوناں گوں قسم کے سماجی مسائل ہنستے بستے گھرانوں کو تباہی کے دہانوں تک پہنچا رکھا ہے۔طلاق یا خلع کے بڑھتے واقعتات میں ایک بڑا کردار ان موبائلز کا منفی ریکارڈڈ مواد ہے۔ ایسے ادارے جہاں کو ایجوکیشن ہے یا کام میں مرد و زن کا اختلاط پایا جاتا ہے وہاں ویڈیوز یا آڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہو رہے۔خواتین سے زیادتی کے کچھ سانحات تومنظر عام پر آ جاتے ہیں جبکہ زیادہ تر اپنی عزت کے چھننے اور نیلام ہونے کے خوف سے صبرو شکیب، خاموشی اختیار کر کے بار بار اس عمل کے کربناک فعل سے گزرتی ہیں۔ کئی سادہ لوح شہری جو اس جدید ٹیکنالوجی سے اچھی طرح واقف نہیں ہوتے با آسانی ایسے پیشہ ور گینگ کے جال و دام میں پھنس کراپنی جان ،مال ریپ، عزت تک گنوا بیھٹتے ہیں ۔کئی خواتین اپنی عزتیں ایک بار نہیں بدفعات انہیں موبائلز کی بلیک میلنگ میں جنسی زیادتیوں کاشکار اور ساتھ ساتھ پیسوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا پھر تنگ آ کر خود کشی کی راہ اختیار کر لیتی ہیں ۔ موبائلز مواد اور کیمروں کے ذریعے بلیک میلنگ،ہراسانی بنیادی سطح سے لیکر اعلیٰ سطح پر ہے جس میں ویڈیوز اور آڈیوز لیک اور افشاء ہونے کے عام واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ حال ہی میں کراچی کے ایک نجی اسکول میں بلیک میلنگ کا واقعہ ہوا جس میں اسکول میں کیمروں کی تنصیب کے دوران فٹر نے کیمروں کو اپنے موبائل سافٹ ویئر سے اٹیچ کر لیا جس سے بہت سی قابل اعتراض ویڈیوز اس کے موبائل میں ایڈ ہوتی رہیں جو بعد ازاں سکول پرنسپل کو بلیک میلنگ کا موجب بنتی رہیں۔حال ہی میں لیہ کے دور دراز کے علاقہ لیہ کے تھانہ فتح پور میں ویڈیو بلیک میلنگ کا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور منفرد واقعہ پیش آیا۔علاقہ کے بد نا م زمانہ پنجو گینگ نے مبینہ طورپر اسکرپٹ اور منظر نگار کی ہدایات پرطے شدہ منصوبے کے تحت ایک دوشیزہ کی معاونت سے باتوں میں آئے عرفان نامی کسان کو قابل اعتراض حالت میں خفیہ طور پر ویڈیو بنا لی گئی۔پھر اسے بدیں سبب بلیک میل کر کے وقفہ وقفہ سے پندرہ لاکھ اینٹھ لئے گئے جبکہ دس لاکھ اور کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ بھانڈا پھوٹ گیا۔تھانہ فتح پور میں بدنام زمانہ پنجو گینگ جن کے خلاف شہریوں کو بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے کے الزامات پہلے سے چلے آ رہے ہیں کے ایک فرد سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سنگین فوجداری دفعات کے تحت مقدمہ کراس ورشن نمبر1105/23کا اندراج اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حال ہی میں ایسا ہی ایک واقعہ شریف نامی شہری کے ساتھ تھانہ فتح پور کے ملحقہ تھانہ بہل کے علاقہ میں بھی رپورٹ ہوا ۔علاقائی عوامی مطالبہ ہے کہ پنجو گینگ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اوپن انکوائری کروائی جائے تاکہ مذکورہ کیس کے علاوہ دیگر الزامات پر بھی تحقیقات کی جا سکیں۔حالات و واقعات متقاضی ہیں کہ سائبر کرائمز اور ویڈیو آڈیوز پر بلیک میلنگ،خرافات ؛سماجی بگاڑ قانون کو ہاتھ میں لینے پر سخت الیکشن لیا جائے۔شہریوں کو بلیک میل خوف وہراس کے واقعات پر کورٹ ٹرائل ،سخت سزائیں متعین کی جائیں ، سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔سائبر کرائمر اور سوشل میڈیا ہراسانی جرائم کے کنٹرول کے لئے خصوصی کاؤنٹر بنانے کی ضرورت ہے جس میں متاثرین کو بلا توقف سنا جائے ۔سائبر واقعات پر شہریوں خصوصاً خواتین کو اگاہی کے لئے سیمینار کا انعقاد کیا جائے ۔ ہراسگی
سے بچنے کیلئے شہری معاشرتی دباؤ ، خوف،ضبط او ربرداشت میں جانے کی بجائے بلیک میلنگ کے رستاخیز سانحات کو قانوں کے تحت فالو کریں۔بلاوجہ ناجائز ویڈیوز گرافی اور موڈیفائی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں